’اب خاتون افسر والا تصور بالکل ختم ہو جانا چاہیے، ایک حکومتی افسر بس افسر ہوتا ہے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’ایک حکومتی افسر بس افسر ہوتا ہے‘

پاکستان میں خواتین ہر شعبہ ہائے زندگی میں حصّہ لے رہی ہیں۔ یہاں تک کہ روایتی طور پر مردوں کا خاصہ سمجھے جانے والی پاکستان کی سول سروس میں بھی خواتین بھرپور شمولیت اختیار کر رہی ہیں۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں تعینات حکومتی افسران میں خواتین کی شرح بڑھ رہی ہے۔ پولیس کے ساتھ ساتھ پبلک ایڈمنسٹریشن کی طرف بھی خواتین کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ پبلک سروس کے اس شعبے میں دہائیوں سے مرد غالب رہے ہیں۔ ان کا روزمرّہ معاملہ بھی مردوں کے ساتھ ہی رہتا ہے۔

تاہم اب خواتین بھی یہ کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ حال ہی میں ڈاکٹر انعم علی خان کو تربیت مکمل کرنے کے بعد صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا میں اسسٹنٹ کمشنر کے طور پر تعیناتی ملی۔

٭ کیا خواتین رہنما عورتوں کی زندگی بہتر بنا سکیں؟

٭ کیا دیہی علاقوں میں صنفی تفریق کم ہوئی ہے؟

٭ ایسے تصورات جو روایات بدلیں گے

سرگودھا صوبہ پنجاب کی چند بڑی تحصیلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر کے طور پر ڈاکٹر انعم کی ذمہ داریوں کا دائرۂ کار کافی وسیع ہے۔ ایک طرف انھیں عدالت لگا کر زمینوں کے معاملات پر تنازعات سننے ہوتے ہیں اور اس بات کو یقینی بنانا ہوتا ہے کہ زمینوں کے ریکارڈ کا انتظام سنبھالنے والے ادارے درست کام کرتے رہے ہیں۔

دوسری طرف انھیں اس بات کو یقینی بنانا ہوتا ہے کہ شہر میں عوام کو روزمرہ استعمال کی اشیا صاف ستھری اور حکومت کے مقرر کردہ نرخوں پر مہیّا کی جا رہی ہیں۔ کسی حادثے یا واقعے کی صورت میں بھی وہ ضلعی حکومت کے لیے معلومات کی ترسیل کے لیے پہلا رابطہ ہوتی ہیں۔

وہ ان ذمہ داروں سے نہیں گھبراتیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت کا یہی وہ جذبہ ہے جس کے تحت وہ امریکہ میں اپنا میڈیکل کریئر چھوڑ کر پاکستان واپس آئیں اور سول سروس میں شمولیت اختیار کی۔

وہ کہتی ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی معاشرہ مردوں کا معاشرہ ہے۔ جس کی وجہ سے کام کرنے والی خواتین کو محتلف مسائل کا سامنا بھی ہوتا ہے تاہم وہ خود پبلک سروس میں صنفی امتیاز کی قائل نہیں ہیں۔

’اب خاتون (افسر) والا تصور بالکل ختم ہو جانا چاہیے۔ ایک حکومتی افسر بس افسر ہوتا ہے، لیڈی اسسٹنٹ کمشنر جیسا کچھ نہیں ہوتا، یہ محض اسسٹنٹ کمشنر ہے۔‘

Image caption ’اس کام میں فیلڈ کا بہت کام ہے۔ میں خود کو جتنا بے باک اور پر اعتماد سمجھتی تھی، اس سے کہیں زیادہ کا یہ نوکری تقاضا کرتی ہے‘

ڈاکٹر انعم تمام دن لوگوں کے مسائل سنتی ہیں جبکہ سائلین میں زیادہ مرد حضرات شامل ہوتے ہیں۔ جب وہ بازاروں میں کھانے پینے کی اشیا کے معیار کی جانچ پڑتال کے لیے نکلتی ہیں تو بھی ان کا واسطہ مردوں ہی سے پڑتا ہے۔

بعض اوقات انھیں ایسے واقعات کا سامنا بھی کرنا پڑا جہاں لوگ ایک عورت ہونے کے ناطے انھیں زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتے۔

’اس طرح کے بہت سے لوگ آتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ آپ کو کیا پتہ۔ میرے ذاتی تجربے سے ایسی چیزیں گزری ہیں جہاں لوگ کہتے ہیں کہ نہیں نہیں آپ ہمارا کام چھوڑیں، ہم اوپر سے کہیں سے کروا لیں گے۔‘

ایک خاتون ہوتے ہوئے انھیں اپنی بات منوانے کے لیے آواز کو قدرے اونچا اور با رعب رکھنا پڑتا ہے۔

’میں دفتری کام کرنے کی خواہش مند تھی مگر اس کام میں فیلڈ کا بہت کام ہے۔ میں خود کو جتنا بےباک اور پر اعتماد سمجھتی تھی، اس سے کہیں زیادہ کا یہ نوکری تقاضا کرتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا جہاں انھیں اپنے عملے کے افراد اور اعلیٰ افسران سے تعاون اور مدد ملتی ہے وہاں معاشرے میں کہیں نہ کہیں اخلاقی اقدار بھی کمزوری کا شکار ہیں جن کی وجہ سے کام کرنے والی خواتین مشکلات سے دوچار ہو سکتی ہیں۔

’ہمارے معاشرے میں چند نمایاں شخصیات جن کا تعلق شاید پولیس سے یا سول ایڈمنسٹریشن سے بھی ہو سکتا ہے، کہیں نہ کہیں ان کے اخلاقی تانے بانے کمزور ہیں۔ لوگ ردِ عمل کا اندازہ لگانے کے لیے ذو معنی جملے پھینکتے ہیں یا ایسی حرکتیں کرتے ہیں۔‘

تاہم ان کہ کہنا تھا کہ ایسی صورت حال میں وہ خواتین کو مشورہ دیں گی کہ وہ ایسے رویوں کو مکمل نظر انداز کریں۔

Image caption ڈاکٹر انعم کو بعض اوقات ایسے واقعات کا سامنا بھی کرنا پڑا جہاں لوگ خاتون ہونے کے ناطے انھیں زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتے

ایک اور پہلو بھی ہے جس کی وجہ سے مرد افسران اپنی ہم کار خواتین افسران پر صرف اس لیے سبقت لے جاتے ہیں کہ وہ زیادہ کھل کر افسرانِ بالا کے ساتھ میل جول کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر انعم کا کہنا تھا کہ مثال کے طور پر ہمارے معاشرے میں خواتین اپنے مرد افسران کے ساتھ کلب جا کر ٹینس نہیں کھیل سکتیں یا رات گئے تک کسی دعوت پر ان کے ساتھ گپ شپ میں شامل نہیں ہو سکتیں۔

’جبکہ مرد افسران ایسا آرام سے کر سکتے ہیں اس طرح وہ افسرانِ بالا کے ساتھ اچھا پیشہ ورانہ تعلق قائم کر لیتے ہیں۔ اب یہ افسرانِ بالا جب کہیں دوسری جگہ جاتے ہیں تو وہ انھی مرد افسران کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید وہ زیادہ محنتی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے لیے ایسا اسی وقت ممکن ہو پائے گا جب زیادہ خواتین افسران سامنے آئیں گی اور آ رہی ہیں۔ تاہم ایسا ماحول بننے میں شاید ایک دہائی اور لگ جائے جب نئی آنے والی خواتین اپنی خواتین افسران کے ساتھ پیشہ ورانہ تعلقات اسی آسانی سے قائم کر سکیں جس طرح مرد کرتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں