کوئٹہ اور بنوں میں سکیورٹی اہلکاروں پر حملے، آٹھ ہلاک

کوئٹہ
Image caption زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا

پاکستان کے صوبے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سکیورٹی اہلکاروں پر ہونے والے حملوں میں کم از کم سات اہلکاروں سمیت آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ حملے بدھ کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاوہ ضلع بنوں میں کیے گئے اور ان میں پولیس کے کمانڈورز اور فوجی اہلکار نشانہ بنے۔

پہلا حملہ کوئٹہ کے نواحی علاقے سریاب میں بدھ کی صبح پیش آیا جہاں پولیس کے ریپڈ ریسپانس گروپ (آر آر جی) کے اہلکار دھماکے کا نشانہ بنے۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کے کمانڈوز ایک ٹرک میں شہر کی جانب آ رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

جھل مگسی میں درگاہ پر خودکش دھماکہ، 18 افراد ہلاک

پاکستان میں مزاروں پر حملوں کی تاریخ

ان کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب اہلکاروں کا ٹرک سریاب کے نواح میں غازی سٹیل کے قریب سے گزر رہا تھا اور دھماکے کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور 22 زخمی ہو گئے۔

وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک عام شہری بھی شامل ہے۔

Image caption ایک پولیس اہلکار کے مطابق دھماکہ خیز مواد ایک گاڑی میں تھا

زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

ایک پولیس اہلکار کے مطابق دھماکہ خیز مواد ایک گاڑی میں نصب تھا۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ اس دھماکے کی نوعیت کے بارے میں تحقیقات ہو رہی ہیں تاہم خود کش حملے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے۔

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے بدامنی کے دیگر واقعات کے علاوہ پولیس اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ رواں سال پولیس کے اہلکاروں پر ہونے والے حملوں میں اب تک ایس پی رینک کے دو افسروں سمیت 20 سے زیادہ اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

ادھر عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ بدھ کو ایف آر بنوں کے علاقے میں واقع جلال پوسٹ پر سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے دو سپاہی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والے سپاہیوں کا تعلق انجنینئیرنگ بٹالین سے بتایا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں