وائس فار مسنگ پرسنز کے تقریباً دو ماہ سے لاپتہ کنوینر پنہل ساریو واپس گھر پہنچ گئے

پنہل ساریو تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK

پاکستان کے صوبہ سندھ میں وائس فار مسنگ پرسنز کے کنوینر اور انسانی حقوق کے کارکن پنہل ساریو واپس گھر پہنچ گئے ہیں جو چار اگست کو لاپتہ ہو گئے تھے۔

پنھل ساریو کی بیٹی ماروی ساریو نے بی بی سی سی بات کرتے ہوئے اپنے والد کی واپسی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس وقت آرام میں ہیں اس لیے بتا نہیں سکتے کہ انہیں کس نے حراست میں لیا اور کیسے رہا کیا۔

اس سے پہلے گذشتہ ماہ پنھل ساریو کی بیٹی ماروی ساریو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کی جنھیں رات بھر یہ ڈر سونے نہیں دیتا کہ آیا ان کے والد زندہ بھی ہیں یا نہیں۔

٭ ’پلیز میرے ابو واپس کردیں'

خیال رہے کہ چار اگست کو وائس فار منسگ پرسنز آف سندھ کی ڈپٹی کنوینر سورٹھ لوہر نے بی بی سی کو بتایا کہ پنہل ساریو شہر میں ادبی اور علمی سرگرمیوں کے مرکز ’خانہ بدوش‘ گئے تھے، جہاں سے وہ اپنے دوست کے ساتھ کار میں واپس آ رہے تھے کہ شام سات اور آٹھ بجے کے درمیان انھیں اٹھا لیا گیا۔

وائس فار مسنگ پرسنز کے کنوینر پنہل ساریو ’لاپتہ‘

'2016 میں 728 افراد لاپتہ ہوئے، تعداد چھ سال میں سب سے زیادہ'

ان کا کہنا تھا کہ ’ایک ڈبل کیبن گاڑی میں سوار چار افراد جنھوں نے سیاہ رنگ جیسا لباس پہن رکھا تھا، پنہل ساریو کی گاڑی کو روکا اور انھیں زبردستی اپنی گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔‘

ایس ایس پی حیدرآباد امجد شیخ نے واضح کیا کہ پنہل ساریو پولیس کی زیر حراست نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK

سندھ میں ایک درجن سے زائد سیاسی کارکن لاپتہ ہیں، جن میں جئے سندھ متحدہ محاذ اور جئے سندھ قومی محاذ آریسر گروپ کے کارکن شامل ہیں۔

پنہل ساریو نے پچھلے دنوں وائس فار مسنگ پرسنز کی بنیاد رکھ کر لاپتہ افراد کی خاندانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا تھا۔

انھوں نے حیدرآباد اور کراچی میں کئی روز تک بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے جبکہ گذشتہ حیدر آباد سے کراچی تک پیدل لانگ مارچ بھی کیا تھا۔

لاپتہ افراد کے لیے کمیٹی برائے انسانی حقوق سے رجوع کا فیصلہ

پنہل ساریو طالب علمی کے زمانے سے سندھ کی سیاست میں سرگرم رہے۔ انھوں نے جئے سندھ تحریک سے سیاست کی ابتدا کی بعد میں سندھ ترقی پسند پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور تقریبا ایک دہائی کے بعد سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

انھوں نے سندھ میں کسانوں کے حقوق کے لیے سندھ ہاری تنظیم کی بنیاد ڈالی اور دیگر تنظیموں کے ساتھ ٹیننسی ایکٹ میں ترامیم کے لیے حیدر آباد سے کراچی تک کسانوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ لانگ مارچ کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں