’نیب بنام نواز شریف حاضر ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دی

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں نیب کے مقدمات کی سماعت کے لیے جاری کی گئی کاز لسٹ میں سب سے پہلا مقدمہ نواز شریف اور ان کے بچوں کا تھا۔

پاکستانی وقت کے مطابق صبح پونے نو بجے کے قریب احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کمرہ عدالت میں پہنچے تو عدالتی اہلمد نے آواز لگائی کہ ’نیب بنام نواز شریف حاضر ہوں۔‘

پانچ منٹ کے بعد عدالتی اہلمد نے دوبارہ یہی فقرہ بلند آواز میں کہا۔

نواز شریف اور عدالتیں

’ہمارے لیے نیب وفات پا گیا‘

اس آواز کے لگنے کے پندرہ منٹ تک کوئی بھی ملزم عدالت میں پیش نہ ہوا اور پھر کچھ دیر کے بعد مریم نواز وہاں پہنچیں تو احاطہ عدالت میں دو وفاقی وزرا ان کے استقبال کے لیے پہلے سے ہی موجود تھے جو اُنھیں پرٹوکول کے ساتھ کمرہ عدالت میں لے کر پہنچے۔

کمرہ عدالت میں پہنچتے ہی ’ملزمہ‘ کے لیے پہلے ہی جگہ مختص کردی گئی تھی۔ عدالتی کارروائی شروع ہوتے ہی عدالت نے مریم نواز کی حاضری لگائی اور اُنھیں آئندہ سماعت پر اپنی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے50 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دی تو نیب کے پراسیکیوٹرز نے اعتراض اُٹھایا کہ ملزمان کی جانب سے ایسے ہتکھنڈے عدالتی کارروائی میں خلل ڈالنے اور مقدمے کو طوالت دینے کے مترادف ہیں۔ فاضل عدالت کا کہنا تھا کہ پہلے ان کا موقف تو سامنے آئے اس کے بعد اعتراض اُٹھائیے گا۔

سماعت کے دوران مریم نواز کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا تو نیب کے اہلکاروں کے چہروں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ تھی اور اُنھوں نے آکر عدالت کو بتایا ’مائی لارڈ عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ملزم کو پکڑ کر عدالت میں لےآئے ہیں۔‘

نیب کے حکام شاید دل میں یہ خواہش رکھتے تھے کہ عدالت ان کے اس اقدام کی تعریف کرے گی لیکن ایسا نہیں ہوا اور عدالت نے محض اسی بات پر اکتفا کیا کہ قانون کی پابندی سب پر لازم ہے۔

نیب کے حکام نے ملزم کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے اور ان کا پاسپورٹ ضبط کروانے کے لیے عدالت سے بارہا استدعا کی لیکن عدالت نے ان کی یہ استدعا مسترد کردی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مریم نواز کا کہنا تھا کہ بعض لوگوں کو عدالتوں نے اشتہاری قرار دیا ہوا ہے لیکن وہ سیاسی جلسوں سے خطاب کررہے ہیں

کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو جب عدالت میں لایا جارہا تھا تو ان کے ساتھ پنجاب پولیس کے اہلکار بھی موجود تھے جو اسلحہ سمیت کمرہ عدالت میں جانا چاہتے تھے تاہم وہاں پر تعینات اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں نے اُنھیں زبردستی روکا جس پر پنجاب پولیس اور اسلام آباد کے اہلکاروں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

سماعت کے بعد کمرہ عدالت کے باہر مریم نواز نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران سابق فوجی صدر پرویز مشرف اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا نام لیے بغیر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’بعض لوگوں کو عدالتوں نے اشتہاری قرار دیا ہوا ہے لیکن اس کے باوجود وہ نہ صرف عدالتوں میں پیش نہیں ہو رہے بلکہ سیاسی جلسوں سے خطاب بھی کررہے ہیں۔‘

جوڈیشل کمپلکس میں موجود وکلا کی جانب سے آج ایک نیا نعرہ سامنے آیا ’یہ جو کالا کوٹ ہے نواز شریف تیرا ووٹ ہے‘۔ یقینی طور پر یہ وکلا حکمراں جماعت کے حامی ہی ہوں گے۔

اس سے پہلے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں وکلا یہ نعرے بھی لگاتے رہے کہ ’کالا کوٹ کالی ٹائی مشرف تیری شامت آئی‘ جبکہ جسٹس افتخار محمد چوہدری اورعدلیہ بحالی کی تحریک میں وکلا کا یہ نعرہ تھا کہ ’چیف تیرے جانثار بے شمار بے شمار۔‘

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے اس مرتبہ احتساب عدالت کے باہر رینجرز کی جگہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکاروں کو تعینات کیا جبکہ جوڈیشل کمپلکس کے مرکزی دروازے اور اس کے احاطے میں اسلام آباد پولیس کے اہلکار تعینات تھے۔

داخلہ امور کے وزیر مملکت طلال چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ دو اکتوبر کو احتساب عدالت کے باہر واقعے سے متعلق رینجرز کے حکام پیر کے روز اپنا وضاحتی بیان جاری کریں گے۔

اسی بارے میں