ایسی توقعات وابستہ کی جائیں جو قانون کے مطابق ہوں: جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال تصویر کے کاپی رائٹ AFP

قومی احتساب بیورو کے نئے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ان سے ایسی توقعات وابستہ کی جائیں جو قانون کے مطابق ہوں۔

نیب ہیڈ کوراٹر میں بدھ کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ خود پراسیکیوشن کی مانیٹرنگ کریں گے اور اس محکمے میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے گا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق جو بھی کام ہوا وہ خود کریں گے اور کسی کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نیب کے نئے سربراہ مقرر

نیب چیئرمین کے مطابق جب وہ سپریم کورٹ کے جج تھے تو اُنھیں نے کہا تھا 'انصاف سب کے لیے' اور اب وہ یہ کہتے ہیں 'احتساب سب کے لیے۔'

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ کچھ سیاسی جماعتوں نے در پردہ تحفظات کا اظہار کیا ہے لیکن وہ یقین دلاتے ہیں کہ نیب میں تمام کارروائی قانون کے مطابق ہوگی۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی جانب سے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے نام پر ان سے مشاورت نہیں کی گئی۔

نیب چیئرمین کے مطابق انھوں نے ایبٹ آباد کمیشن کے معاملے پر بھی اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائی اور اس کی حتمی رپورٹ حکومت کو بجھجوا دی تھی تاہم اس رپورٹ کو منظر عام پر لانا حکومت کی صوابدید ہے۔

انھوں نے کہا کہ نیب میں زیر التوا مقدمات کو بھی فوری منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ ان کے کردار پر آج تک کوئی انگلی نہیں اٹھی اور اگر ایسی نوبت آئی تو وہ نیب کے چیئرمین اور لوگوں کی جبری گمشدگی کے لیے بنائے گئے کمیشن کی سربراہی سے بھی مستعفی ہو جائیں گے۔

انھوں نے کہا 'میں نے زندگی میں بہت دباؤ برداشت کیا ہے۔ سابق فوجی صدر پرویز شرف کے دور میں مجھ پر سب سے زیادہ دباؤ تھا اور میں ان ججز میں شامل تھے جنھوں نے سابق فوجی صدر کےتین نومبر سنہ2007 کے اقدام کو اسی روز غیر قانونی قرار دیا تھا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں