قندیل بلوچ قتل اور مفتی عبدالقوی: کب کیا ہوا؟

قندیل

پچھلے برس جولائی میں سوشل میڈیا سلیبربرٹی قندیل بلوچ کو سوتے میں گلا گھونٹ کر قتل کر دیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں معروف عالمِ دین مفتی عبدالقوی کو بدھ کے روز ملتان سے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

اس موقعے پر اس کیس کے اہم سنگِ میل پیشِ خدمت ہیں:

قندیل بلوچ کون تھیں؟

جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والی قندیل بلوچ متنازع بیانات اور پاکستان میں ’قابل اعتراض‘ فوٹیج کی وجہ سے میڈیا کی حد تک بہت مقبول شخصیت بن گئی تھیں اور انھیں پاکستان کی کِم کارڈیشیئن کہا جاتا تھا۔

انھوں نے سوشل میڈیا پر جو تصاویر، ویڈیوز اور بیانات پوسٹ کیے انھیں خاصا متنازع سمجھا جاتا تھا۔ البتہ ایک حلقے کی طرف سے انھیں معاشرتی روایات توڑنے کی وجہ سے بہادر بھی کہا گیا۔

قندیل بلوچ کا قتل

15 جولائی 2016 کو قندیل بلوچ کو سوتے میں قتل کر دیا گیا۔ پولیس کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ انھیں گلا گھونٹ کر مارا گیا تھا۔

قندیل کے بھائی وسیم نے شروع میں گرفتاری کے بعد اعتراف کیا تھا کہ یہ جرم انھوں نے کیا ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ قندیل بلوچ خاندان کے لیے رسوائی کا سبب بن رہی تھیں لیکن بعد میں جب ان پر باقاعدہ فرد جرم عائد کی گئی تو انہوں نے اس سے انکار کر دیا تھا۔

دسمبر 2016 میں ملتان پولیس نے تین ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی جن میں مقتولہ کا بھائی وسیم، حق نواز اور عبد الباسط شامل تھے۔ تینوں نے صحت جرم سے انکار کر دیا۔

ان ملزمان کے خلاف قتل اور اعانت مجرمانہ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

مقتولہ کے والد عظیم نے قتل کا قصووار مفتی عبدالقوی کو ٹھہراتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے ملزمان کو اس قتل پر اکسایا ہے۔ پولیس نے مفتی عبدالقوی کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا۔

یہ بھی پڑھیے

قندیل بلوچ کے والدین کے ساتھ بی بی سی اردو کی خصوصی گفتگو

’قندیل بلوچ جو کرتی تھی دل سے کرتی تھی‘

’میں اب ہاتھ سے نکل چکی ہوں!‘

خوابوں کی تلاش میں موت سے جا ملی


Image caption قندیل بلوچ نے مفتی عبدالقوی کے ساتھ ملاقات کے دوران کئی سیلفیاں کھینچی تھیں جو وائرل ہوگئی تھیں

یہ واقعہ ملکی اور غیر ملکی میڈیا میں شہ سرخیوں میں آیا جس کے بعد پولیس نے قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمے میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 311 سی کا اضافہ کر دیا جس سے اب اس مقدمے کا مدعی چاہتے ہوئے بھی ملزمان کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔

اس قتل پر پاکستان بھر کے مختلف حلقوں کی طرف سے سخت ردِ عمل سامنے آیا اور بہت سے لوگوں نے کہا کہ قندیل بلوچ کو آزادیِ اظہار کی سزا دی گئی ہے۔ آسکر انعام یافتہ فلم ساز شرمین عبید چنوئے قندیل بلوچ پر ایک دستاویزی فلم تیار کر رہی ہیں جب کہ ان کی زندگی پر 'باغی' کے نام سے ایک ٹی وی سیریئل ان دنوں نجی ٹیلی ویژن پر دکھایا جا رہا ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے بھی قندیل بلوچ کے قتل کے بعد کہا تھا کہ 'غیرت کے نام پر کیے جانے والے قتل میں کوئی غیرت نہیں ہوتی۔'

یہ بھی دیکھیے

قندیل بلوچ پر بی بی سی کی خصوصی فلم کا پہلا حصہ

قندیل بلوچ پر بی بی سی کی خصوصی فلم کا دوسرا حصہ

قندیل بلوچ پر بی بی سی کی خصوصی فلم کا آخری حصہ


قندیل بلوچ کا مفتی عبدالقوی سے کیا تعلق تھا؟

مفتی عبدالقوی اس وقت معروف عالمِ دین اور رویت ہلال کمیٹی کے رکن تھے اور مختلف ٹیلی ویژن چینلوں کی طرف سے انھیں باقاعدگی سے مذہبی پروگراموں میں شرکت کے لیے بلایا جاتا تھا۔

جون 2016 میں ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں مفتی عبدالقوی نے قندیل بلوچ کو کراچی آنے کی دعوت دی۔ اس کے بعد جب ان دونوں کی کراچی میں ملاقات ہوئی تو قندیل بلوچ نے ان کے ساتھ سیلفیاں لیں، جو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں اور انھیں لاکھوں لوگوں نے شیئر کیا جب کہ ٹیلی ویژن چینلوں پر انھیں بار بار دکھایا جاتا رہا۔

ان تصاویر کی وجہ سے مذہبی حلقوں کی طرف سے مفتی عبدالقوی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی رویت ہلال کمیٹی کی رکنیت معطل کر دی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

قتل کا مقدمہ کہاں تک پہنچا ہے؟

پولیس نے ملزم وسیم اور ان کے کزن حق نواز پر فردِ جرم عائد کر کے مقدمے کا آغاز کر دیا تھا، جس کے بعد پولیس نے بارہا مفتی عبدالقوی کو شاملِ تفتیش ہونے کے لیے بلایا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔

عدالت نے 12 اکتوبر 2017 کو مفتی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کر کے انھیں 17 اکتوبر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔

مفتی عبدالقوی نے قبل از گرفتاری ضمانت میں توسیع کروانے کی کوشش کی، لیکن عدالت نے ان کی درخواست مسترد کر دی۔

مقامی پولیس کے مطابق اس کے بعد مفتی عبدالقوی جھنگ فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان کے زیر استعمال موبائل فون سے ان کی لوکیشن معلوم کرنے کے بعد اُنھیں مظفر گڑھ سے گرفتار کر لیا گیا۔

ملزم کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور امکان ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں کے دوران ملزم کو مقامی عدالت میں پیش کر کے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کی جائے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں