’حکومتیں قیدیوں کا مسئلہ حل کرنے میں سنجیدہ نہیں: ناصر اسلم زاہد

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption دونوں حکومتوں کی عدم دلچسپی کے باعث یہ عدالتی کمیٹی کئی برس سے عضو معطل بن کر رہ گئی ہے

پاکستان اور انڈیا کی جیلوں میں قید ماہی گیروں اور دوسرے قیدیوں کا مسئلہ حل کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل عدالتی کمیٹی کے رکن جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد نے کہا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کی حکومتیں یہ مسئلہ حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔

* سمندر پار قید ماہی گیروں کے اہلخانہ کا درد

بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا ’اگر کوئی بڑا مسئلہ ہوتا جس میں دونوں ملکوں کی حکومتوں کو مالی یا سیاسی فائدہ ہوتا تو پھر اس طرف ضرور توجہ دی جاتی لیکن جیلوں پر پڑے لوگ اسحٰق ڈار یا آصف زرداری نہیں ہیں اس لیے کوئی بھی حکومت ان کی طرف توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔‘

بی بی سی کی طرف سے دونوں ملکوں میں قید ماہی گیروں کے بارے میں خصوصی رپورٹ پر بات کرتے ہوئے پاکستان اور انڈیا کے مشترکہ کمیشن کے رکن نے کہا کہ دونوں ملکوں کی حکومتوں نے یہ مشترکہ کمیشن بنا تو دیا تھا لیکن اس کی تجاویز کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

پاکستان اور انڈیا نے قریباً دس برس قبل جامع مذاکرات کے تحت دونوں ملکوں میں قید ایک دوسرے کے شہریوں، خاص طور پر ماہی گیروں کی رہائی اور ان کی حالت بہتر بنانے کے لیے ایک عدالتی کمیٹی بنائی تھی جس میں دونوں ملکوں سے چار چار ریٹائرڈ ججوں کو شامل کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پکڑے جانے کی صورت میں مچھیروں پر دوسرے ملک میں مچھلی چوری کا الزام لگتا ہے جس کی زیادہ سے زیادہ سزا دونوں ملکوں میں ایک سال ہے

اس کمیٹی نے دونوں ملکوں کی متعدد جیلوں کے دورے کیے اور وہاں قید دوسرے ملک کے شہریوں سے ملاقاتیں کیں اور ان میں سے بعض کو رہائی بھی دلوائی۔

لیکن پھر دونوں حکومتوں کی عدم دلچسپی کے باعث یہ کمیٹی کئی برس سے عضو معطل بن کر رہ گئی ہے۔ چار سالوں سے اس کا کوئی اجلاس نہیں ہوا اور اس کمیٹی نے قیدیوں کی رہائی اور ان کے حالات کی بہتری کے لیے جو چند تجاویز دیں ان پر بھی عمل نہیں ہوا۔

جسٹس ناصر اسلم زاہد نے کہا کہ ان کی کمیٹی نے قیدیوں کی حالت زار بہتر بنانے اور ماہی گیروں کو گرفتاری سے بچانے کے لیے بہت سی تجاویز دی تھیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ماہی گیروں کے خاندان ان کی رہائی کے لیے بے تاب ہیں

’ایک مسئلہ دوسرے ملک میں گرفتار ماہی گیروں کی قومیت طے کرنے کا ہوتا ہے۔ اس کام میں ایک سال تک لگ جاتا ہے۔ ہم نے اس مرحلے کو آسان اور تیز بنانے کا کہا تھا لیکن اس پر عمل نہیں ہوا۔‘

جسٹس ناصر اسلم نے کہا کہ اس کمیٹی نے ان قیدیوں کے لیے ایک مستقل کمیشن بنانے اور مچھیروں کے لیے بحری جہازوں پر ہی عدالتیں بنا کر فوری فیصلے کرنے کی تجویز دی تھی۔

’پکڑے جانے کی صورت میں مچھیروں پر دوسرے ملک میں مچھلی چوری کا الزام لگتا ہے جس کی زیادہ سے زیادہ سزا دونوں ملکوں میں ایک سال ہے لیکن اس مقدمے کے شروع ہونے ہی میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔‘

عدالتی کمیٹی کے رکن نے کہا کہ انڈیا اور پاکستان کی حکومتیں ان غریب لوگوں کے اس اہم مسئلے کو جب تک سنجیدگی سے نہیں لیں گی، دونوں ملک کے قیدی ایک دوسرے کی جیلوں میں یونہی سڑتے رہیں گے۔

اسی بارے میں