MeToo# ’جنسی ہراس کے معاملے سے منہ موڑ کر اسے بڑھاوا دیا‘

Image caption عمیر احمد نے بھی ٹویٹ کیا اور کہا کہ وہ شرمندہ ہیں کہ وہ انھوں نے اپنے کام کی جگہ پر جنسی ہراس کے ایک معاملے سے منہ موڑ کر اسے بڑھاوا دیا (فائل فوٹو)

کیا آپ نے کالج میں کسی لڑکی کے زیر جامہ کو کھینچا اور اسے محض ایک مذاق سمجھا؟

کیا آپ نے کبھی کسی عورت کو بلاوجہ چُھوا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ اس سے پریشان ہوسکتی ہے؟

شارق رفیق نے ایسا ہی کچھ کرنے کا اعتراف کیا ہے اور وہ اس پر نادم ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اندر 'گندگی بھر گئی تھی'۔

’ہراساں کیے جانے سے تنگ آ کر بائیک چلائی‘

’والدین کو ایسے واقعات سے بچاؤ کے طریقے بتانے چاہییں‘

میرا شارق سے تعارف اس وقت ہوا جب میں ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ MeToo # کے ساتھ مردوں کی جانب سے کی گئی پوسٹس دیکھ رہی تھی۔

ہالی ووڈ پروڈیوسر ہاروی وائن سٹین کے خلاف فنکاروں کو ہراساں کرنے کے الزامات کے بعد ٹوئٹر پر یہ ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنا شروع ہوا جس میں خواتین نے اپنے ساتھ جنسی ہراس اور تشدد کے واقعات کا ذکر شروع کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption شارق رفیق نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اس بدسلوکی پر نادم ہیں

ایک نئے ہیش ٹیگ کے ساتھ ایک بار پھر خواتین کی آواز بلند ہوئی ہے اور اس مسئلے پر اپنی آواز بلند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

لہٰذا میری دلچسپی مردوں کے تاثرات میں تھی۔ اگر عورتیں اپنے ہراساں کیے جانے کے بارے میں بات کرتی ہیں تو کیا مرد بھی بہادر ہو جائیں گے اور تسلیم کریں گے کہ انھوں نے ظلم کیا ہے؟

کیا وہ بھی سمجھتے ہیں کہ انھوں نے ہراساں کیا ہے؟

عمیر احمد نے بھی ٹویٹ کیا اور کہا کہ وہ شرمندہ ہیں کہ انھوں نے اپنے کام کی جگہ پر جنسی ہراس کے ایک معاملے سے منہ موڑ کر اسے بڑھاوا دیا۔

ان کے بقول جب ان کی ایک خاتون ساتھی نے انہیں بتایا کہ وہ اس بات پر بہت مایوس ہوئیں کہ عمیر نے اس دوسرے آدمی کی حمایت کی اور عمیر کو اس وقت غلطی کا احساس ہوا۔

عمیر جانتے تھے کہ اس آدمی کا بظاہر دوستانہ رویہ حد سے تجاوز کر سکتا ہے۔

اس معاملے میں سب سے پہلے ان رویوں کی شناخت ضروری ہے جو زیادتی کے زمرے میں آتے ہیں اس کے بعد اس کے حل کے لیے ضروری جنگ کی وضاحت ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ہمیشہ کچھ نہ کچھ داؤ پر لگا ہوتا ہے پیسہ، عزت یا کیریئر۔ ایسا کرنا آسان نہیں ہے۔

لیکن شارق اور عمیر کی طرح دیگر مردوں کو بھی یہ رویہ ترک کرنا ہوگا اور یہ سوچنا ہے کہ اب وہ کیسے رہیں گے۔ انہیں خواتین کو سننا ہوگا اور احساس دلانا ہوگا کہ ان سے پیار کیا جاتا ہے۔

اور یہ میری سوچ نہیں ہے یہ وہ باتیں ہیں جو مردوں نے ہی دوسرے مردوں سے براہِ راست کہی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں