’افغان سرحد بند نہ ہو تو ٹماٹر کی قیمت کم ہو سکتی ہے‘

ٹماٹر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان میں ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافے کی کئی وجوہات پیش کی جا رہی ہیں

پاکستان میں تین ہفتے گزرنے کے بعد بھی ٹماٹر کی قیتمیں اعتدال پر نہیں آ سکی ہیں جو کہ غیر معمولی صورتحال ہے۔ اس سے عام خاندانوں کا بجٹ متاثر ہے جبکہ کئی ایک نے ٹماٹر کا استعمال کم کر دیا ہے۔

پاکستان کے مختلف شہروں کے مارکیٹ ذرائع کے مطابق سوموار کے روز پاکستان بھر کے شہروں میں ٹماٹروں کی قیمتیں 210روپے سے لے کر 300 روپے کلو تک تھیں۔ اس سے قبل ٹماٹر کی اتنی زیادہ قیمتیں کم ہی دیکھی گئیں ہیں۔

اسلام آباد سے خاتون خانہ نسرین آفتاب کا کہنا تھا: 'ہم دن میں زیادہ سے زیادہ 100 روپے کی سبزی استعمال کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔ اور ہمارے گھر میں چھ افراد کے ایک وقت کے کھانے (جس میں کبھی گوشت، مرغی، دال اور سبزی شامل ہو تےہیں) پر زیادہ سے زیادہ دو سے پانچ سو روپے خرچ آتا ہے۔ اس سے زیادہ ہم خرچ نہیں کرسکتے۔ ایسے میں 250روپے کلو ٹماٹر استعمال کرنا نا ممکن ہے۔'

٭ ’پاک افغان سرحد کی بندش سے کروڑوں روپے کے پھل اور سبزیاں ضائع‘

٭ یہ مسئلہ تو حل ہو گیا کہ آج کیا پکے گا

جبکہ ایک دوسری خاتونِ خانہ گل فشاں کا کہنا تھا کہ 'ٹماٹروں نے ہمارا سارا بجٹ متاثر کردیا ہے۔ اس کے استعمال سے کھانے میں ذائقہ آتا ہے اور اب اگر ٹماٹر استمال نہیں کرتے تو بچے کھانا نہیں کھاتے۔ اسی وجہ سے اپنے بجٹ کو متاثر کرتے ہوئے کم سے کم ٹماٹر استعمال کرتے ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'اس سے قبل ٹماٹر یا کسی بھی سبزی کی اتنے لمبے عرصے تک اتنی بڑھی ہوئی قیمتیں کم ہی دیکھی ہیں حکومت کو اس پر جلد از جلد قابو پانا چاہیے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption موسمی سبزیوں کے علاوہ ٹماٹر کا استعمال گوشت اور بہت سی دوسری چیزوں میں بھی ہوتا ہے

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹ کے صدر ملک سونی نے بتایا کہ ٹماٹر پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی سبزی ہے اور ایک اندازے کے مطابق روزانہ دو ہزار ٹن ٹماٹر استعمال کیاجاتاہے۔

ان کے مطابق بدقسمتی سے گذشتہ سیزن میں صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹھہ اور صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے درگئی میں ٹماٹر کی فصلیں بری طرح خراب ہوئی تھیں جبکہ ملک میں ہر سال اگست سے اکتوبر تک ٹماٹر کی ضرورت افغانستان سے پوری ہوتی تھی مگر اس سال سرحد پر غیر یقینی صورتحال اور کئی مرتبہ سرحد بند ہونے کی وجہ سے ٹماٹر کی سپلائی پوری نہ ہوئی جس وجہ سے ملک میں ٹماٹر کی قلت پائی جاتی ہے۔

ملک سونی کا کہنا تھا کہ 'پاکستان میں روزانہ ٹماٹر کے چالیس ٹن وزن کے پچاس ٹرالروں کی ضرورت ہے مگر افغانستان سے سوموار کے روز صرف 10 ٹرالرز ٹماٹر پہنچے۔ یہ وجہ بھی ہے کہ ہول سیل مارکیٹ میں 12 کلو ٹماٹر کے کارٹن کی قیمت 1300 سے لیکر 1600 سو روپے کلو تک پہنچ چکی ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'اگر افغانستان سے ٹماٹر کی بلاتعطل سپلائی شروع ہوجائے اور سرحد بند نہ ہو تو یہ قیمتیں کم ہو سکتی ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فصل میں تاخیر کو بھی قیمت میں اضافے کا باعث قرار دیا جا رہا ہے

گذشتہ 20 سال سے سبزیوں کی خرید و فروخت کے کاروبار سے منسلک میاں وقار نے بتایا کہ سوات بھی بڑی حد تک ٹماٹر کی طلب پورا کرتا ہے مگر رواں سال سوات میں ٹماٹر کا سیزن تاخیر کا شکار ہوا۔ ٹھٹہ اوردرگئی میں پہلے ہی ٹماٹر کی فصل خراب ہوئی اور افغانستان سے بارڈر کی بار بار بندش کی وجہ سے بھی ٹماٹر کی سپلائی ممکن نہ ہوسکی جس وجہ سے ملک میں ٹماٹر کی قلت پیدا ہوئی اور قیمیں زیادہ ہوئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا: 'سوات کا ٹماٹر آئندہ چند روز میں مارکیٹ میں آجائے گا مگر یہ ٹماٹر صرف خیبر پختوںخوا کی ضرورت پوری کرتا ہے جبکہ مکمل قلت کا خاتمہ کرنے کے لیے صوبہ بلوچستان اور صوبہ سندھ کی فصل کا انتظار کرنا ہوگا جو کہ دسمبر تک مارکیٹ میں آئے گی اور فی الحال پاکستان کو اپنی ضروت پورا کرنے کے لیے افغانستان پر انحصار کرنا پڑے گا جس کے لیے سرحد سے بلاتعطل سپلائی کو یقینی بنانا پڑے گا۔'

محکمہ زراعت صوبہ سندھ اور صوبہ خیبر پختوںخواہ کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ درگئی اور ٹھٹہ میں سال کی پہلی فصل موسمی تبدیلیوں کی بنا پر تباہ ہوئی تھی۔ تاہم ذرائع کا کہنا تھا کہ سوات میں ٹماٹر کی فصل موسمی وجوہات کی بنا پر تاخیر سے کاشت ہوئی اور تاخیر سے تیارہوئی اور امید کی جارہی ہے کہ آئندہ دو چار روز میں یہ فصل مارکیٹ میں پہنچ جائے گی۔

تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ سوات سے بھی ٹماٹر کی فصل مارکیٹ میں پہنچنے پر قیمتوں میں کمی کا امکان کم ہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں