سوشلستان یا غائبستان

احسن اقبال تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وفاقی وزیرِ داخلہ احسن اقبال اور وزیرِ ریلوے خواجہ سعد رفیق کو سوشل میڈیا پر ٹیگ کر کے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور پوچھا جا رہا ہے کہ یہ لاپتہ کارکن کون اور کیوں اٹھا رہا ہے۔

سوشلستان ان دنوں غائبستان بنتا جا رہا ہے جہاں لوگ 'خاموشی' کو بولنے پر ترجیح دینے لگے ہیں ۔ میڈیا پر برا وقت آنے کی پیشین گوئیاں تو عرصے سے جاری تھیں مگر فغاں جاری ہے کہ میڈیا کی طرح سوشل میڈیا کی زباں بندی کی کوششیں عروج پر ہیں۔ ’کچھ پتا نہیں کہ کون سی ٹویٹ آپ کی آخری ٹویٹ ثابت ہو‘۔ تو اس ہفتے کے سوشلستان میں ہم اسی پر بات کریں گے۔

'حکومت ایک ہی وقت میں ہیرو اور ولن بنی ہوئی ہے‘

پاکستان میں اس وقت برنگ بیک تنولی صفِ اول کا ٹرینڈ ہے جس میں پاکستان مسلم لیگ ن کے ایک کارکن کی واپسی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جو گذشتہ دنوں سے لاپتہ ہیں۔

جہاں عمومی صورتحال زیرِ بحث ہے وہیں مسلم لیگ ن کی حکومت پر یہ کہہ کر بھی تنقید کی جا رہی ہے 'کہ تکلیف دِہ بات یہ ہے ’کہ حکومت پی ایم ایل ن کی ہے۔'

اسی نکتے پر بات کرتے ہوئے عاقب نے ٹویٹ کی کہ 'حکومت ایک ہی وقت میں ہیرو اور ولن بنی ہوئی ہے۔ عام شہری قیمت ادا کر رہے ہیں۔'

جبکہ محسن حجازی نے حکومت پر چوٹ کرتے ہوئے لکھا 'جہاں قانون کی بالادستی کے واشگاف دعوے کیے جا رہے ہیں وہیں پاکستان میں کے مختلف حصوں سے شہری غائب ہو رہے ہیں۔'

دوسری جانب اس مہم کے پیچھے کارفرما عزائم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے منصور نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ 'ہم دنیا کا سب سے بڑا گونگے بہروں کا ملک بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں اس کارِ خیر میں آپ بھی اپنا تعاون شامل کیجیے۔'

اور ساتھ ہی سوال کا جو بہت ذہنوں میں ہے کہ 'اسی ٹوئٹر پر جہاں کالعدم تنظیموں کے اکاؤنٹ چلتے ہیں، ویڈیو بیانات آتے ہیں وہاں پر عام آدمی سیاست پر تبصرہ بھی نہیں کر سکتا؟'

آصف صفدر نے حکومت سے سوال کیا کہ 'ہمارا تو ویسے بھی ہمیشہ سے مطالبہ ہے کہ ن لیگ اگر بے بس ہے تو حکومت چھوڑ دے یا قبول کرے کہ بندے ن کی مرضی سے اٹھائے جا رہے ہیں۔'

بلڈی سویلین نام کے ٹوئٹر ہینڈل نے تو یہ تک لکھ ڈالا کہ 'ن لیگ اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کے ڈرامے کرتی ہے اور آخر میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہوتی ہے۔'

درویش کے ہینڈل سے ٹویٹ کی گئی کہ 'کیا ڈاکٹر فیصل، طلعت عمیر، کامی، بلال اور عادی تنولی کا جرم آئین توڑنے، پی ٹی وی یا پارلیمان پر حملے سے زیادہ بڑا جرم تھا؟'

آخر میں کامران یوسف کا تبصرہ کچھ یوں ہے 'اس طرح کی حرکتوں سے باغی جنم لیتے ہیں اور واجد رسول نے لکھا کہ „آپ ایک بات سمجھ لیں کہ آپ ساری قوم کو خاموش نہیں کرا سکیں گے۔'

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بھارتی ماہی گیر جنہیں پاکستانی حکام نے پاکستان کی سمندری حدود میں آنے کی وجہ سے گرفتار کیا۔ سینکڑوں ماہی گیر ہر سال سرحد کے دونوں جانب جیلوں میں اپنا وقت گزارتے ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption لاہور کے قریب واقع رائیونڈ کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے باہر سمیرا بی بی نے اپنے بچے کو جنم دیا کیونکہ انہیں ایک ہیلتھ ورکر نے ہسپتال سے واپس لوٹا دیا تھا۔
تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کی مقامی فٹبال فیڈریشن کے اراکین ملک کی قومی فٹبال فیڈریشن کی فیفا کی جانب سےمعطلی کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں