کم عمری کی شادیاں،’لڑکی کی شادی کی عمر 16 سال سے بڑھا کر 18 سال کرنے کی تجویز‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے کم عمری کی شادی اور جادو ٹونے کی روک تھام کا بل منظور کر لیا جس کے مطابق لڑکی کی شادی کی عمر 16 سال سے بڑھا کر 18 سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر سحر کامران کی طرف سے پیش کیے جانے والے اس بل میں کہا گیا ہے کہ کم عمری کی شادی سے نہ صرف بچیوں کی شرح اموات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس سے کارو کاری جیسے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

٭ ’نابالغ بیوی کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرنا جرم ہے‘

٭ کم عمری کی شادیوں کی متاثرہ مسلمان لڑکیاں

٭ امریکہ میں 12 سال کی لڑکی کی بھی شادی ہو سکتی ہے

اس سے پہلے قائمہ کمیٹی نے اس بل کو زیر بحث لائے بغیر ہی مسترد کر دیا تھا کہ یہ بل اسلامی قوانین کے منافی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سینیٹر رحمان ملک کی سربراہی میں ہونے والے اس اجلاس میں وزارت مذہبی امور کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی نقطہ نظر سے بلوغت کی عمر کو پہنچنے پر لڑکی کی شادی کر دی جائے جس پر اسلامی نظریاتی کونسل کے نمائندے نے کہا کہ ایک تحقیق کے مطابق 9سال سے اوپر بلوغت تصور ہوتی ہے۔

قائمہ کمیٹی کی خصوصی دعوت پر بلائے گئے مذہبی سکالر سکالر ڈاکٹر منیر نے بتایا کہ اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکی کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں دیتے ، تو پھر ان کی شادی کیوں کر دیتے ہیں۔ کمیٹی میں موجود این جی او کے نمائندہ نے کہا کہ کم عمری کی شادی سے ماں کی صحت پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

'ہر سات سیکنڈ میں 15 سال سے کم عمر کی ایک بچی بیاہ دی جاتی ہے'

’شادی کی عمر کا تعین اسلام کے خلاف ہے‘

اس کے علاوہ وزارت داخلہ سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے ملک بھر میں جادو ٹونے کی روک تھام، کالے جادو پر پابندی اور جعلی پیروں اوبر عاملوں کے خلاف سخت کارروائی کا بل بھی منظور کر لیا۔ بل میں کالا جادو کرنے والے شخص کو کم از کم دو سال اور زیادہ سے زیادہ سات سال تک سزا اور پچاس ہزار روپے سے دو لاکھ روپے تک جرمانہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بل میں جادو ٹونے سے متعلق اشیا رکھنے پر تین ماہ قید اور 25 ہزار روپے جرمانہ تجویز کیا گیا ہے، جبکہ مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کا جادو ٹونے کے لیے استعمال پر عمر قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

اس بل میں تدفین کے بعد قبر کھولنے پر پابندی ہو گی، جبکہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کے لیے سات سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

اس بل میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ اگر پوسٹ مارٹم کے لیے قبر کشائی کروانی پڑی تو پھر اس کا طریقہ کار کیا ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس سے پہلے قائمہ کمیٹی نے اس بل کو زیر بحث لائے بغیر ہی مسترد کر دیا تھا کہ یہ بل اسلامی قوانین کے منافی ہے

اس بل میں مردے کا گوشت کھانے پر 14 سال قید سزا تجویز کی گئی ہے جبکہ اس بل میں مسمار شدہ قبر میں کالا جادو کرنے پر پابندی، کسی قبر یا مردے کے اوپر نہانے پر پابندی، کفن یا تابوت کی چوری پر سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

بل میں جادو ٹونے سے متعلق اشتہارات، اشاعت اور کتابیں بیچنے یا خریدنے پر پابندی ہوگی، جس کی خلاف ورزی پر ایک سال قید اور جرمانہ کیا جائے گا۔ بل کے تحت جعلی عامل اور جادو ٹونا کرنے والے عامل کو تحفظ دینے والے کو بھی سزا اور جرمانہ کیا جا سکے گا۔

قائمہ کمیٹی نے وزیر داخلہ احسن اقبال اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کی مسلسل عدم حاضری پر کمیٹی نے انہیں لاپتہ قرار دے دیا۔

کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ان میں کسی ایک وزیر کو بھی بازیاب کرا کے کمیٹی اجلاس میں پیش کیا جائے۔

اسی بارے میں