لاپتہ ترک خاندان کو ملک سے باہر بھیجنے پر پابندی عائد

ترک سکول تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اسلام آباد ہائی کورٹ نے گذشتہ دنوں لاہور سے لاپتہ ہونے والے ترک خاندان کو ملک سے باہر بھیجنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

ہائی کورٹ کے جج میاں گل حسن اورنگزیب نے ایک پٹیشن پر اپنے فیصلے میں وفاقی حکومت پر ترکی کے ان شہریوں کو ملک سے باہر یا ترکی واپس بھیجنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق ترک شہری احمد کیستر کی جانب سے دائر اس پٹیشن میں گمشدہ افراد کو ہراساں کرنے سے باز رکھنے کی درخواست کی گئی تھی۔

صوبہ پنجاب کے شہر لاہور سے گذشتہ دنوں مبینہ طور پر اغوا ہونے والے ایک ترک خاندان کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل پایا ہے اور اس واقعے سے خوفزدہ ہونے والے ان کے دیگر ساتھی ترک باشندوں نے پاکستانی حکومت اور عوام سے مدد کی اپیل کر رکھی ہے۔

خیال رہے کہ یہ افراد پاکستان ترک تعلیمی اداروں میں فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

ان کے وکیل محمد علیم خان عباسی نے عدالت سے استدعا کی کہ اگر انھیں ترکی واپس بھیجا جاتا ہے تو وہاں کی حکومت ان کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے۔

انھوں نے مزید موقف اپنایا ہے کہ ان کے ویزے حکومت پاکستان نے بغیر کوئی وجہ بتائے منسوخ کر دیے ہیں۔

اس کے بعد متاثرہ افراد نے اقوام متحدہ سے سیاسی پناہ کے لیے رابطہ کیا تھا جس نے انھیں 25 نومبر 2017 تک سیاسی پناہ کا سرٹیفیکیٹ جاری کیا تھا۔

عدالت نے معاونت کے لیے جمال عزیز اور محمد اویس انور کو بھی مقرر کیا اور مقدمے کا ریکارڈ ان کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ بھی ترکی کے شہریوں کو ملک بدر کرنے سے منع کر چکی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں