نواز شریف پر فلیگ شپ ریفرنس میں بھی فرد جرم عائد

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عہدے سے معزولی کے بعد ملک کے آئین میں ترمیم کے بعد نواز شریف مسلم لیگ ن کے دوبارہ صدر منتخب ہو ئے

پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف پر اسلام آباد کی احتساب عدالت نے آف شور کمپنیوں سے متعلق 'فلیگ شپ انویسٹمینٹ' ریفرنس میں فرد جرم عائد کر دی ہے تاہم انھوں نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز جعمرات کو نواز شریف ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر پر فرد اوین فیلڈ فلیٹس سے متعلق ریفرنس میں فرد جرم عائد کی گئی تھی جبکہ شریف کے خلاف دائر العزیزیہ ریفرنس میں بھی ان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

سابق وزیراعظم جو کہ ملک میں حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے صدر بھی ہیں اس وقت اپنی اہلیہ کلثوم نواز کی علالت کی وجہ سے لندن میں مقیم ہیں۔

جمعرات کی طرح آج جمعے کو بھی ان پر فرد جرم ان کی غیر موجودگی میں ہی عائد کی گئی۔ اس موقع پر ان کے وکیل ظافر خان نے صحت جرم سے انکار کیا۔

احتساب عدالت میں نواز شریف،مریم اور ان کے شوہر پر فردِ جرم عائد

نواز شریف کس نکتے پر نااہل ہوئے؟

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جمعے کو پیش کی جانے والی چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کے بیٹے حسن اور حسین نواز سنہ 1989 سے لے کر 1999 تک والد کے زیر کفالت تھے جبکہ حسن نواز نے 90 سے 99 تک کے اثاثوں کی تفصیلات دی ہیں۔

اس چارج شیٹ میں آف شور کمپنیوں کا ذکر بھی ہے اور نواز شریف ملک عوامی عہدہ رکھنے کے باوجود سنہ 2007 سے 2014 تک اس کے چیئرمین رہے۔

فرد جرم میں کیا ہے؟

  • حسن نواز فلیگ شپ کمپنی کے ڈائریکٹر تھے اور انھوں نے مہنگی جائیدادیں خریدیں۔
  • ملزمان اپنے اثاثوں کی قانونی حیثیت ثابت کرنے میں ناکام رہے۔
  • نواز شریف متعدد مواقع ملنے کے باوجود اثاثوں کے ذرائع ثابت کرنے میں ناکام رہے اور کرپشن کے مرتکب پائے گئے۔
  • نواز شریف کرپشن کے مرتکب پائے گئے۔
  • نواز شریف کرپشن الزامات پر سزا کے مستحق ہیں۔
  • نیب قوانین کے مطابق نواز شریف کا فعل قابل سزا جرم ہے۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نے کسی بھی کمپنی سے تنخواہ نہیں لی تھی تاہم انھیں سپریم کورٹ نے ان کے عہدے سے فارغ کر دیا تھا۔

عدالت میں نیب حکام نے نواز شریف کے دونوں بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز کے حوالے سے رپورٹ بھی دائر کی ہے اور بتایا ہے کہ وہ انھیں گرفتار کرنے میں ناکام رہے ہیں عدالت انھیں اشتہاری قرار دے۔

حکمراں جماعت کے مطابق سابق وزیراعظم 21 اکتوبر کو لندن سے پاکستان پہنچیں گے اور اپنے خلاف دائر کیے گئے تینوں ریفرنسز میں پیش ہوں گے۔

اسی بارے میں