تقسیمِ برصغیر کے 70 سال: جب قبائلی جنگجوؤں نے کشمیر پر دھاوا بولا

قبایلی جنگجو، پٹھان تصویر کے کاپی رائٹ Margaret Bourke-White/The LIFE Picture Collection/
Image caption اس تصویر میں واضح ہے کہ قبائلی پٹھان 1947 میں جنگ پر جانے سے قبل ٹرکوں اور اسلحے کا انتظار کر رہے ہیں

پاکستانی شہر گڑھی حبیب اللہ کے مغرب اور کشمیر کے شہر مظفر آباد کے مشرق میں 18 سو فٹ بلندی پر واقع ڈب گلی اکتوبر کی صبح خاموش اور پر امن نظر آ رہی تھی۔

کشمیر اور پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقے پر قائم حفاظتی رکاوٹوں پر سڑک کے دونوں اطراف تقریباً دو درجن دکانیں ہیں۔

اس بات کا کوئی بھی ثبوت نہیں ہے کہ جن عسکریت پسند پٹھان قبائلی جنگجوؤں نے 70 سال قبل کشمیر پر حملہ کیا تھا وہ اسی جگہ سے خطے میں داخل ہوئے تھے۔ یہ حملہ بعد میں دنیا کا سب سے زیادہ گھمبیر علاقائی تنازع بن گیا تھا۔

* ’11 ماہ تک محصور رہ کر لڑتے رہے‘

* تیراہ کے ایک قبائلی کی ’بمبئی‘ کی یادیں

* ’پہلے ریاست حائل تھی اور اب شدت پسندی‘

لیکن 86 سالہ مقامی دیہاتی محمد حسن قریشی کو وہ طوفانی دن اچھی طرح یاد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پٹھانوں کے آنے سے ایک ہفتہ قبل، یہ افواہیں تھیں کشمیری سکھ (جن کی علاقے میں خاصی آبادی تھی) مظفر آباد پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، کچھ ہی دن بعد ہم نے سنا کہ پٹھان آ رہے ہیں۔‘

Image caption محمد حسن قریشی نے سیکڑوں پٹھانوں کو کلہاڑیاں اور تلواریں تھامے دیکھا

افواہیں اڑنا قدرتی بات تھی، کیونکہ وہ ان پریشانیوں کے دوران سنائی دے رہی تھیں جو تین جون کے منصوبے کے اعلان کے بعد پیش آ رہی تھیں اور ان سے کشمیر جیسی شاہی ریاست ہل کر رہ گئی تھی۔

اس منصوبے کے تحت، ہندو اکثریتی علاقے یعنی برطانوی انڈیا کو تقسیم کرکے مسلمان ریاست پاکستان بنائی جانی تھی۔

نوابی ریاست کشمیر کی قسمت کا فیصلہ ابھی ہوا میں تھا جہاں اکثریت مسلمانوں کی تھی لیکن حکمران ہندو تھے۔

ریاست کے مغربی اضلاع میں موجود مسلمانوں نے حکمران مہاراجاؤں کے خلاف جون میں بغاوت کی اور پھر ستمبر میں جنوبی کشمیر میں مسلمان کش فسادات شروع ہو گئے۔

افشا کیے جانے والے پاکستانی منصوبے کی بھی اطلاعات تھیں کہ جس میں 20 ہزار قبائلی جنگجوؤں کو کشمیر پر حملہ کرکے اس کے الحاق کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔

محمد حسن قریشی کو 21 اکتوبر کی شام یاد ہے جب وہ اپنے چند دوستوں کے ہمراہ ایک چوٹی پر چڑھے تاکہ مغربی وادی کی صورتحال کا جائزہ لے سکیں۔ انھوں نے دیکھا کہ پٹھان ٹرکوں پر سوار بتراسی پہاڑیوں کے راستے گڑھی حبیب اللہ میں داخل ہو رہے ہیں۔

* ’بریڈلو ہال لاہور کی تاریخ کا موتی ہے‘

* گڑگاؤں میں ڈیرہ اسماعیل خان کی یادیں

* ایک دوسرے پر جان چھڑکتے بھارت اور پاکستان

ان کے مطابق ’ہم نے وہاں ساری رات انتظار میں گزاری۔ وہ علی الصبح وہاں پہنچے۔ وہ سینکڑوں کی تعداد میں تھے۔ زیادہ تر کے ہاتھوں میں کلہاڑیاں اور تلواریں تھیں۔ چند کے پاس مشکیں تھی دیگر کے پاس لاٹھیاں۔ حفاظتی رکاوٹوں پر موجود مہاراجہ کے محافظ غائب ہو چکے تھے۔‘

سب سے پہلے جھڑپیں مظفر آباد کے راستے میں ہوئیں جو آٹھ کلومیٹر طویل اتھاہ ڈھلوان ہے۔

Image caption مظفرآباد کا منظر۔ دریائے نیلم مرکزی شہر اور پہاڑی پر بنے مکانات کے درمیان سے گزر رہا ہے

گڑھی حبیب اللہ سے 80 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع بٹاگرام سے تعلق رکھنے والے گوہر رحمان جنگ عظیم دوئم کا تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ان جنگجوؤں میں شامل تھے جو ڈب گلی پار کرکے کشمیر میں داخل ہوئے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم اس علاقے کو بہت اچھی طرح جانتے تھے لہٰذا ہم نے ایک گروپ کی رہنمائی کی اور ایک مختصر راستے سے پیدل عبور کیا۔ زیادہ تر سرحدی قبائلی جن میں وزیر، محسود، طوری، آفریدی، مہمند اور مالاکنڈ کے یوسف زئی شامل تھے بسوں اور ٹرکوں کے ذریعے لوہار گلی والے لمبے مگر آسان راستے سے گئے تھے۔‘

تقریباً 2000 قبائلیوں نے علی الصبح مظفرآباد پر دھاوا بولا اور وہاں تعینات کشمیر ریاستی فوج کو آسانی سے بکھیر کر رکھ دیا۔ فوجی تاریخ دانوں کا اندازہ ہے کہ وہ صرف پانچ سو فوجی تھے جنھیں مسلمان فوجیوں کی بغاوت کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔ فتح حاصل کرنے کے بعد قبائلیوں نے نیچے جا کر آگ لگائی اور لوٹ مار کی۔

گوہر رحمان کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے ریاستی اسلحہ خانے کو لوٹ لیا، پورے بازار کو آگ لگا دی اور اشیا کو لوٹ لیا۔‘

ان کے مطابق ’قبائلی جنگجوؤں نے ہر اس شخص کو گولی مار دی جو کلمہ نہیں پڑھ سکا۔ کئی غیر مسلم خواتین کنیز بنا لی گئیں اور کئی نے قید سے بچنے کے لیے دریا میں چھلانگ لگا دی۔‘

گلیاں تباہی کا نشان بن گئی تھیں، تباہ شدہ عمارتیں، دکانوں کا ٹوٹا سامان، نذز آتش کیے جانے والے سامان کی راکھ اور قبائلی جنگجوؤں سمیت ریاستی فوجیوں اور مقامی افراد کی لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ دریا میں بھی لاشیں تیرتی دکھائی دے رہی تھیں۔

چھاپہ ماروں نے مظفر آباد میں تین دن گزارے اور اس سے پہلے کہ حواس بحال ہوتے، رہنماؤں نے ان پر زور دیا کہ وہ سری نگر کی جانب سفر شروع کریں جو کہ ریاست کا دارالحکومت ہے اور 170 کلومیٹر مشرق کی جانب واقع ہے۔

یہاں سے ایک گروپ ٹرکوں میں نیچے دریائے جہلم کی جانب روانہ ہوا، سکون سے اوڑی پار کیا اور بارہ مولا پہنچ گئے جہاں ایک بار پھر آگ لگائی گئی اور لوٹ مار کی گئی۔

Image caption گوہر رحمان کے مطابق قبائلیوں نے مظفرآباد میں داخل ہونے کے بعد غیر مسلمان افراد کو قتل کر دیا

گوہر رحمان قبائلیوں کے اس گروپ میں تھے جس نے پیدل 200 کلومیٹر کا سفر طے کیا اور بغیر کسی رکاوٹ کے سری نگر کے مضافات تک پہنچ گئے تھے۔

انھیں کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ مہاراجہ کی فوج بکھر چکی تھی اور ہندوؤں اور سکھوں نے اپنے گاؤں خالی کر دیے تھے۔ راستے میں ان کی ملاقات صرف مسلمانوں سے ہوئی تھی۔

گوہر رحمان کا کہنا ہے کہ ’مسلمان خواتین نے کئی بار ہمیں کھانے کی چیزوں کی پیش کش کی لیکن پٹھان انھیں قبول کرنے سے اس خیال کے تحت ہچکچا رہے تھے کہ کہیں اس میں زہر نہ ہو۔ اس کے بجائے وہ ان لوگوں کے مویشیوں پر قبضہ کر کے انھیں ذبح کرنے ان کا گوشت بھون کرکے کھانا چاہتے تھے۔‘

ایک رات ان کی لگائی آگ نے جنگی طیارے کو متوجہ کر لیا جس نے بمباری کی اور اس میں کئی قبائلی ہلاک ہوگئے۔ جنگل کا بڑا علاقہ لاشوں سے اٹ گیا۔

ان کو بے نقاب کرنے کے بعد مہاراجہ نے ہندوستان کے ساتھ منسلک ہونے کی دستاویز پر دستخط کیے۔ 26 سے 30 اکتوبر کے دوران انڈیا نے اپنے کافی فوجیوں کو سری نگر بھیجا تاکہ وہ وہاں قبائلی جنگجوؤں کے خلاف توازن الٹ سکیں۔

قبائلیوں کو اس وقت بھی عددی برتری تو حاصل تھی لیکن وہ پیادہ فوجی حکمتِ عملی کے بجائے گوریلا جنگ کے زیادہ عادی اور ماہر تھے۔

اس موقع پر پاکستان کی قبائلیوں کی مدد کے لیے سری نگر پر باقاعدہ حملہ کرنے کی کوشش برٹش جوائنٹ کمانڈ کی مخالفت کی وجہ سے ناکام رہی جس میں اس وقت تک انڈیا اور پاکستان کی فوجی تقسیم نہیں ہوئی تھی۔

نومبر کے اختتام تک زیادہ تر قبایلیوں کو اوڑی کے راستے واپس بلا لیا گیا تھا۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں دریائے جہلم کا پاٹ تنگ ہوجاتا ہے اور وہاں دفاع آسان ہے۔ اس کے فوراً بعد سردیوں کی برف پڑ گئی جس سے مظفر آباد کی جانب انڈیا کی پیش قدمی رک گئی۔

یہاں وہ لکیر کھینچی گئی جو کشمیر کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان تقسیم کرتی ہے۔ سنہ 1948 کے موسم بہار میں پاکستانی فورسز نے باقاعدہ اس مقام پر آکر سرحد کا انتظام سنبھالا تھا۔ پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں شلوزان نامی گاوں سے تعلق رکھنے والے حسین گل نیم فوجی کرم ملیشیا کے فوجی اور اس فورس کے ممبر تھے۔

حسین گل نے بتایا ’ہم وہاں حملہ کرنے اور پانڈو نامی پہاڑی چوٹی پر دوبارہ قبضہ کرنے گئے تھے جس پر خزاں کے دوران انڈیا نے قبضہ کر لیا تھا۔ وہ ایک اچھی فتح تھی۔ ہم نے کشمیر کے قابل ذکر علاقے پر قبضہ کر لیا تھا لیکن پھر بھی خاصا گنوا دیا تھا۔ اس سے ہمیں صدمہ پہنچا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے اپنے گھر کا حصہ کھو دیا ہو۔‘

ان کے والد اس سے پہلے اپنے چند دوستوں کے ہمراہ لڑائی کے لیے گئے تھے لیکن ہار کر واپس آئے۔ تاہم وہ اپنے ساتھ لوٹا ہوا مال، سونا اور چند عورتیں لے آئے تھے۔

Image caption حسن گل وہ رائفل پکڑے ہوئے ہیں جو انھوں نے پنڈو کی لڑائی کے دوران استعمال کی تھی۔
Image caption حسن گل کی کرم ملیشیا کے کارڈ پر لگی ہوئی تصویر

اپنی عمر کی نویں دہائی اور ماند پڑتی یاد داشت کی وجہ سے انھیں یاد نہیں کہ عورتوں کا کیا ہوا۔ البتہ سونے سے وہ مجور ( پاڑا چنار کا ایک تاجر) کی وجہ سے محروم ہوگئے جس نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا۔

گوہر رحمان دیگر کئی قبائلیوں کے ہمراہ اس وقت گڑھی حبیب اللہ پہنچے جب موسم سرما کی برفباری ہو رہی تھی۔

گوہر رحمان نے بتایا ’وہ سب جنگ کے دوران حاصل کیے ہوئے لوٹ کے مال کے ساتھ واپس آئے تھے۔ چند مویشی لائے تھے۔ زیادہ تر اسلحہ لائے تھے اور کئی اپنے ساتھ عورتیں لے آئے تھے۔ ایک آفریدی قبائلی کے حصے میں دو عورتیں آئی تھیں۔ وہ مستقل روئے جا رہی تھیں۔ ایک مقامی جاگیردار کو ان پر رحم آگیا اور اس نے اس آفریدی کو مجبور کیا کہ وہ ان عورتوں کو رہا کریں۔‘

