پاکستان میں سنیپ چیٹ پر بلیو وہیل گیم کھیلی جا رہی ہے

Image caption ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ سلیمان اپنی والدہ کے موبائل فون سے ایسی تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کر رہا تھا جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اور ان کے دوست بلو وہیل طرز کی گیم کھیل رہے ہیں۔

امریکی انٹرپول نے پاکستان میں انٹرپول کو آگاہ کیا کہ سوشل میڈیا ایپلیکیشن سنیپ چاٹ پر 16 اکتوبر کو لاہور سے کچھ ایسی تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کی گئی ہیں جن سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ کسی کو اغوا کیا گیا ہے یا خود کشی کی لیے مجبور کیا جا سکتا ہے۔

اس حوالے سے ایف آئی اے لاہور کے سائیبر کرائم ونگ نے بدھ کو موبائل فون ڈیٹا کی بنیاد پر کریک ڈاؤن کیا اور جوہر ٹاؤن کے علاقے سے 14 سال کے سلیمان نام کے بچے کو شامل تفتیش کیا۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ سلیمان اپنی والدہ کے موبائل فون سے ایسی تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کر رہا تھا جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اور ان کے دوست بلو وہیل طرز کی گیم کھیل رہے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایف آئی اے لاہور کے ڈپٹی ڈاریکٹر سائیبر کرائم سید شاہد حسن نے بتایا کہ یہ فکر کی بات ہے کہ پاکستان میں بھی بلو وہیل کی طرز کی گیم اب سنیپ چیٹ پر نوجوانوں میں مقبول ہو رہی ہے۔

’لاہور سے تعلق رکھنے والے یہ بچے سنیپ چیٹ پر بلیو وہیل کھیل رہے تھے، جس میں یہ ایک دوسرے کو ٹاسک دیتے اور پھر ان کی تصاویر کھینچ کر سنیپ چیٹ پر لگاتے۔ امریکی انٹرپول کی اطلاع پر ہم نے لاہور میں تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ سلیمان اور ان کے دوستوں نے مل کر ٹاسک کے طور پر ایک بچے کے ہاتھ پاؤں باندھ کر، گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر کسی دوسری جگہ منتقل کیا اور اس عمل کی ویڈیو اور تصاویر سنیپ چیٹ پر لگائیں۔ جو انٹرپول کی نظر میں آئیں اور یہ تفتیش شروع ہوئی۔‘

ڈپٹی ڈاریکٹر سائیبر کرائم ایف آئی اے لاہور کے مطابق سلیمان نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ اور اس کے دوست یہ سب کچھ ایڈونچر کے لیے اور گیم کے ٹاسک کے طور پر کر رہے تھے۔

’یہ آٹھ بچوں کا گروپ ہے جن کی عمر 12 سے 15 سال کی ہے اور ان بچوں کا تعلق خوشحال گھرانوں سے ہے۔ اب ایف آئی اے کی تحقیقات میں اس بات کی تفتیش کی جائے گی کہ کیا ان ٹاسکس کے دوران کسی بچے کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچا یا کوئی غیر قانونی کام تو نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد ہی کوئی قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔‘

سید شاہد حسن کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے اگر بروقت کارروائی نہ کرتا تو یہ نوجوان ٹاسک کی شکل میں خودکشی جیسا بڑا قدم بھی اٹھا سکتے تھے، والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔

اسلام آباد میں رہنے والے ایک بلیو وہیل گیم کے کھلاڑی نے بی بی سی کو بتایا کہ نوجوان اس قسم کی گیمز کو اس لیے ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں کیونکہ یہ مقبول ہوتی ہیں اور کبھی کبھی ایک بار کھیلنے کا چسکا عادت بن جاتی ہے۔

’جب لڈو سٹار آئی تو سب نے ایک بار تو ڈاؤن لوڈ کر کے ضرور کھیلی، اسی طرح صرف شغل میں ہی سہی، بلیو وہیل اور اس قسم کی ٹاسک والی گیمز سب ہی نوجوان ایک بار تو کھیلتے ہی ہیں۔ میں نے بھی تین چار ٹاسک پورے کیے لیکن پھر مزہ نہیں آیا تو کھیلنا چھوڑ دی۔ میری عمر کے بچے یہ گیمز ڈپریشن کے باعث نہیں کھیلتے، یہ تو محض ٹائم پاس ہے۔ ہم اپنے فون میں کیا کر رہے ہیں، اس پر کوئی پابندی نہیں اس لیے ایسی گیمز کا اپنا چارم ہوتا ہے۔ چیلنج پورے کرتے جاؤ تو ایک جیت کا نشا سا ہو جاتا ہے جس میں پھر کوئی پرواہ نہیں رہتی کہ آپ خود کو نقصان پہنچا رہے ہو یا کسی کو تکلیف۔‘

دوسری جانب کلینیکل سائیکولوجسٹ ماریہ مفتی کا کہنا ہے کہ سمجھ بوجھ کے باوجود نوجوان بلیو وہیل جیسے کھیل اس لیے کھیلتے ہیں کیونکہ ان کو توجہ چاہیے ہوتی ہے اور وہ زندگی میں بے سمت دوڑے جا رہے ہیں۔

’ایسے بچے تعلیمی نظام سے مایوس ہوتے ہیں تو فرسٹریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بلیو وہیل گیم کے چیلنجز سے خود کو نقصان پہنچا کر بھی انہیں کچھ پا لینے کا احساس ملتا ہے۔ میرے پاس ایسے بہت سے کیسز آتے ہیں اور عموماً میں نے پایا ہے کہ بچے یہ حرکتیں والدین اور دوستوں کی توجہ اور وقت حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اس کا واحد حل یہی ہے کہ ان منفی ٹاسک کے کشش کو کم کرنے کے لیے یا تو مثبت ٹاسک پر مبنی کوئی ایپلیکیشن بنائی جائے یا تعلیمی اداروں میں ایسی کوئی مہم یا کورس متعارف کروایا جائے۔ والدین کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھ کر سختی سے نہیں بلکہ دوستی سے بچوں کو اس گیم کی لت سے دور رکھنا ہو گا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں