احتساب عدالت میں نواز شریف،مریم اور ان کے شوہر پر فردِ جرم عائد

نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن صفدر تصویر کے کاپی رائٹ AFP/NA
Image caption سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف تو عدالت میں موجود نہیں تھے تاہم مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کمرہ عدالت میں موجود تھے

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نااہل قرار دیے گئے وزیر اعظم نواز شریف پر دو جبکہ ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر پر ایک ریفرنس میں فرد جرم عائد کردی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جمعرات کو جب عدالت میں فردِ جرم عائد کی گئی تو مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کمرہ عدالت میں موجود تھے تاہم سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی جگہ ان کی نمائندگی وکیل ظافر خان کر رہے تھے۔

ابتدا میں تینوں ملزمان پر لندن میں واقع فلیٹس کے مقدمے میں فردِ جرم عائد کی گئی جبکہ وقفے کے دوپہر کو نواز شریف کے خلاف العزیزیہ سٹیل مل ریفرنس میں بھی فردِ جرم عائد کر دی گئی۔

نواز شریف کے خلاف تیسرے فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں فردِ جرم جمعے کو عائد کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف، مریم اور صفدر پر فردِ جرم عائد: کب کیا ہوا؟

’تم آئی ایس آئی سے ہو یا ایم آئی سے‘

’آپ کی حاضری لگ گئی، اب آپ جاسکتے ہیں‘

نامہ نگار کے مطابق احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ملزمان کو فرد جرم پڑھ کر سنائی تو ملزمان اور ان کے نمائندے نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔

ملزمان نے یہ بھی کہا کہ اُن کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے اور انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے جا رہے۔

فرد جرم عائد ہونے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ یہ پہلا مقدمہ ہے جس میں فیصلہ پہلے سنایا گیا ہے اور ثبوت بعد میں اکھٹے کیے جا رہے ہیں۔

فرد جرم میں کہا گیا تھا کہ ملزمان کی طرف سے لندن فلیٹس کے بارے میں سنہ 2006 کا جو معاہدہ عدالت میں پیش کیا گیا ہے وہ جعلی ہے تاہم ملزمان نے اس سے انکار کیا۔

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے وکیل اور نمائندے ظافر خان نے عدالت کو بتایا کہ اُن کے موکل کا کہنا ہے کہ پاناما لیکس میں چونکہ ابھی تک دائر کی گئی نظرثانی کی درخواست پر سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ سامنے نہیں آیا اس لیے جب تک تفصیلی فیصلہ نہیں آجاتا اور تین گواہان جن کے نیب کے اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں، ان بیانات کی نقول فراہم نہیں کی جاتیں اس وقت تک فرد جرم کی کارروائی شروع کرنا بھی انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

عدالت نے لندن فلیٹس کے مقدمے میں سرکاری گواہ سدرہ منصور کو26 اکتوبر کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

Image caption پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے

فرد جرم عائد ہونے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ 'شفاف ٹرائل ایک بنیادی حق ہے اس کا تماشا نہ بنائیں۔ یہ پہلا مقدمہ ہے جس میں فیصلہ پہلے سنایا گیا ہے اور ثبوت بعد میں اکھٹے کیے جا رہے ہیں۔ میں کہہ چکی ہوں کے ایک ہی بار فیصلہ سنا دیں۔'

انھوں نے کہا کہ اگر ایک ٹیم ثبوت لینے اب لندن گئی ہے تو جے آئی ٹی کہ بڑے بڑے صندوقوں میں کیا تھا؟ انھوں نے مزید کہا کہ 'جنہوں نے احتساب کو انتقام بنایا اس احتساب کا بھی احتساب ہو گا۔'

سماعت سے پہلے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی طرف سے دو درخواستیں بھی دائر کی گئیں جو مکمل دستاویزات کی فراہمی تک فرد جرم کی کارروائی کو روکنے اور ان تین ریفرنسز کو ایک ہی ریفرنس بنانے سے متعلق تھیں۔

ان درخواستوں میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ چونکہ یہ تینوں ریفرنس کا ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اس لیے اُنھیں یکجا کرکے ایک ہی ریفرنس بنایا جائے۔

اس کے علاوہ ان درخواستوں میں یہ بھی استدعا کی گئی تھی کہ جب تک پاناما لیکس کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواستوں پر فیصلہ نہیں آجاتا اس وقت تک فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی روکی جائے۔

نیب کے حکام نے اس پر اعتراض اُٹھایا کہ اس طرح کی درخواستیں تاخیری حربےہیں تاہم مقدمے کی کارروائی کو التوا میں ڈالا جا سکے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد یہ درخواستیں خارج کر دیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں