قندیل قتل کیس: مفتی عبدالقوی فرار ہونے کے بعد گرفتار

مفتی عبدالقوی تصویر کے کاپی رائٹ Multan Police

ملتان پولیس نے سوشل میڈیا سلیبرٹی قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمے میں مذہبی رہنما مفتی عبدالقوی کو گرفتار کرلیا ہے۔ ملتان کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں بدھ کو ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد ہونے کے بعد وہ عدالت سے فرار ہوگئے تھے۔

مقامی پولیس کے مطابق عدالت سے ضمانت کی درخواست خارج ہونے کے بعد مفتی عبدالقوی جھنگ فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان کے زیر استعمال موبائل فون سے ان کی لوکیشن معلوم کرنے کے بعد اُنھیں مظفر گڑھ سے گرفتار کرلیا گیا۔

ملزم کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے اور امکان ہے کہ اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران ملزم کو مقامی عدالت میں پیش کر کے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

قندیل بلوچ کے والدین کے ساتھ بی بی سی اردو کی خصوصی گفتگو

’قندیل بلوچ جو کرتی تھی دل سے کرتی تھی‘

’میں اب ہاتھ سے نکل چکی ہوں!‘

خوابوں کی تلاش میں موت سے جا ملی


مفتی عبدالقوی رویت ہلال کمیٹی کے بھی رکن تھے تاہم سوشل میڈیا پر قندیل بلوچ کے ساتھ تصاویر شائع ہونے کے بعد ان کی رکنیت معطل کردی گئی تھی اور یہ رکنیت تاحال معطل ہے۔

اس سے قبل ملتان کی ایک مقامی عدالت نے قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمے میں مذہبی رہنما مفتی عبدالقوی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد کر دی تھی جس کے بعد مفتی عبدالقوی احاطہ عدالت سے فرار ہو گئے تھے۔

بدھ کو جب عدالت میں مفتی عبدالقوی کے وکیل نے اپنے دلائل مکمل کیے تو عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست خارج کر دی۔

Image caption قندیل بلوچ نے مفتی عبدالقوی کے ساتھ ملاقات کے دوران کئی سیلفیاں کھینچی تھیں جو وائرل ہوگئی تھیں

عدالتی فیصلہ سامنے آنے کے کچھ دیر بعد ہی مفتی عبدالقوی وہاں موجود پولیس کو چکما دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

مقامی پولیس نے مفتی عبدالقوی کی گرفتاری کے لیے اس علاقے کی ناکہ بندی کردی ہے جس میں وہ رہائش پذیر ہیں۔

تاہم پولیس اہلکاروں کو اس وقت تک ملزم کے گھر پر چھاپہ مارنے سے روک دیا گیا ہے جب تک پنجاب پولیس کے اعلیٰ حکام کی طرف سے اس کی اجازت نہیں مل جاتی۔

ملتان کی پولیس کا کہنا ہے کہ چونکہ ملزم مفتی عبدالقوی کے مریدوں کی ایک قابل ذکر تعداد علاقے میں موجود ہے اس لیے پولیس کی ممکنہ کارروائی سے علاقے میں امن وامان کی صورت حال خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔

ایس ایس پی آپریشن عمارہ اطہر کے مطابق پولیس اس ضمن میں تمام آپشن پر غور کر رہی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اب امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ ملزم شہر سے نکل گئے ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

خیال رہے کہ قندیل بلوچ کی مفتی عبدالقوی کے ساتھ چند تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں، جس کے کچھ عرصے بعد ہی قندیل بلوچ کے بھائی نے انھیں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ اس مقدمے کا حتمی چالان ابھی تک مکمل نہیں ہوا ہے۔

یہ بھی دیکھیے

قندیل بلوچ پر بی بی سی کی خصوصی فلم کا پہلا حصہ

قندیل بلوچ پر بی بی سی کی خصوصی فلم کا دوسرا حصہ

قندیل بلوچ پر بی بی سی کی خصوصی فلم کا آخری حصہ


تاہم اس مقدمے میں جو افراد گرفتار ہوئے تھے ان پر پہلے ہی فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔ تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔

اس سے پہلے اُن ملزمان نے پولیس کی موجودگی میں میڈیا کے سامنے یہ اقرار کیا تھا کہ اُنھوں نے غیرت کے نام پر قندیل بلوچ کو قتل کیا تھا۔

بدھ کو جب سیشن جج کی عدالت میں مفتی عبدالقوی کی درخواست کی سماعت ہوئی تو ان کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کا نام نہ تو کسی ایف آئی آر میں درج ہے اور نہ ہی کسی ملزم نے دوران تفتیش مفتی عبدالقوی کا نام لیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں