کیا اس بچی کے پاس پاکستان کے کچرے کے مسئلے کا حل ہے؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
زیمل کے زی بیگز کچرے کے مسئلے کے حل کی کوشش

’اگر لوگ کوڑا پھینکنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے سوچیں تو شاید وہ ماحول کا خیال رکھتے ہوئے اسے (لاپروائی سے ادھر ادھر) پھینکنے سے گریز کریں۔‘

دس سالہ زیمل عمر سرگودھا کے مضافات میں کوڑے کے ڈھیر کے قریب کھڑی ہیں۔ انھیں ملک کی سب سے کم عمر سماجی کاروباری شخصیت قرار دیا گیا ہے لیکن ان کے پاس اس مسئلے کا کوئی حل موجود ہے؟

فی الحال تو تاحدِ نظر رنگ برنگے پلاسٹک بیگ، اور دوسری قسم کا کچرا نظر آ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’برفانی سٹوپا‘ سے پانی کے مسئلے کا حل؟

کیا یہ ذرے پانی سے زہر نکال سکتے ہیں؟

نمونیا سے بچاؤ میں مددگار شیمپو کی بوتل

کوڑے کو آگ لگائی گئی ہے جس سے ابھی تک دھواں اٹھ رہا ہے اور فضا میں تیز بدبو پھیلی ہوئی ہے۔

پاکستان میں ہر شہر اور قصبے کی یہی کہانی ہے۔

ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کے مطابق ملک میں ہر سال دو کروڑ ٹن کچرا اکٹھا ہو جاتا ہے جس میں ہر سال 2.4 فیصد کا اضافہ ہو رہا ہے۔

لاپروائی

زیمل کہتی ہیں کہ ’پاکستان میں تحلیل ہو جانے والے لفافے استعمال نہیں کیے جاتے اور لوگ بڑی لاپروائی سے انھیں ادھر ادھر پھینک دیتے ہیں۔ انھیں ری سائیکلنگ کا کوئی احساس نہیں ہے۔‘

Image caption زیمل پرانے اخباروں کو رنگین لفافوں میں تبدیل کر دیتی ہیں

پاکستان میں کوڑے کو ٹھکانے لگانے کا کوئی واضح نظام موجود نہیں ہے۔ سب سے عام طریقہ کوڑے کو پھینک دینا یا جلا دینا ہے، اور گلی محلوں میں بکھرا ہوا کوڑا صحت کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

خوبصورت لفافے

اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے زیمل نے ’زی بیگ‘ ایجاد کیے ہیں۔ وہ پرانے اخباروں سے خوبصورت اور رنگین لفافے بناتی ہیں جنھیں خاندان کے لوگوں اور دوستوں کو بیچا جاتا ہے اور منافع مختلف مقامی خیراتی اداروں کو عطیہ کر دیا جاتا ہے۔

یہ کام شروع کرنے کے صرف تین برس کے اندر اندر اب وہ چار سے پانچ لاکھ روپے کے لفافے بیچ لیتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے یوٹیوب سے لفافے بنانا سیکھا۔ سکول کے دنوں میں ان پر کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے اس لیے میں اختتامِ ہفتہ یا چھٹیوں میں اپنے کزنوں کے ساتھ مل کر لفافے بناتی ہوں۔ میرے والد اور دادا سامان خریدنے میں میری مدد کرتے ہیں۔ ان کے بغیر اس پروجیکٹ کو چلانا مشکل ہو جاتا۔‘

زیمل جن اداروں کو عطیہ دیتی ہیں ان میں یتیم بچوں کی دیکھ بھال کرنے والا ادارہ ایس او ایس چلڈرنز ولیج بھی شامل ہے۔

Image caption زیمل اپنے منافعے سے ضرورت مند بچوں کی مدد کرتی ہیں

’میں اپنی آمدنی سے رنگ، واشنگ مشینیں، بیٹریاں اور اس قسم کی دوسری چیزیں خریدتی ہوں۔ ان کے چہروں پر خوشی دیکھ کر مجھے بہت اطمینان اور اپنا کام جاری رکھنے کی تحریک ملتی ہے۔‘

زیمل کے کام کو میڈیا کی طرف سے کافی توجہ ملی ہے اور انھیں ’پاکستان کی سب سے کم عمر سماجی کاروباری شخصیت‘ کہا جاتا ہے۔

اعزازات

زی بیگز کو پاکستان، سعودی عرب اور امریکہ میں کئی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔

Image caption زایمل کہتی ہیں کہ ان کے کاروبار میں پھلنے پھولنے کے امکانات موجود ہیں

اب انھوں نے لفافے آن لائن بھی بیچنا شروع کر دیے ہیں جن سے ان کا کاروبار مزید وسعت اختیار کر گیا ہے۔

’پاکستان میں کہا جاتا ہے کہ لڑکیاں خود سے کوئی کام نہیں کر سکتیں، لیکن مجھے کسی قسم کی مشکل پیش نہیں آئی اور میں اپنا کام جاری رکھوں گی۔ میں بزنس وومن بننا چاہتی اور اپنا کاروبار مزید پھیلانا چاہتی ہوں اور اس میں دوسروں کی بنائی ہوئی چیزیں بھی رکھنا پسند کروں گی۔

’میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ اپنا پروجیکٹ پاکستان ہی میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں پھیلایا جائے۔‘

کلثوم لاکھانی ابھرتے ہوئے کاروباری اداروں کی مدد کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ملک کو کاروباری شخصیات کی اشد ضرورت ہے۔ ’ہمارے ہاں بہت زیادہ امکانات موجود ہیں۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ان امکانات کو پھلنے پھولنے میں کیسے مدد کی جائے اور خاص طور پر نوجوانوں کا کیسے کاروبار کو توسیع دینے میں ہاتھ بٹایا جائے۔‘

پاکستان نے ماحولیات کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومتی اور عوامی سطح پر کام شروع کر دیا ہے اور اس ضمن میں قانون سازی بھی کی گئی ہے۔

تاہم یہ کوششیں ابھی تک مربوط نہیں ہوئیں، اور سیاسی اور سلامتی کے مسائل کی وجہ سے ماحولیات کا مسئلہ اولین ترجیج نہیں بن سکا۔

Image caption زیمل سکول کے کام کی وجہ سے اختتامِ ہفتہ یا چھٹیوں ہی میں لفافے بناتی ہیں

اس سے زیمل کو اور بھی تیزی دکھانے کی تحریک ملتی ہے۔

انھیں امید ہے کہ ان کے کام سے لوگ ماحولیات کے بارے میں سوچنا شروع کر دیں گے اور اس کا خیال رکھیں گے۔

’یہ ضروری ہے تاکہ مستقبل کی نسلیں صاف و سلامت دنیا میں رہ سکیں۔ میں یہ کہنے کے قابل ہونا چاہتی ہوں کہ میں نے اپنا کام کر دیا ہے اور اب دوسروں کی باری ہے۔‘


بی بی سی انو ویٹرز جنوبی ایشیا میں مختلف مسائل اور چیلنجز کو حل کرنے کے انوکھے ذرائع کے بارے میں سیریز ہے۔

کیا آپ نے کبھی لفظ 'جگاڑ' سنا ہے؟ اس کا مطلب ہے سستا حل۔

اگر آپ نے کوئی ایسی انوکھا حل تخلیق کیا ہو تو ہمیں yourpics@bbc.co.uk پر تصویر بھیجیں اور ہمارے ٹوئٹر ہینڈل @ BBCUrdu پر ہیش ٹیگ #BBCInnovators اور #Jugaad کے ساتھ ہمیں ٹویٹ کریں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں