نظام عدل کو آزمائیں گے: مریم نواز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مریم نواز کے لیے یہ دوسرا موقع ہو گا جب وہ عدالت کے سامنے پیش ہوں گی

'نظام عدل کو آزمائیں گے' یہ الفاظ پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے لندن سے پاکستان روانہ ہوتے ہوئے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہے تھے۔

’مریم نواز ہوشیار ہیں‘

مریم کی سکیورٹی وزیر اعظم سے بھی زیادہ

ایک بار پھر ذکر کیلبری فونٹ کا

پاکستان کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم کو عدالت میں دوسری پیشی کے بعد حاضری سے مستثنٰی قرار نہیں دیا تھا اور ان کے بیٹوں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے تاہم ان کی بیٹی اور داماد کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کیے گئے۔

مریم نواز کے لیے یہ دوسرا موقع ہو گا جب وہ عدالت کے سامنے پیش ہوں گی۔

اس سے پہلے وہ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئیں تھیں جبکہ اس بار وہ اسی کیس میں عدالت عظمیٰ میں کمیشن کی رپورٹ کے بعد نیب عدالتوں میں ریفرنسز دائر ہونے کے بعد پیش ہو رہی ہیں۔

سابق وزیراعظم کے تین ادوار میں آخری دورِ حکومت میں پہلا موقع تھا جب ان کے کسی بچے نے سیاست اور حکومتی امور میں حصہ لینا شروع کیا۔ لیکن دونوں بیٹوں کے برعکس ان کی بیٹی سیاسی معاملات میں زیادہ فعال دکھائی دیں۔

اس کا آغاز سوشل میڈیا کی ٹوئٹس، جلسوں میں شرکت اور بالخصوص یوتھ لون پروگرام سے ہوا۔

یہ اندازے غلط بھی نہیں تھے کہ وہ 2018 کے عام انتخابات میں حصہ لے کر کسی اہم ملکی عہدے کی حامل بن سکتی ہیں لیکن 28 جولائی کے عدالتی فیصلے میں یہ جب یہ کہا گیا کہ مریم نواز کے خلاف جعلسازی کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے تو مریم نواز کے لیے سیاست کے راستے والد کی نااہلی کے ساتھ ہی بند ہوتے دکھائی دیے۔

ایک طرف وہ این اے 120 میں والدہ کی بیماری کی وجہ سے ان کی جگہ انتخابی مہم چلا رہی تھیں اور دوسری جانب عدالتوں میں ان کے خلاف ریفرنسز دائر کیے جا رہے تھے۔

مریم نواز نے ٹوئٹر پر اپنے ملک واپس پہنچنے کی تو کوئی اپ ڈیٹ نہیں دی اور نہ ہی کل عدالت میں پیشی کے بارے میں کچھ کہا ہے تاہم جب ان سے نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر نے یہ پوچھا کہ ان کے دونوں بھائی بھی وطن واپس آئیں گے تو مریم نواز نے مختصراً کہا کہ 'حسن اور حسین اپنا فیصلہ خود آپ کو بتائیں گے۔'

جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مریم نواز نے کہا تھا کہ ’چھ ماہ سپریم کورٹ میں کیس چلا کچھ نہیں نکلا۔ جے آئی ٹی میں آ کر مجھے احساس ہوا کے ان کے پاس بھی کچھ نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں