’اسحاق ڈار کا وزیر خزانہ ہونا نقصان دہ ہے‘

اسحاق ڈار تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسحاق ڈار پر آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کے مقدمے میں فرد جرم عائد کی گئی ہے

'پاکستان کی معیشت میں اتنی سکت نہیں ہے کہ وہ خود سے قرض ادا کر سکے ایک قرض اتارنے کے لیے دوسرا قرض لینا پڑے گا'

یہ کہنا ہے کہ اقتصادی ماہر اے بی شاہد کا جن کے بقول حکومتی عدم توجہی اور غلط عادات کی وجہ سے معیشت اس نہج پر پہنچی ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب بیرون ملک سے حاصل ہونے والی آمدن جیسے برآمدت اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی رقوم میں کمی آ رہی ہے اور خسارہ بڑھ رہا ہے تو نہ صرف بین الاقوامی مالیاتی ادارے بلکہ اقتصادی ماہرین بھی موجودہ صورتحال پر تشویش کا شکار ہیں۔

'پاکستانی معیشت کو اب بحران کے خدشے کا سامنا نہیں'

معیشت کی ڈوبتی کشتی سنبھل گئی ہے: اسحاق ڈار کا دعویٰ

اقتصادی ترقی کا ہدف پورا نہیں ہو سکتا: سٹیٹ بینک

مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران پاکستان کی برآمدات ساڑھے تین ارب ڈالر اور درآمدات نو ارب 78 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ جولائی اور اگست میں مجموعی تجارتی خسارہ چھ ارب ڈالر سے بڑھ گیا ہے جو گذشتہ سال سے 33 فیصد زیادہ ہے۔

سٹیٹ بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب ڈالر کی سطح سے بھی نیچے آ گئے ہیں۔ سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی رقوم میں بھی کمی آ رہی ہے۔ ان تمام عدم توازن سے مجموعی خسارہ بڑھ رہا ہے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دو ارب 60 کروڑ ڈالر ہو گیا۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اس بات کی نشاہدہی کرتی ہے کہ پاکستان کے اخراجات زیادہ ہیں اور آمدن کم۔ اسی لیے قرض لے کر گزارہ ہو رہا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان سالانہ پانچ سے چھ ارب ڈالر قرض کی ادائیگی کی مد میں ادا کرتا ہے۔ قرضوں کی ادائیگی کے لیے اُسے غیر ملکی کرنسی یعنی ڈالر چاہیے ہوتے ہیں، باہر سے آنے والے ڈالر اتنے ہی ہیں کہ بیرون ملک سے خریداری بھی کر سکیں اور قرض بھی ادا کریں۔

جس معیشت کے نگران خود ہی مختلف مقدمات کی زد میں ہوں تو پھر معیشت کا پہیہ خود بخود چلنے کے بجائے اٹک اٹک کر رکنا شروع ہو جاتا ہے۔

پاناما کے شور شرابے میں جب یکم جولائی کو نئے مالی سال کا آغاز ہوا تو پاناما لیکس کی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں نواز شریف تو نااہل قرار دیے جانے کے بعد گھر چلے گئے لیکن اسحاق ڈار تاحال وزارتِ خزانہ کا قلمدان سنبھالے ہوئے ہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی بذات خود اسحاق ڈار کو مستعفیٰ ہونے کی تجویز دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

متعدد بار وزارتِ خزانہ کی باگ دوڑ سنبھالنے والے وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کے مقدمے میں فرد جرم عائد کی گئی ہے گو کہ وہ صحتِ جرم سے انکار کرتے ہیں لیکن نیب کی عدالت میں اُن کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہے۔

اے بی شاہد کا کہنا ہے کہ 'جس ملک کے وزیر خزانہ پر خود فردِ جرم عائد ہو، الزامات کا سامنا ہو وہ کیسے بین الاقوامی اداروں کے سامنے پاکستان کی نمائندگی کر سکتا ہے۔ ڈار صاحب کا وزیر خزانہ ہونا پاکستان کے لیے نقصان دہ ہے۔'

یاد رہے کہ عالمی بینک نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں پاکستان کے مالیاتی عدم استحکام پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

اقتصادی ماہر خرم شہزاد کے مطابق اگر مالیاتی عدم استحکام ایسے ہی برقرار رہا اور تجارتی خسارہ بڑھتا رہا، تو روپے کی قدر میں کم ہو سکتی ہے، جس سے مہنگائی بڑھے گی اور شرح سود میں اضافہ ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ 'ان حالات میں سرمایہ کاری عدم اعتماد کا شکار ہیں اور ایسے میں حکومت کی جانب سے کوئی حکمتِ عملی سامنے نہیں آ رہی۔ اقتصادی مینجر کی جانب سے بہت خاموشی ہے۔'

ناقدین کا کہنا ہے کہ حالیہ کچھ عرصے وزیر خزانہ اسحاق ڈار ترجیح اقتصادی امور پر کم رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ معیشت کے ڈھانچے میں اصلاحات نہیں ہوئی ہیں۔ برآمدات میں اضافہ ہوا اور نہ ہی درآمدت میں کمی، ٹیکسوں کا دائرہ کار بھی بڑھانے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں ہوئے۔

کیا پاکستان ایک اور آئی ایم ایف پلان کی جانب بڑھ رہا ہے؟ اس سوال کے جواب میں اقتصادی ماہر اے بی شاہد نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال میں آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ کوئی اور حل نہیں ہے۔

اُن کے خیال میں 'جو حالات ہیں اُن کے مطابق دسمبر تک آئی ایم ایف سے قرض لینے کے لیے ایک اور پروگرام کے لیے مذاکرات کرنے پڑیں گے۔'

متعلقہ عنوانات