’پاک افغان سرحد کی فضائی خلاف ورزی نہیں کی گئی ‘

ڈرون تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے ساتھ واقع افغانستان کے علاقوں خوست اور پکتیا میں فوجی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران افغانستان کے مختلف علاقوں میں کئی فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں جن کے دوران اطلاعات ملی ہیں کہ شدت پسندوں کا بھاری نقصان ہوا ہے۔

بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ اس علاقے میں پاک افغان سرحد کی فضائی خلاف ورزی نہیں کی گئی اور نہ ہی کرم ایجنسی میں کوئی ڈرون حملہ ہوا ہے۔

پاکستان میں دس ماہ بعد امریکی ڈرون حملہ

افغانستان میں ڈرون حملہ، القاعدہ کے رہنما، پاکستانی طالبان ہلاک

پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ کے دورہ افغانستان کے بعد دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان تعاون میں بہتری آئی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں نے مختلف اوقات میں تین حملے کیے تھے جس میں کم سے کم 31 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

منگل کی دوپہر تیسرا حملہ قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے ساتھ پاک افغان سرحدی علاقے انجرگے زنڈو کے مقام پر کیا گیا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ امریکی جاسوس ڈرون سے ایک مکان پر دو میزائل داغے گئے جس میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اس سے پہلے منگل کی صبح قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے ہی ساتھ پاک افغان سرحد پر واقع علاقے کشکہ رامسر میں ڈرون طیارے نے ایک مکان پر دو میزائل داغے تھے اور اس حملے میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پیر منگل کی درمیانی شب سرحدی علاقے میں ہی جاسوس طیارے سے ایک عمارت پر چھ میزائل مارے گئے جس میں 20 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ڈرون حملوں کے بعد جاسوس طیارے فضا میں کافی دیر تک پرواز کرتے رہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جاسوس طیاروں کے جانے کے بعد عمارت سے لاشیں نکالی گئیں۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ان حملوں میں شدت پسندوں کے اہم کمانڈر اور ان کے ساتھی ہلاک ہوئے ہیں۔

کرم ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکاروں نے مقامی صحافیوں کو بتایا تھا کہ یہ حملے افغانستان کی حدود میں کیے گئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں بعض مقامات پر آبادی بہت قریب قریب ہے اس لیے یہ تعین مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ افغانستان کا علاقہ ہے یا پاکستان کا۔ مقامی لوگوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ ان حملوں میں عام لوگ بھی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں دو روز کے دوران مسلسل تین ڈرون حملے ہوئے اور اُن میں اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

اسی بارے میں