مکلی کا عالمی ورثہ تجاوزات اور قبضے کے نرغے میں

makli ruins
Image caption یونیسکو نے 1981 میں مکلی کے قبرستان کو عالمی ورثہ قرار دیا تھا

سرخ اینٹوں اور کاشی گری کے فن سے تعمیر 'مرزا باقی بیگ ازبک' کے یادگار کی مرمت جاری ہے، اس یادگار کی دیواروں اور مقبرے کے گنبد میں دراڑیں پڑ گئی تھیں۔ مرزا باقی بیگ کا تعلق ترخائن شاہی خاندان سے تھا۔ اس خاندان نے سولھویں صدی میں سندھ پر حکومت کی۔

باقی بیگ کی یادگار مکلی کے قبرستان میں واقع ہے۔ یہ دنیا کا وسیع ترین قبرستان ہے یونیسکو نے 1981 میں عالمی ورثہ قرار دیا تھا۔جہاں چودھویں صدی عیسوی سے لیکر سترھویں صدی کے حکمران خاندانوں اور جنگجوؤں کی قبریں موجود ہیں جن کو

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Urdu
Image caption مکلی قبرستان میں چالیس سے پچاس یادگاروں کو ہنگامی بنیادوں پر مستحکم کیا گیا ہے

بارشوں، ہوا کے دباؤ، سورج کی تپش اور نگرانی کے فقدان نے ان آثاروں کو زبوں حال کر دیا ہے۔ بالاخر اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو نے اس ورثے کو عالمی ورثے سے خارج کرنے کی دھمکی دے دی، جس کے بعد حکومت سندھ نے اس طرف توجہ دی اور یونیسکو بہتری کی یقین دہانی کرائی۔

مکلی قبرستان کے کیوریٹر سرفراز جتوئی کا کہنا ہے کہ چالیس سے پچاس ایسے یادگاریں ہیں جنہیں ہنگامی بنیادوں پر مستحکم کیا گیا ہے ان میں سے کچھ پتھر اور کچھ اینٹوں سے بنی ہوئی تھیں، ان پر پودے نکل آئے تھے جن کی جڑیں اندر جا رہی تھیں اور نتیجے میں دراڑیں پڑ گئیں اور جب بھی بارش ہوتی تھی تو پانی بنیادوں میں چلا جاتا تھا۔ اب چونے اور بجری کے پلستر سے ان دراڑوں کو بند کردیا گیا ہے۔

یہاں سماں، ارغون، ترخان اور مغل ادوار کے شاہی خاندانوں کے 80 سے زائد یادگار موجود ہیں جو پتھر، اینٹوں یا دونوں کی مدد سے بنائے گئے ہیں ان پر فارسی، سندھی اور عربی زبان تحریر ہے۔ اس میں سے مقامی سندھی حکمران جام نظام الدین اور عیسیٰ بیگ ترخائن دوئم کے یادگار نمایاں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Urdu
Image caption مکلی قبرستان میں سماں، ارغون، ترخان اور مغل ادوار کے شاہی خاندانوں کی 80 سے زائد یادگاریں موجود ہیں

نامور آرکیالوجسٹ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کہتے ہیں سماں مقامی حکمران تھے اور رن آف کچھ میں ان کے کزن حکمران تھے۔ سماں فن تعمیر میں اس کی جھلک نظر آتی ہے جس میں زیادہ اثر پتھر کے فن کا ہے۔ ارغون اور ترخائن وسطی ایشیا سے آئے تھے انہوں نے اینٹ اور کاشی گری کا استعمال کیا۔ چونکہ مغل خود بھی وسطی ایشیا سے آئے تھے اور انڈیا میں انہیں سو سال ہوچکے تھے تو اس امتزاج نے ایک نئے طرح کے فن تعمیر کو جنم دیا۔

ٹھٹہ سندھ کا خوشحال خطہ سمجھا جاتا تھا جہاں کیٹی بندر، شاہ بندر نام سے بندرگاہیں اور کئی درسگاہیں موجود تھیں۔ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کہتے ہیں کہ اس علاقے کا بحیرہ ہند کے ذریعے پوری دنیا سے رابطہ تھا۔ بارہویں ، تیرہویں اور چودہویں صدی میں یہاں تجارت نے فروغ پایا اور دنیا بھر سے لوگ اکھٹے ہو رہے تھے اسی دوران آرٹ اور کرافٹ نے اپنا عروج حاصل کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Urdu
Image caption بارہویں اور تیرہویں صدی میں ٹھٹہ سندھ کا خوشحال خطہ سمجھا جاتا تھا جہاں کیٹی بندر، شاہ بندر نام سے بندرگاہیں اور کئی درسگاہیں موجود تھیں

مکلی کا قبرستان قومی شاہراہ کی دونوں اطرف میں پھیلا ہوا تھا لیکن اس کے نصف حصے پر قبضہ ہوچکا ہے ، جس کی نشاندھی یونیسکو کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔

نامور آرکیالوجسٹ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کہتے ہیں کہ مکلی کا پورا قبرستان اور اس سے ملحقہ جو تہذیبی عناصر اور اسٹریکچر ہیں، جیسے کلان کوٹ، قبرستان کا دوسرا حصہ جو جنوب میں ایک ہزار ایکڑ رقبے پر محیط ہے اور ٹھٹہ شہر یہ سب عالمی ورثے پر مشتمل ہے لیکن جو سڑک کے شمال میں 912 ایکڑ قبرستان ہے ہم سمجھتے ہیں کہ بس یہ ہی ہماری ہریٹیج سائیٹ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC URDU
Image caption مکلی قبرستان کے کیویٹر سرفراز جتوئی کا کہنا کہ تجاوزات اور قبضے کو چھڑانے کے لیے کوششیں ہو رہی ہیں

مکلی قبرستان کے کیویٹر سرفراز جتوئی کا کہنا ہے کہ مغربی طرف زیادہ قبضے اور تجاوزات ہیں۔ سروے میں ایسے پونے تین سو گھروں اور دو سو کے قریب دکانوں کی نشاندھی ہوئی ہے، انہیں متبادل جگہ فراہم کرنے کے لیے بائی پاس مکلی پر 15 ایکڑ زمین مختص کردی گئی ہے، کچھ عرصے میں انہیں بیدخل کردیا جائے گا۔

یونیسکو نے غیر قانونی تجاوزات کے علاوہ افرادی قوت کی قلت، موسمی اسٹیشن کی عدم دستیابی، صفائی ستھرائی، تاریخی حوالے کے نوٹس بورڈز کے فقدان اور لوگوں کی بے تحاشہ آمدرفت کی بھی نشاندھی کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC URDU
Image caption قبرستان کا دوسرا حصہ ایک ہزار ایکڑ رقبے پر محیط ہے

مکلی قبرستان کے کیویٹر سرفراز جتوئی کا کہنا ہے کہ قبرستان میں موسمی اسٹیشن قائم کیا گیا ہے تاکہ بارشوں، سورج کی تپش اور ہوا کے دباؤ کو مانیٹر کیا جاسکے، اس کے علاوہ آس پاس سے ملبہ ہٹادیا گیا ہے اور کوڑے دان لگائے جا رہے ہیں، تاہم لوگوں کی آمدرفت ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ یہاں 10 سے زائد مزارات ہیں جن پر میلے بھی لگتے ہیں پہلے لوگوں بسوں اور بڑی گاڑیوں میں اندر جاتے تھے اس کی روک تھام کی گئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں