کرم ایجنسی: دھماکے میں کیپٹن سمیت سکیورٹی فورسز کے چار اہلکار ہلاک

کرم ایجنسی
Image caption کرم ایجنسی میں حالیہ مہینوں میں شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں ایک کیپٹن سمیت سکیورٹی فورسز کے چار اہلکار شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہوئے ہیں جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔

میڈیا کو جاری کردہ ایک بیان میں آئی ایس پی آر نے خبر دی ہے کہ ان اہلکاروں کو کرم ایجنسی میں خرلاچی کے مقام پر ایک دیسی ساختہ بم کا نشانہ بنایا گیا۔

فوج کے ترجمان ادارے نے کہا ہے کہ یہ اہلکار اس سرچ پارٹی کا حصہ تھے جنھوں نے چند روز قبل ایک کینیڈین امریکی خاندان کو بازیاب کروایا تھا۔

’طالبان نے میری بیوی کو ریپ کیا‘

دس سال میں کرم ایجنسی میں کیا بدلا؟

کرم ایجنسی میں کالعدم تنظیموں کا خوف

آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز میں ہلاک اور زخمی ہونے والے اہلکاروں کے نام بھی دیے گئے ہیں جن میں کیپٹن حسنین کا نام بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے پاکستان کی فوج نے کینیڈین شہری جوشوا بوئل، اور اُن کی امریکی اہلیہ اور تین بچوں کو قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں ایک آپریشن کر کے بازیاب کروایا تھا۔ اس خاندان کو 2012 میں افغانستان سے اغوا کیا گیا تھا۔

اس کارروائی کے بعد امریکی حکام اور خاص طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی تعریف کی تھی۔

ٹرمپ نے ہفتے کے روز ٹویٹ کیا: 'پاکستان اور اس کے رہنماؤں کے ساتھ ہم بہت بہتر تعلقات کو فروغ دینے کی ابتدا کر رہے ہیں۔ میں مختلف محاذوں پر ان کے تعاون کے لیے ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔'

گذشتہ ماہ کی 15 تاریخ کو کرم ایجنسی میں ایک امریکی ڈرون حملے میں تین افراد مارے گئے تھے۔ کچھ ذرائع کا کہنا تھا کہ حملے میں ہلاک ہونے والے تینوں افراد کا تعلق حقانی گروپ سے تھا تاہم اس بات کی مکمل طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی افغان پالیسی کے اعلان اور پاکستان پر دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کے الزام کے بعد یہ پہلا ڈرون حملہ تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں