کراچی میں تیز دھار آلے سے مزید چار خواتین پر حملے

پولیس تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تفتیشی اہلکار اور ڈاکٹروں کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار ہوتا ہے اور تیز دھار آلے سے خواتین کو نشانہ بناتا ہے

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں تیز دھار آلے سے خواتین پر حملوں کے چار نئے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں ایک 15 سالہ بچی سمیت تین خواتین زخمی ہوئی ہیں۔

نشانہ بننے والی خواتین کی عمریں 15 سے 30 سال کے درمیان ہیں۔

ایس پی گلشن غلام مرتضیٰ بھٹو نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک کے واقعات میں آٹھ ایف آئی آر درج ہوچکی ہیں اور اب تک چھریوں سے زخمی ہونے والی خواتین کی تعداد 12 ہوچکی ہےـ

ان وارداتوں کی ابتدا گلستانِ جوہر سے ستمبر میں ہوئی تھی جن میں چھ خواتین پر حملے کے واقعات سامنے آئے۔ چھ میں سے تین کی ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے، لیکن حملہ آور اب تک پولیس کی گرفت سے باہر ہے۔

چار اکتوبر کو پیش آنے والے چار واقعات میں سے دو گلشنِ اقبال کے عزیز بھٹی تھانے کی حدود میں ہوئے اور باقی دو گلستانِ جوہر اور گلشنِ جمال میں پیش آئےـ اب تک کی ایف آئی آر میں خواتین سے لیے گئے بیان کے مطابق حملہ آور کالی شرٹ اور کالی پینٹ میں ملبوس تھا جس کا چہرہ سر پر ہیلمٹ ہونے کے باعث نہیں دیکھا جا سکاـ

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حملہ آور پیچھے سے وار کرتا ہے تاکہ بھاگنے کا راستہ مل سکے اور پہچانا نہ جا سکےـ

تفتیشی اہلکار اور ڈاکٹروں کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار ہوتا ہے اور تیز دھار آلے سے خواتین کو نشانہ بناتا ہے جس کا مقصد اُن کا قتل کرنا نہیں بلکہ اُن میں خوف پھیلانا ہےـ

جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر سے منسلک سیمی جمالی نے عزیز بھٹی پارک میں حملے سے زخمی ہونے والی 15 سالہ بچی کے بارے میں بات کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ’ان کو رات میں لایا گیا تھاـ اُن کو معمولی زخم آئے ہیں جو کہ ایک تیز دھار آلے کا وار لگتا ہے‘ـ

’یہ پہلا کیس ہمارے ہسپتال لایا گیا ہے، لیکن اب تک کی کارروائیوں میں سامنے آنے والے شواہد سے لگتا ہے کہ حملہ آور کا مقصد کسی کو قتل کرنا نہیں بلکہ خواتین میں خوف و ہراس پھیلانا ہے‘ـ

انھوں نے کہا کہ زخمی ہونے والی بچی لائبہ نے حملہ آور کو نہیں دیکھا اور زخم کا احساس انھیں خون نکلنے پر ہواـ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ان حملوں کی بارے میں ایس پی گلشن غلام مرتضی بھٹو کا خیال ہے کہ میڈیا معاملے کو زیادہ ہوا دے رہا ہے

سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے حملہ آور کے سر کی قیمت پانچ لاکھ رکھی ہے۔ ڈی آئی جی ایسٹ سلطان علی خواجہ نے صحافیوں کو بتایا کہ حملہ آور سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری گلستانِ جوہر کے گرد تعینات کی گئی ہے تاکہ موٹر سائیکل پر سوار حملہ آور کو پکڑا جا سکےـ

ڈی آئی جی کے بیان کے بعد چار اکتوبر کی شب چار واقعات پیش آئے، جن میں جمعرات کی دوپہر تک مزید دو واقعات کی رپورٹ شارع فیصل تھانے میں درج ہوئی۔

ان حملوں کے بارے میں ایس پی گلشن غلام مرتضیٰ بھٹو کا خیال ہے کہ میڈیا معاملے کو زیادہ ہوا دے رہا ہےـ

’اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ اس شخص نے شروع کے ایک ہفتے میں چھ حملے کیےـ اور میڈیا پر بار بار تجزیوں کے بعد ان واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جو جمعرات کی شب یکے بعد دیگر چھ واقعات سامنے آنے سے لگایا جاسکتا ہےـ‘

جمعرات کی صبح انسپکٹر جنرل سندھ اللہ ڈنو خواجہ نے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پولیس افسران کو حملہ آور کو جلد از جلد پکڑنے کا حکم جاری کیاـ

ایڈشنل انسپکٹر جنرل کراچی مشتاق مہر نے کہا کہ ’میں اس وقت راولپنڈی اور ساہیوال میں ہونے والے واقعات کی معلومات حاصل کر رہا ہوں، اس معاملے میں بہت جلد ایک اہم گرفتاری سامنے آئے گی‘۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں