وہ گاؤں جہاں والی بال کے ذکر سے لوگ خوف زدہ ہو جاتے ہیں

Image caption گاؤں شاہ حسن خیل میں لوگ اب والی بال نہیں کھیلتے

پاکستان میں ایک ایسا گاؤں بھی ہے جہاں والی بال کا کھیل دہشت کی علامت بن چکا ہے۔ یہ ذکر ہے شاہ حسن خیل کا جہاں آج سے ساڑھے سات سال پہلے والی بال میچ کے دوران خود کش حملہ کیا گیا تھا۔

جس کھیل پر علاقے کے لوگ جان چھڑکتے تھے اسے ترک کر دیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلعے لکی مروت کے گاؤں شاہ حسن خیل میں اب کوئی والی بال نہیں کھیلتا اور اس کی بظاہر کوئی خاص وجہ نہیں بتائی گئی۔

لکی مروت دھماکے کے تانے بانے

بعض لوگوں کے مطابق انھیں اس کھیل سے ہی نفرت ہو گئی ہے اور کسی کا کہنا ہے کہ اس کھیل سے ان کے زخم تازہ ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ ان کا جی نہیں چاہتا کہ والی بال کھیلیں یا دیکھیں اور وہ دوسرے کھیل جیسے کرکٹ وغیرہ دیکھتے ہیں۔

اِس دور دراز اور پسماندہ گاؤں کی آبادی ساڑھے چھ ہزار کے لگ بھگ ہے اور یہاں تقریباً پانچ سو مکانات ہیں۔

Image caption حکومت نام کی کوئی چیز شاہ حسن خیل میں نظر نہیں آتی

شاہ حسن خیل میں یکم جنوری 2010 کو مغرب سے پہلے گاؤں کے وسط میں والی بال کا میچ جاری تھا۔ گاؤں کے بڑے بوڑھے جوان اور بچے میچ دیکھ رہے تھے کہ اتنے میں بارود سے بھری گاڑی میدان کی جانب تیزی سے آئی۔ میدان کے بیچ میں جہاں نیٹ لگا تھا وہاں گاڑی کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔

اس دھماکے میں 110 افراد ہلاک ہو گئے تھے جس میں دونوں والی بال ٹیموں کے 20 کھلاڑی بھی شامل تھے۔

اس میدان اور اس کے قریب تباہ ہونے والے مکانات کا ملبہ آج بھی وہیں موجود ہے، اس میدان میں صرف ایک تبدیلی آئی ہے۔ جس جانب سے گاڑی میدان میں داخل ہوئی تھی اس جانب دیوار کھڑی کر دی گئی ہے ۔

یہ میدان اب ویران ہے۔ شاہ حسن خیل کے ناظم عبدالمالک کہتے ہیں کہ کہیں کہیں کچھ بچے کرکٹ کھیلتے ہیں لیکن اب اس گاؤں میں کوئی والی بال نہیں کھیلتا کیونکہ والی بال کا کھیل یہاں دہشت کی علامت بن چکا ہے۔

لکی مروت اور اس کے قریب واقع سینکڑوں چھوٹے بڑے دیہاتوں میں والی بال سب سے پسندیدہ کھیل رہا ہے۔ یہاں سے والی بال کے کھلاڑی قومی اور محکمانہ ٹیموں میں بھی کھیل چکے ہیں۔

اس حملے کا نشانہ والی بال کا کھیل تھا یا علاقے میں قائم ہونے والی امن کمیٹی کے خلاف رد عمل یا علاقے کے لوگوں کو سبق سکھانا تھا، یہ مکمل واضح نہیں ہے۔ اگر یہ تینوں اہداف تھے تو حملہ آور ان میں بظاہر کامیاب نظر آتے ہیں۔ علاقے میں نہ والی بال کا کھیل ہے، نہ امن کمیٹی اور لوگ اتنے خوفزدہ ہیں کہ اپنے حق کی بات کرنے سے بھی کتراتے ہیں۔

حکومت نام کی کوئی چیز یہاں نظر نہیں آتی۔ یہاں امن کمیٹی عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں قائم کی گئی تھی جس کے کچھ دنوں بعد حملہ ہوگیا تھا۔ سابق دور حکومت میں ان علاقوں کے لیے کچھ نہیں کیا گیا اور ناں ہی اب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے کچھ کیا ہے۔

ناظم عبدالمالک کہتے ہیں کہ حکومت کو چاہیے تھا کہ اس علاقے میں والی بال کا ایک بڑا میدان بنایا جاتا اور یہاں قومی سطح کے کھیل منعقد کیے جاتے تاکہ لوگوں کے دلوں سے خوف ختم ہوتا۔ لیکن ایسا کچھ نہیں کیا گیا بلکہ یہ علاقہ مزید پسماندہ ہوگیا ہے۔

اسی بارے میں