اس حملے نے نہ صرف اچھی طرح سے آباد اور امن پسند کشمیری سوسائٹی کو صدمے سے دوچار کیا بلکہ انڈیا اور پاکستان کے تعلقات پر تباہ کن اثرات مرتب کیے۔ فوجی مورخ میجر ریٹائرڈ آغا ہمایوں امین اپنی کتاب ’وار آف لوسٹ اپرچونٹیز‘ میں لکھتے ہیں کہ میجر جنرل اکبر خان کے بارے میں خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ انھوں نے اس حملے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ ’غیر ریاستی عناصر کو پراکسی وار کے لیے استعمال‘ کے فلسفے کے معمار کہلائے۔

پاکستان نے اپنی یہی حکمت عملی 1965 ، 2003-1988 میں کشمیر میں جاری شورش کے دوران اور سنہ 1999 میں کارگل جنگ کے دوران دہرائی تھی۔

پاکستان نے افغانستان میں موجود غیر ریاستی عناصر کا استعمال بھی کیا تھا۔ لیکن کشمیر آزاد کرانے یا افغانستان کو سدھانے کے بجائے یہ سیاسی عمل کے کمزور ہونے کی وجہ بن گیا اور اس سے نہ صرف کشمیر اور افغانستان بلکہ پاکستانی معاشرہ بھی عسکریت پسند ہوگیا۔

قبائلیوں کے حملے کی ٹائم لائن

3 جون 1947: جون پلان جسے ماؤنٹ بیٹن منصوبہ بھی کہا جاتا ہے ایک اجلاس میں منظور کیا گیا۔ یہ انڈیا کے آزادی ایکٹ 1947 پر اختتام پزیر ہوا جس میں برطانوی انڈیا کو دو آزاد ریاستوں یعنی پاکستان اور انڈیا میں تقسیم کیا گیا۔ اس ایکٹ کو جولائی میں شاہی منظوری حاصل ہوئی۔

15 جون: ’نو ٹیکس‘ مہم کی صورت میں ریاست کشمیر کے اندرونی علاقے پونچھ میں ایک مزاحمتی تحریک کا آغاز ہوا۔

15 اگست: پونچھ کے علاقے باغ میں قتال کی اطلاعات موصول ہوئیں جہاں پاکستان حامی گروپوں نے پاکستانی پرچم بلند کرکے یوم آزادی منانے کی کوشش کی اور ریاستی پولیس کے ساتھ تصادم ہوا۔

12 ستمبر: وزیراعظم لیاقت علی خان نے فوجی اور شہری حکام کے ساتھ ملاقات کی جس میں مبینہ طور پر دو مختلف منصوبوں پر عمل درآمد کی منظوری دی گئی۔ اس میں کشمیر پر شمال سے حملہ کرنے کے لیے قبائلی فورس کی تیاری اور پونچھ میں باغیوں کو مسلح کرنا شامل تھا۔

4 اکتوبر: باغیوں اور ریاستی فورسز کے درمیان تھورار کے مقام پر جھڑپیں ہوئیں اور پونچھ میں ریاستی فورسز کا محاصرہ کیا گیا۔

22 اکتوبر: قبائلی گروپوں نے مظفرآباد پر حملہ کیا، پھر مشرق کی جانب چلے گئے تاکہ بارہ مولا پر قبضہ کیا جا سکے۔ چند جنگجو سری نگر کے مضافات تک جا پہنچے۔

24 اکتوبر: پونچھ کے علاقے میں موجود ایک پاکستان حامی جاگیردار سردار ابراہیم نے آزاد جموں و کشمیر کی حکومت بنانے کا اعلان کر دیا اور خود کو اس کا سربراہ مقرر کر دیا۔

26 اکتوبر: کشمیر کے مہاراجہ جو اپنے ریاستی آبادیاتی ڈھانچے کی بنیاد پر آزاد رہنے پر تیار تھے، اب ممکنہ طور پر دباؤ میں آکر انڈیا سے منسلک ہو گئے۔

27 اکتوبر: انڈیا کے فضائی اور بری فوجی دستوں نے سری نگر پہنچنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد قبائلی حملہ آوروں کا توازن پلٹنا شروع ہوا اور کشمیر اس لکیر کے ذریعے تقسیم ہوا جو آج کسی نہ کسی حال میں موجود ہے۔

اسی بارے میں