کوئٹہ میں چرچ پر گرینیڈ حملہ، کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی

Image caption کوئٹہ شہر میں طویل عرصے بعد کسی چرچ پر اس نوعیت کا حملہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں واقع ایک چرچ پر دستی بم سے حملے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے تاہم اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

سریاب پولیس سٹیشن کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ نواب خیر بخش مری سٹریٹ پر واقع چرچ ایس جے آئی پر ہونے والے دستی بم حملے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے۔

اہلکار نے بتایا کہ اس حملے کے حوالے سے تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

ہمارے نامہ نگار محمد کاظم نے بتایا کہ اس علاقے میں واقع چرچ پر نامعلوم افراد نے گذشتہ شب دستی بم سے حملہ کیا تھا۔ پولیس اہلکار کے مطابق دو نامعلوم افراد موٹر سائیکل پر آئے اور انھوں نے چرچ پر دستی بم پھینکا۔

دستی بم چرچ کے صحن میں گرا۔

اہلکار نے بتایا کہ صحن میں کوئی موجود نہیں تھا جس کے باعث اس حملے میں جانی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم چرچ کے صحن کی دیواروں پردھماکہ خیز مواد کے ٹکڑے لگنے سے نشانات پڑ گئے۔

دھماکے کے باعث علاقے کے مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

Image caption حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا

دھماکے کے بعد پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز کی ایک بھاری نفری جائے وقوع پرپہنچ گئی۔

اس دھماکے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکے اور نہ ہی تاحال کسی نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

کوئٹہ شہر میں طویل عرصے بعد کسی چرچ پر اس نوعیت کا حملہ کیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں