بالآخر امریکی مغوی کولمین کا ’ڈراؤنا خواب‘ ختم

تصویر کے کاپی رائٹ YOUTUBE
Image caption کیٹلین کولمین جب اغوا ہوئی تھیں تو اپنے پہلے بچے سے حاملہ تھیں (فائل فوٹو)

پانچ سال تک طالبان کے قبضے میں رہنے کے بعد بالآخر امریکی خاتون اور ان کے کینیڈین شوہر کو رہائی ملی ہے۔ دورانِ حراست ان کے تین بچے بھی ہوئے جن میں سے دو کی تصویر ایک ویڈیو میں دکھائی گئی تھی۔

کینیڈین شہری جوشوا بوئل اور ان کی 28 سالہ امریکی بیوی کیٹلن کولمین کو سنہ 2012 میں افغاسنتان میں ایک کیمپنگ ٹرپ کے دوران شمالی افغانستان سے اغوا کیا گیا تھا۔

پانچ برس سے مغوی غیرملکی خاندان کرّم ایجنسی سے’بازیاب‘

جوشوا اور کولمین کا سفر روس سے شروع ہوا تھا، جو قزاقستان، تاجکستان اور کرغستان سے ہوتا ہوا افغانستان پر ان کے اغوا پر ختم ہوا۔ اب اطلاعات کے مطابق پاکستان فوج نے انھیں پاکستان اور افغانستان سے متصل شمالی علاقے سے ایک آپریشن کے بعد رہائی دلوائی ہے۔

جب امریکہ کی ریاست پینسیلونیا سے تعلق رکھنے والی کولمین اغوا ہوئیں تو وہ اپنے پہلے بچے سے حاملہ تھیں لیکن جب طالبان نے تقریباً دس ماہ قبل ان کی ایک ویڈیو جاری کی تھی تو اس میں دو بچے دیکھے جا سکتے تھے۔

ویڈیو میں کیٹیلن کولمین نے اپنی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی حالت کو کافکا کی تحریروں کی طرح لکھا ہوا ایک ڈراؤنا خواب کہا تھا۔

چار منٹ کی ویڈیو میں کیٹلن کولمین نے اس وقت کے صدر براک اوباما اور نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان کی رہائی کے لیے کچھ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم 2012 سے کسی کا انتظار کر رہے ہیں جو ہمارے مسائل کو سمجھے‘۔

ان کے الفاظ کی گونج کہ 'میرے بچوں نے اپنی ماں کو داغ دار ہوتے دیکھا ہے' بہت دور تک سنائی دی۔ امریکہ اور کینیڈا میں ان کی غیر مشروط رہائی کے مطالبے کیے گئے۔

طالبان کا مطالبہ تھا کہ ان مغویوں کی رہائی کے بدلے افغانستان سے ان کے تین ساتھی رہا کیے جائیں۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ انھیں کہاں رکھا گیا ہے اور کب انھیں امریکہ یا کینیڈا بھیجا جائے گا۔ تاہم اطلاعات کے مطابق پاکستان فوج کا کہنا ہے کہ وہ ایک محفوظ مقام پر ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں