ہسپتال کی سیڑھیوں پر بچوں کا جنم

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption رائیونڈ کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے باہر سمیرا بی بی نے اپنے بچے کو جنم دیا کیونکہ انہیں ایک ہیلتھ ورکر نے ہسپتال سے واپس لوٹا دیا تھا۔

صوبے پنجاب میں ہپستال کی سیڑھیوں پر بچے کو جنم دینے کا دوسرا واقعہ جمعہ کو لاہور کے مشہور سر گنگا رام ہسپتال کے باہر پیش آیا۔ اس سے پہلے اسی ہفتے پیر کو رائےونڈ کے تحصیل ہیڈکواٹر ہسپتال میں بھی ایسا ہی تکلیف دہ واقعہ پیش آیا تھا۔

اس حوالے سے ہم نے بی بی سی اردو کے فیس بُک پیج پر ایک پوسٹ شائع کیا جس میں ہم نے اپنے پڑھنے والوں سے کہا کہ وہ سرکاری ہسپتالوں کے بارے میں اپنے تجربات اور تاثرات ہمیں بھیجیں۔

قارئین کی اکثریت نے سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار، طبی سہولیات کے فقدان پر اپنی رائے ہمیں بھیجی، وہیں طبی شعبے سے وابستہ عملے اور ڈاکٹروں نے بھی اپنا موقف بھی پیش کیا۔

پاکستان میں طبی سہولیات کے فقدان سے صرف دور دراز کے علاقوں تک محدود نہیں بلکہ بڑے بڑے شہروں میں بھی لوگوں کو ایسے ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ہمارے ایک قاری، فاروق مری نے لکھا کہ 'آپ کوہلو بلوچستان آئیں تو آپ کو ایسا لگے گا کہ یہاں سرکاری ہسپتال ہے ہی نہیں۔ دوپہر دو بجے کے بعد ضلع ہیڈکواٹر ہسپتال میں آپ کو کوئی سٹاف یا ڈاکٹر نظر نہیں آئے گا، جو کہ افسوس ناک بات ہے۔ غریب مریض کہاں جائیں۔ ہم کئی دفعہ سانپ کے کاٹنے کے کیس کی وجہ سے وہاں گئے، لیکن کوئی بھی ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔ نااہلی کا یہ عالم ہے کہ وہاں بجلی تک نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر صاحبان ہسپتال کے قریب کالونی میں ہی رہتے ہیں مگر ہسپتال میں حاضر نہیں ہوتے۔ اور کیا بتائیں۔۔'

تصویر کے کاپی رائٹ ARIF ALI
Image caption ہمارے فیس بک پوسٹ پر ہمیں بہت آرا موصول ہوئیں۔

اسی طرح ملک محمد عمران نے لکھا، 'ایک دفعہ مجھے سرجری کے لیے ضلع ہسپتال گجرات جانا پڑا۔ مگر وہاں بستر کی حالت اتنی بری تھی۔ اس پر بیڈ شیٹ کے نیچے خون تھا۔ مجھی کچھ گیلا گیلا محسوس ہوا، تو چیک کروایا۔ صورت حال اتنی خراب تھی کہ جس دن میری سرجری ہونی تھی میں اسی دن نجی ہسپتال میں شِفٹ ہو گیا۔'

عاصمہ خزر چٹھا نے بھی ایک سرکاری ہسپتال میں اپنے تجربات کے بارے میں ہمیں بتایا۔ انہوں نے لکھا کہ 'ایک مرتبہ مجھے محسوس ہوا میرے دل کی دھڑکن بہت تیز ہے، بائیں بازو میں درد کے ساتھ ساتھ سانس لینے میں بھی مسئلہ ہو رہا تھا۔ میں لاہور کے جناح ہسپتال کے ایمرجنسی وارڑ میں گئی۔'

ان کا کہنا تھا کہ وہاں انہیں محض درد کے لیے ٹیکا دے کر واپس بھیجا جا رہا تھا لیکن انہوں نے اصرار کر کے اپنا چیک اپ کروایا، جس کے بعد پتہ چلا کہ انہوں مزید ٹیسٹس کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'مجھ میں تھوڑی سی ہمت تھی جو میں اصرار کرتی رہی۔ ایک عام انسان جو بھی سرکاری ہسپتال میں جائے اس کو بس پین کلر دو، وقتی طور پرٹھیک کرو، جب تک وہ تشویش ناک حالت میں بیمار ہو کر نہ آئے تب تک وہ نارمل ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ RIZWAN TABASSUM
Image caption اپنے پیغام میں طارق محمود نے وسائل کی کمی کی طرف توجہ دلائی ہے۔ (فائل فوٹو)

اس طرح کے پیغامات کے ساتھ ساتھ ہمیں طارق محمود کا بھی پیغام موصول ہوا۔ انہوں نے لکھا کہ 'اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ناانصافی ہے۔ مگر یہ تصویر کا صرف ایک پہلو ہے۔ میں اس وقت ایک ضلع ہیڈ کواٹر ہسپتال میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر ہوں۔ پندرہ لاکھ افراد کی آبادی کے لیے ہمارے ہسپتال کے زچہ اور بچہ وارڈ میں صرف تئیس بیڈ ہیں۔ میں نے بیڈز کو ایک دوسرے کے قریب کرکے مزید آٹھ بیڈ لگائے۔

اس کے بعد نرسوں کے لیے مخصوص ایک کمرے کو خالی کرکے اس میں مزید چار بیڈ لگائے۔ آپ کو کیا لگتا ہے کیا اب بھی یہ کافی ہیں؟ بالکل نہیں۔ اب مجھے یہ بتائے کہ اگر ایک ایک بیڈ میں پہلے سے دو دو مریض ہوں تو ہسپتال انتظامیہ کرے تو کیا کرے؟ پچھلے دو سال سے میں متعلقہ حکام سے گزارش کر رہا ہوں کہ زچہ و بچہ اور بچوں کے لیے ایک سو بیڈز کا وارڈ بنایا جائے، مگر اب تک ناکام رہا ہوں۔'

اسی بارے میں