قائد اعظم یونیورسٹی کے 75 طلبہ کے خلاف ایف آئی آر درج

Image caption پولیس کے مطابق زیرحراست طلبا کے خلاف نقص امن اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی بنیاد پر کارروائی ہوگی

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس منگل کی صبح قائد اعظم یونیورسٹی کے 75 طلبہ کے خلاف تھانہ سیکریٹیریٹ میں ’کارِ سرکار میں مداخلت‘، کلاسز کا بائیکاٹ کروانے، اور یونیورسٹی کی بسوں کو روکنے کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کر لی ہے۔

واضح رہے کہ جن الزامات کے تحت یہ ایف آئی آر درج کی گئی ہے ان میں سے ایک ناقابلِ ضمانت بھی ہے۔

یاد رہے کہ دو ہفتے سے زیادہ عرصے بند رہنے کے بعد پیر کو کھلنے والی قائداعظم یونیورسٹی سے 60 سے زیادہ طلبہ کو احتجاج کرنے کے الزام میں حراست میں بھی لے لیا تاہم پولیس حکام کا اب کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے تمام افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔

تاہم کچھ طلبہ کے ورثا کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد کو اب تک رہا نہیں لیا گیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ منگل کی صبح بھی یونیورسٹی میں پولیس کی بھاری نفری موجود ہے اور صرف ان لوگوں کو یونیورسٹی میں داخل ہونے دیا جا رہا ہے کہ جن کے پاس یونیورسٹی کارڈ موجود ہیں۔

اسلام آباد کی سب سے بڑی یونیورسٹی اور حالیہ دنوں میں ہایئر ایجوکیشن کمیشن کی درجہ بندی میں تحقیق کے لیے بہترین قرار دی گئی اس درس گاہ میں حالات گذشتہ چند ماہ سے خراب ہیں۔

Image caption ایک طالب علم نے یونیورسٹی انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ ملک کے اس بہترین تعلیمی ادارے کی زبوں حالی پر توجہ نہیں دے رہی

قائداعظم یونیورسٹی کی انتظامیہ نے گذشتہ جمعرات بظاہر طلبہ کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد درس گاہ کو سوموار سے کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

حالیہ کشیدگی کی وجہ اس سال مئی میں دو لسانی طلبہ تنظیموں کی درمیان تصادم تھا جس کے بعد تقریباً 40 طلبہ کو یونیورسٹی سے نکال دیا تھا۔

اس تازہ احتجاجی مظاہرے میں طلبہ نے انتظامیہ کے سامنے 13 مطالبات رکھے جن میں یونیورسٹی سے نکالے جانے والے طلبہ کی جامعہ میں واپسی، طلبہ کے لیے سفری سہولیات کے نظام کو بہتر کیا جانا، پیرامیڈکس سمیت دیگر غیر رجسٹرڈ شعبہ جات کی رجسٹریشن اور فیسوں میں ہونے والے اضافے کو واپس لیے جانے کے مطالبات شامل ہیں۔

انتظامیہ نے فیسوں میں کمی کا مطالبہ تو مان لیا لیکن وہ 40 طلبہ کو بحال نہ کرنے پر مصر ہے۔ بعض طلبہ اس فیصلے سے خوش نہیں تھے اور انھوں نے اپنا پرامن احتجاج پیر کے روز بھی جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں