شدت پسندی کا الزام، وفاقی وزیر سمیت حکومتی اراکین پارلیمان کا واک آؤٹ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption قومی اسمبلی نے الیکشن ترمیمی بل 2017 میں ختم نبوت سے متعلق شق دوبارہ بحال کرنے کی متفقہ طور ہر منظوری دے دی ہے

پاکستان کے ایک وفاقی وزیر نے انٹیلیجنس بیورو کے اس الزام پر کہ 37 پارلیمنٹرینز کے شدت پسند تنظیموں کے ساتھ تعلقات ہیں شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کی فہرستیں ارکان پارلیمنٹ کو نیچا دکھانے کے لیے لائی جاتی ہیں۔

جمعرات کو قومی اسبملی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے بین صوبائی ہم آہنگی ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ بدقسمتی سے اس فہرست کے منظر عام پر آنے کے بعد حکومت نے اس طرح کی کارروائی نہیں کی جیسی کی جانی چاہیے تھی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ریاض حسین پیرزادہ کا کہنا تھا کہ انٹیلیجنس بیورو کی طرف سے اس مبینہ فہرست پر پیمرا کو لکھا جانے والا خط کافی نہیں ہے بلکہ اس بارے میں تحقیقات ہونی چاہییں کہ اس فہرست کو سامنے لانے کے ذمہ داران کون ہیں۔

دوسری جانب انٹیلیجنس بیورو نے ارکانِ پارلیمان کے شدت پسند تنظیموں سے مبینہ رابطوں کے حوالے سے کسی بھی فہرست سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان: کالعدم تنظیموں کی چندہ مہم کا ’دوبارہ آغاز‘

کالعدم تنظیموں کے دعوے کتنے حقیقی؟

ریاض حسین پیرزادہ نے اس فہرست پر احتجاج کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ بھی کیا۔ بائیکات میں ان کے ساتھ حکمراں جماعت سے ہی تعلق رکھنے والے وہ ارکان قومی اسمبلی بھی شامل تھے جن کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔

یاد رہے کہ شدت پسندوں کے ساتھ تعلقات پر مبنی اس مبینہ فہرست میں جن ارکان پارلیمنٹ کے نام شامل ہیں ان میں سے زیادہ تر کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔

بعد میں وزیر دفاع خرم دستگیر اور ڈاکٹر طارق فضل سمیت کچھ ارکان ریاض حسین پیرزادہ اور دوسرے ناراض ارکان اسمبلی کو منا کر ایوان میں واپس لے آئے۔

اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پہلی دفعہ دیکھا ہے کہ ایک وفاقی وزیر اپنی ہی حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آوٹ کر کے گئے ہیں۔

دوسری طرف قومی اسمبلی نے الیکشن ترمیمی بل 2017 میں ختم نبوت سے متعلق شق دوبارہ بحال کرنے کی متفقہ طور ہر منظوری دے دی ہے۔

بل میں تبدیلی کی تحریک ایوان میں وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے پیش کی جس میں اقرار نامے اور حلف نامے میں شامل شقیں مرحلہ وار متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔

اس موقع پر وزیر قانون نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل حکومتی نہیں بلکہ پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ پر مبنی تھا۔ ’یہ بل تین سال کی محنت کا نتیجہ تھا، ہم نے تاریخی بل پاس کیا تھا جس میں اب ترمیم کر رہے ہیں‘۔

وزیر قانون نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں سے ملاقات میں اسے اصل حالت میں بحال کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔

’اس لیے جو بھی کاغذات نامزدگی میں ڈکلیئریشن تھا اسے اصل حالت میں بحال کر رہے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں نے اس مسئلے کو محسوس کیا۔‘

زاہد حامد نے مزید کہا کہ یہ پارلیمانی کمیٹی کا مشترکہ عمل تھا، جس کی رپورٹ ایوان میں پیش ہوئی تھی اور پہلے اسے نوٹ نہیں کیا گیا۔

’سینیٹ میں اسے نوٹ کیا گیا جہاں اسے بحال نہ کرا سکے لیکن تمام قائدین نے اس میں تعاون کیا جس پر سب کو مبارکباد اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔‘

انتخابی اصلاحات کے بل میں ختم نبوت سے متعلق حلفیہ بیان میں تبدیلی کے معاملے پر سیاسی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا جس پر حکومت نے اسے فوری طور پر بحال کرنے کا اعلان کر دیا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے تو یہ اعلان بھی کیا کہ انتخابی اصلاحات بل 2017 کی وجہ سے ختمِ نبوت کے حلف نامے سے متعلق شقوں میں تبدیلی کرنے کے ذمہ دار کو برطرف کردیا جائے گا۔

اسی بارے میں