کرپشن کیس: نیب نے شرجیل میمن کو گرفتار کر لیا

شرجیل انعام میمن
Image caption شرجیل انعام میمن کے پاس صوبائی وزیر اطلاعات کے علاوہ محکمہ آرکیالوجی اور بلدیاتی امور کا قلمدان بھی رہا ہے

قومی احتساب بیورو نے سابق صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کو رینجرز کی مدد سے گرفتار کر لیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے پیر کی صبح ان کی درخواست ضمانت مسترد کر دی تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ اور جسٹس محمد کریم خان آغا پر مشتمل ڈویژن بینچ کے روبرو احتساب بیورو کے دلائل کے بعد عدالت نے ملزمان کی ضمانت درخواست مسترد کر دی۔ جس کے بعد وہ عدالت کے احاطے میں موجود رہے اور چیف جسٹس سے اپیل کی لیکن چیف جسٹس نے یہ اپیل سننے سے انکار کر دیا۔

’کیٹ واک احتساب‘

ضمانت کی منسوخی کا سن کر بعض صوبائی وزیر عدالت پہنچ گئے اور انھوں نے شرجیل انعام میمن کو اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کی لیکن ججز گیٹ کے قریب انھیں رینجرز نے روک کر حراست میں لے لیا۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ شرجیل انعام میمن کی گرفتاری نے ’کیٹ واک‘ احستاب کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ترجمان نے نواز شریف کی صاحبزداری مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما قانون کے پابند ہیں، پھر بھی انھیں ہتھکڑیاں لگائی جاتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ملک میں عملی طور پر دو قوانین نافذ ہیں۔‘

الزامات کیا ہیں؟

قومی احتساب بیورو نے شرجیل انعام میمن سمیت 12 ملزمان کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس جمع کرایا تھا، جس میں ان پر پانچ ارب روپے سے زائد کی کرپشن کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ان پر الزام ہے کہ انھوں نے وزرت اطلاعات و نشریات میں بطور وزیر محکمے کے افسران اور اشتہاری کمپنیوں کے گٹھ جوڑ سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو اشتہارات کی مد میں رقوم جاری کر کے بدعنوانی کی۔

قومی احتساب بیورو نے ریفرنس میں کہا ہے کہ جولائی 2013 سے جون 2015 تک ٹی وی اور ایف ایم چینلوں پر عوام میں آگہی کے لیے مہم چلائی گئی جس کی مد میں قومی خزانے کو تین ارب 27 کروڑ کا نقصان پہنچایا گیا۔

تحقیقات کے دوران اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ سندھ پروکیورمنٹ رولز کی خلاف ورزی کر کے سات اشتہاری کمپنیوں کو پانچ ارب 78 کروڑ کا نقصان پہنچایا گیا اور ملزمان نے اپنی پسندیدہ کمپنیوں کو مارکیٹ کے نرخوں سے زائد نرخوں پر اشتہار دیے۔

ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ چار کمپنیوں کے ملزمان کا نام اس ریفرنس میں نہیں دیے گئے کیونکہ وہ رضاکارانہ رقم واپس کرنے پر تیار ہو گئے تھے۔

سیاست اور خود ساختہ جلاوطنی

سابق صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن دو سال دبئی اور لندن میں خود ساختہ جلاوطن رہے، رواں سال وطن واپسی پر قومی احتساب بیورو نے انھیں گرفتار کیا تھا، اور گرفتاری سے قبل ضمانت کے کاغذات کی تصدیق کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو کی وطن واپسی کے اعلان کے بعد شرجیل انعام میمن ایک سرگرم رہنما کے طور پر سامنے آئے، اس سے قبل وہ کراچی اور دبئی میں جائیداد کی خرید و فروخت کے کاروبار سے وابستہ تھے۔

2008 کے عام انتخابات میں وہ تھرپارکر کے صوبائی حلقے ننگرپارکر سے امیدوار تھے لیکن انھیں سابق وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کے بھائی ارباب عبداللہ نے شکست دی، بعد میں ان کے ایک سڑک کے حادثے میں انتقال کے بعد وہ اس حلقے سے کامیاب ہوئے۔

شرجیل انعام میمن پاکستان پیپلز پارٹی کے منحرف رہنما ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے قریب سمجھے جاتے تھے لیکن جب ذوالفقار مرزا نے اپنی راہیں الگ کیں تو اس دوستی میں دراڑ پڑ گئی اور شرجیل میمن نے ان کے خلاف پریس کانفرنس کر کے پارٹی کی جانب سے جواب دیا۔

شرجیل انعام میمن صوبائی وزیر اطلاعات کے علاوہ محکمہ آرکیالوجی اور بلدیاتی امور کے بھی وزیر رہے، ان پر زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کا ریفرنس بھی دائر ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں