’ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں مگر حکومت کے ہاتھ بندھے ہیں`

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ٹھوس پتھر کی چٹانوں کو کاٹنے کے روزگار سے وابستہ افراد

سنگلاخ چٹانوں کو کاٹنا یا توڑنا یقیناٌ آسان نہیں۔ کبھی بارودی مواد کے دھماکے کرنے پڑتے ہیں تو کہیں بھاری بھرکم مشینوں کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اس عمل میں احتیاط نہ برتنا جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا میں ٹھوس پتھر کی چٹانوں کے پہاڑی سلسلے کوہ کڑانہ کے دامن میں واقع ایک نواحی گاؤں چک نمبر 120 میں ایسے کئی خاندان بستے ہیں جو صدیوں سے یہ خطرنک کام انجام دے رہے ہیں۔

مٹی اور گردوغبار میں اٹے 35 مربع کلو میٹر پر پھیلے اس علاقے میں کام کرنے والے یومیہ 10 ہزار سے زائد مزدوروں کے لیے حادثات زندگی کا حصہ ہیں۔ تاہم حالیہ چند روز میں پل 111 کے مقام پر ہونے والے جان لیوا حادثات کی شرح میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

یہاں پہاڑی مزدور اتحاد یونین کے سیکرٹری جنرل محمد رمضان آزاد نے بی بی سی کو بتایا کہ رواں برس 20 ستمبر سے اب تک 12 مزدور حادثات میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ’ہر سال یہاں تقریباٌ 18 سے 19 مزدور حادثات کا نشانہ بنتے ہیں۔ رواں برس تاہم یہ تعداد کافی زیادہ رہنے کا خدشہ ہے۔‘

اس خطرناک اضافے کی وجوہات بھی خطرناک ہیں۔

دو ہفتے قبل چک نمبر 120 سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقع لالیاں نامی علاقے کے رہائشی محمد فاروق اور ان کے رشتہ دار اپنے حصے کی پہاڑی پر کام کر رہے تھے۔ وہ پہاڑی کو روزانہ حصہ بہ حصہ توڑتے ہیں۔

اس کے لیے مزدور ڈرل کی مدد سے چٹانوں میں سوراخ کرتا ہے جن میں بارودی مواد بھرا جاتا ہے۔ مزدور کو اسے آگ لگا کر وہاں سے نکلنے کے لیے تقریباٌ آٹھ منٹ ملتے ہیں۔ غلطی کی گنجائش نہیں۔

ان مزدوروں کو کسی قسم کی تربیت فراہم نہیں کی جاتی۔ یہ کام وہ اپنے بڑوں یا پھر تجربے سے سیکھتے ہیں۔

اس روز تاہم بات دھماکے تک پہنچی ہی نہیں۔ اس سے پہلے ہی چٹان کا ایک حصہ اپنی جگہ سے ٹوٹا اور بلندی سے نیچے کام کرنے والوں پر آن گرا۔ محمد فاروق کے بڑے بھائی 35 سالہ عابد علی سمیت تین رشتہ داروں کو بھاگ کر پناہ تلاش کرنے کا موقع بھی نہ مل سکا ۔

محمد فاروق کا کہنا تھا کہ کچھ پتھر ان پر بھی گرے ’مگر وہ پانچوں چٹان کے عین نیچے دب گئے اور ان کی موت ہو گئی۔‘ ان ٹھوس اور وزنی چٹانوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے نیچے سے زندہ نکلنا انتہائی مشکل ہے۔

یہاں جان لیوا حادثے سے بچنے کا ایک ہی طریقہ نظر آتا ہے کہ حادثہ ہونے ہی نہ دیا جائے۔ محمد فاروق اور ان کے ساتھیوں پر جو چٹان گری وہ گذشتہ چند روز سے اس کی بنیادوں میں کی جانے والی کٹائی سے اکھڑ چکی تھی۔

مرنے والے اس سے ناواقف دوبارہ اس کے دامن میں کام میں مصروف تھے۔ ڈرلنگ کی وجہ سے ہونے والی تھرتھراہت سے وہ اپنی جگہ سے پھسل گئی۔

سرگودھا کے ڈپٹی کمشنر لیاقت علی چٹھہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ضلعی حکومت کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پہاڑی کو بنیاد سے کاٹنا زیادہ تر حادثوں کا سبب بن رہا ہے۔

