عمران خان کی دستاویزات میں تضاد ہے، حتمی رائے فیصلے میں دیں گے: سپریم کورٹ

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ بنی گالہ کی اراضی کے بارے میں عدالت میں جمع کروایا گیا عمران خان کا بیان حلفی یاداشت پر مبنی تھا

سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کی نااہلی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ بادی النظر میں عمران خان کی طرف سے جمع کروائی گئی دستاویزات میں بھی تضاد ہے تاہم اس پر حتمی رائے فیصلے میں دی جائے گی۔

عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ دستاویزات میں کہیں تضاد نظر نہیں آرہا۔ اُنھوں نے کہا کہ ’اوورلیپنگ ہوسکتی ہے لیکن تضاد کہیں نہیں ہوگا‘۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما حنیف عباسی کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیے

پیرانِ سیاست کے پیر

’تو پھر عمران کے لیے کیا لقب ہو گا؟‘

پھٹیچر، ریلو کٹّے اور عمران خان


عدالت کا کہنا ہے کہ تمام دستاویزات کا جائزہ لیں گے اور پھر دیکھیں گے کہ یہ دستاویزات کیس سے متعقلہ بھی ہیں یا نہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کے وکیل کا کہنا تھا کہ بنی گالہ کی اراضی کے بارے میں عدالت میں جمع کروایا گیا عمران خان کا بیان حلفی یاداشت پر مبنی تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ تمام رقم قانونی طریقے سے بذریعہ بینک منتقل ہوئی۔

نعیم بخاری نے کہا کہ عدالت نے جون سے اکتوبر 2003 تک کا ریکارڈ نہ ہونے کی نشاندہی کی جبکہ 30 اکتوبر 2004 سے یکم نومبر 2006 تک ریکارڈ نہ ہونے پر سوال اٹھایا گیا مگر اب تمام ریکارڈ مکمل ہو چکا ہے۔

عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ بد قسمتی سے دستاویزات تاخیر سے ملیں۔ نیازی سروسز کے اکاؤنٹ میں ایک لاکھ پاؤنڈ قانونی چارہ جوئی کے لیے تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ ایک لاکھ میں سے 40 ہزار پاؤنڈ عمران خان کو ملے، نیازی سروسز کے اکاؤنٹ سے رقم عمران خان کو منتقل ہوئی۔

اُنھوں نے کہا کہ عمران خان کو مزید 22 ہزار یورو نیازی سروسز سے منتقل ہوئے اور عمران خان 2008 سے 2013 تک عوامی عہدے پر نہیں تھے۔

اس تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان کو رقم منتقلی کا علم تھا جس پر نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ بیان حلفی دیتے وقت اس اکاؤنٹ کی تفصیلات سامنے نہیں تھیں۔ اُنھوں نے کہا کہ بعد میں سامنے آنے والی دستاویزات کو یوٹرن نہیں کہا جاسکتا۔ نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ بیان حلفی میں عمران خان نے کہا تھا جو رقم ملی اس کی تفصیلات یاد نہیں ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل اکرم شیخ نے نئی دستاویزات جمع کروانے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیس کی سماعت مکمل ہوچکی ہے اور سماعت مکمل ہونے کے بعد مزید دلائل اور دستاویزات نہیں دی جا جاسکتیں۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے فیصلہ محفوظ نہیں کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ ان کے موکل نے پاکستان سے باہر ایک روپیہ بھی منتقل نہیں کیا اور منی لانڈرنگ ثابت کرنے کا بار ثبوت درخواست گزار پر ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاناما کیس میں بھی غیر تصدیق شدہ دستاویزات سامنے آئے تھے جس پر نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف زیادہ سے زیادہ مزید تحقیقات کا کیس بنتا ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مزید تحقیقات کس قسم کی ہونی چاہئیں۔ نعیم بخاری نے جواب میں کہا کہ عدالت تمام دستاویزات کی تصدیق کرواسکتی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف مقدمے کی طوالت سے بہت سے سوالات اُٹھ رہے ہیں اور بہتر ہوتا کہ اس مقدمے کو بھی پاناما لیکس کے ساتھ ہی سنا جاتا۔ اس پر جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت چیف جسٹس نہیں تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ عدالت فریقین کو سن کر اور تمام حقائق کو مدنطر رکھتے ہوئے ہی فیصلہ دے گی۔

اسی بارے میں