قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے احتجاج کے باوجود انتخابی اصلاحات کا بل 2017 منظور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی قومی اسمبلی نے انتخابی اصلاحات کا بل 2017 منظور کر لیا ہے، جس کے تحت قانونی طور پر نا اہل قرار دیا گیا کوئی بھی شخص سیاسی جماعت کا سربراہ بن سکتا ہے۔

بل کی منظوری کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف کے لیے دوبارہ پارٹی کا سربراہ بننے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

پیر کو اسلام آباد میں ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں حزب اختلاف کی شدید تنقید اور احتجاج کے باوجود مسلم لیگ نواز کی حکومت الیکشن بل 2017 منظور کرانے میں کامیاب ہو گئی۔

انتخابی اصلاحات کا مجوزہ بل سنہ 2017 تیار

’پارلیمانی کمیٹی کی انتخابی اصلاحات کالا قانون قرار‘

حزب اختلاف کو اس بل کی شق 203 پر سب سے زیادہ اختلاف تھا جس کے تحت وہ سیاستدان جنھیں قانونی طور پر کسی بھی حکومتی عہدے کے لیے نا اہل قرار دے دیا گیا ہو وہ کسی سیاسی جماعت کے سربراہ بن سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ سینیٹ میں انتخابی اصلاحات کا بل منظور کیا گیا تھا۔

سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر اعتزاز احسن نے ترمیم پیش کی کہ جو شخص اسمبلی کا رکن بننے کا اہل نہ ہو وہ پارٹی کا سربراہ بھی نہیں بن سکتا جس کے بعد بل پر ووٹنگ ہوئی۔ حکومت محض ایک ووٹ کے فرق سے الیکشن بل کی شق 203 میں ترمیم مسترد کرانے میں کامیابی ہو گئی تھی۔

قومی اسمبلی میں وزیر قانون زاہد حامد نے بل پیش کیا تو اپوزیشن جماعتوں نے اس کے خلاف نعرے بازی کی اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔

حزب اختلاف کے مطابق حکومت نے بل میں یہ ترمیم صرف سابق وزیر اعظم نواز شریف کے لیے کی ہے جنھیں اس سال جولائی میں سپریم کورٹ نے پاناما کیس کے حوالے سے جاری مقدمے میں نا اہل قرار دے دیا تھا۔

اس فیصلے کے بعد نواز شریف کو وزارت اعظمیٰ اور اپنی پارٹی پاکستان مسلم لیگ کی صدارت سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔

یاد رہے کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر (پی پی او) 2002 کے تحت ایسا کوئی شخص سیاسی جماعت کا عہدہ نہیں رکھ سکتا جو رکن قومی اسمبلی نہ ہو یا پھر اسے نا اہل قرار دیا گیا ہو۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کا جنرل باڈی اجلاس منگل کو اسلام آباد میں ہو رہا ہے۔ جس میں نواز شریف کو دوبارہ پارٹی صدر منتخب کیے جانے کا امکان ہے۔

اسی بارے میں