’ٹھیکیدار مزدوروں پر زیادہ پیسہ نہیں خرچ کرتا اور حفاظتی معیار کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔ اس کے علاوہ محکمہ معدنیات اور ان کے انسپکٹر کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پہاڑ کو صحیح طریقہ سے کاٹا جائے۔ اسے اوپر کی طرف سے کاٹنا چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا تحقیقات کے بعد معدنیات کے انسپکٹر سمیت دیگر ذمہ داران کے خلاف پولیس کے پاس ایف آئی آر کٹوا دی گئی تھی۔

تاہم پہاڑی مزدور اتحاد یونین کے سیکرٹری محمد رمضان آزاد کے مطابق ایسے افسران کبھی پکڑے نہیں جاتے، اور ویسے بھی ان کا کہنا تھا کہ حادثات میں معدنیات کے انسپکٹر کا قصور نہیں، محکمہ معدنیات کا ہے۔

’محکمہ معدنیات نے صرف اپنا منافع بڑھانے کے لیے پہاڑی کے ایک بلاک کے چار چار بلاک بنا دیے ہیں۔ اس طرح پہاڑی کے اوپر کی طرف سٹیپ بنانا مشکل ہو گیا ہے۔ سٹیپ بن جائیں تو پھر پہاڑی نہیں گرتی۔‘

طوحل پہاڑی سلسلے کو بیشمار حصوں میں تقسیم کر کے ٹھیکیداروں کے ذریعے مزدوروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ جہاں پہلے ایک حصے ایک ٹھیکیدار کے پاس ہوتا تھا وہی آج چار کے پاس ہے۔

محمد فاروق اعتراف کرتے ہیں کہ مزدور پہاڑی کو نیچے سے کاٹتے ہیں۔ اور وہ واضح طور پر نظر بھی آتا ہے۔

تاہم وہ ایسا کرنے پر اس لیے مجبور ہوتے ہیں کہ ٹھیکیدار انھیں جلد از جلد پہاڑی توڑنے کا کہتے ہیں اور دھمکی دیتے ہیں کہ ناکامی کی صورت میں ان سے پہاڑی کا حصہ واپس لے لیا جائے گی۔

’پہلے بھی ہم سے کچھ پہاڑیاں واپس لے لی گئیں تھیں۔ اس کام سے ہمار رزق جڑا ہے، اس لیے ہم عجلت میں کام کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے ایسے حادثات ہوتے ہیں۔‘ کئی مزدور پہاڑی کے اوپر سے نیچے گر کر بھی ہلاک ہوتے ہیں۔

صوبائی وزیر کان کنی اور معدنیات پنجاب شیر علی خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسے کنٹریکٹر یا ٹھیکیدار جو قانون پر عملدرآمد کرتے ہوئے حفاظتی معیار کا خیال نہیں رکھتے ان کے خلاف مقدمات درج کیے جاتے ہیں، حادثے کی ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات پولیس بھی کرتی ہے اور متعلقہ محکمے بھی۔

تاہم اس سوال کے جواب میں کہ اس سے قبل جو حادثات ہوئے کیا ان میں کسی کو سزا ملی ہے، ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد کی جانب سے ٹھیکیداروں سے خون بہا لے لیا جاتا ہے۔ ’جب وہ خود ان کو معاف کر دیں تو پھر وہاں قانونی طور پر ہمارے ہاتھ بندھے ہیں۔‘

پل 111 کے اس مقام پر پہاڑ کو کاٹ کر پتھر نکالنے کا کام سنہ 1970 سے جاری ہے۔ یہ پھر کرش کیے جانے کے بعد ملک کے دور دراز علاقوں میں تعمیراتی کام میں استعمال کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ حال ہی میں یہاں سے چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کے منصوبے کے لیے بھی یہاں سے پتھر اور بجری بڑی تعداد میں جا رہا ہے۔

مانگ میں اضافے کے ساتھ تاہم حادثات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ محمد فاروق کے جیسے خاندان نسلوں سے یہی کام کر رہے ہیں۔ وہ اس کو چھوڑ نہیں سکتے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کیسے اور کب اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ محمد فاروق کی طرح مزید خاندان متاثر نہ ہوں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں