’ایک بیٹے کی پولیس اکیڈمی میں ہلاکت کے بعد دو بیٹوں کے لیے کلرک کی نوکری بہتر ہوگی‘

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں پچھلے سال 24 اکتوبر کو 62 پولیس اہلکار ہلاک جبکہ 117 زخمی ہوئے تھے۔
Image caption پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں پچھلے سال 24 اکتوبر کو 62 پولیس اہلکار ہلاک جبکہ 117 زخمی ہوئے تھے۔

بہرام خان اپنے دو بیٹوں کو کلرک کی نوکری پر لگوانا چاہتے ہیں ۔ یہ فیصلہ انھوں نے اپنے تیسرے اور سب سے چھوٹے بیٹے دلاور خان کی کوئٹہ پولیس ٹریننگ سینٹر میں ہلاکت کے بعد کیا ہے۔

گذشتہ برس 24 اکتوبر کو ہونے والے اس حملے میں 62 پولیس اہلکار ہلاک جبکہ 117 زخمی ہوئے تھے۔ ان سب کی عمریں 18 سے 25 سال کے درمیان تھیں جن میں 21 سالہ دلاور بھی شامل تھا۔

کوئٹہ کے علاقے نواکلی کے رہائشی بہرام خان کو اپنے بیٹے کی موت کے بارے میں اگلی صبح سات بجے بتایا گیا تھا جبکہ ٹریننگ سینٹر پر حملہ رات ساڑھے نو بجے کے قریب ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

کوئٹہ: پولیس کے تربیتی مرکز پر حملے میں 61 اہلکار ہلاک

لشکر جھنگوی العالمی ہے کیا؟

'میں نے تو اپنا بیٹا کھو دیا۔ تب سے میں اور میری بیگم بیمار ہیں۔ جب میرے بیٹے کے بدلے گھر کے کسی اور فرد کو نوکری دینے کی بات آئی تو ہم نے سوچا کلرک کی نوکری بہتر ہوگی۔ ہم نے باقی دو بیٹوں کی حفاظت کا سوچتے ہوئے کاغذات پر دستخط کر دیے۔'

گذشتہ سال پیش آنے والا واقعہ صوبے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ہونے والا سب سے بڑا حملہ خیال کیا جاتا ہے۔ اس حملے کی سب سے بڑی وجہ بولان ہاسٹل کے پیچھے چاردیواری کی غیر موجودگی مانی جاتی ہے جس کے باعث دہشت گردوں کو ہاسٹل میں آنے کا راستہ ملا۔

پولیس اہلکاروں کے مطابق اعلیٰ حکام نے پولیس کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈز میں بار بار ہاسٹل کے پیچھے دیوار بنانے کا تذکرہ کیا لیکن کبھی فنڈز میں تاخیر اور کبھی کسی اور وجہ سے بات آگے بڑھتی گئی۔

نیو سریاب روڈ پر قائم پولیس ٹریننگ سینٹر میں آج ہاسٹل کے پیچھے باؤنڈری وال بھی ہے اور چودہ واچ ٹاورز بھی بنائے گئے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کے مطابق واقعے کے فورا بعد 'جنگی بنیادوں' پر یہ کام کروایا گیا۔ بولان پولیس ٹریننگ سینٹر کا واحد ہاسٹل ہے جہاں ہزار سے بارہ سو کے قریب طلبا رہ سکتے ہیں۔ اس رات یہاں 700 طلبا تھے۔

پولیس ٹریننگ سینٹر کے ڈپٹی کمانڈنٹ سعداللہ خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے بعد اہلکاروں اور والدین کی شکایت تھی کہ طلبہ کے پاس اپنی حفاظت کے لیے اسلحہ نہیں تھا جس کی وجہ پولیس انتظامیہ کا قانون ہے جس کے مطابق تعلیمی ادارے میں مشق کے علاوہ کیڈٹس کو اسلحہ نہیں دیا جاتا تھا لیکن اب اس قانون میں بھی ترمیم کر دی گئی ہے۔

بولان پولیس ٹریننگ سینٹر کا واحد ہاسٹل ہے جہاں ہزار سے بارہ سو کے قریب طلبہ رہ سکتے ہیں۔ اُس رات یہاں 700 طلبہ تھے۔
Image caption بولان پولیس ٹریننگ سینٹر کا واحد ہاسٹل ہے جہاں ہزار سے بارہ سو کے قریب طلبہ رہ سکتے ہیں۔ اُس رات یہاں 700 طلبہ تھے۔

'اب طلبا کو آتے ساتھ ہی اسلحے کی تربیت دی جاتی ہے اور اپنی فوری حفاظت کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے۔'

بولان ہاسٹل کی عمارت اب بھی اپنی جگہ موجود ہے لیکن پولیس اہلکار اب بھی اس جگہ کا دورہ کرنے سے کتراتے ہیں۔

ویسے یہ ہاسٹل بند رہتا ہے لیکن پولیس افسران نے ہمیں وہاں جانے کی اجازت دی۔ بیریکس کے اندر کئی کمروں کے باہر تالے لگے تھے تو کچھ کھلے کمروں میں چارپائیاں اب بھی ایک کے اوپر ایک رکھی ہوئی تھیں۔

مرکزی ہال میں، جہاں حملے کے وقت 50 سے زیادہ کیڈٹس موجود تھے، خودکش بمبار کے خود کو اڑانے کا نشان اور اس کے نتیجے میں پڑنے والا گڑھا اب بھی موجود ہے۔ اس جگہ سے تھوڑے ہی فاصلے پر ایک پولیس افسر کے بیلٹ کا زنگ آلود بیج اور مٹی میں اٹی ایک سفید قمیض پڑی تھی۔

ایک اور کمرے میں کوئی سامان تو نہیں تھا لیکن دیواروں اور چھت کی حالت سے واضح تھا کہ اس رات کیا ہوا تھا۔

ایک پولیس اہلکار، جسے ہمارے ساتھ اندر جانے کی ذمہ داری دی گئی، اس نے بتایا کہ 'پورے ہاسٹل میں سے خون کے داغ دھو کر ہٹائے گئے تھے لیکن دھلائی سے پہلے بھی یہاں خون کی بدبو نہیں تھی۔'

لیکن واقعے کے بہت سے نشانات اب بھی واضح ہیں۔ ہاسٹل کے اندر جگہ جگہ کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی ہیں اور دیواروں پر گولیوں کے نشان اب بھی صاف نظر آتے ہیں۔ کمروں کی چھت پر پنکھے ٹیڑھے اور چھرّوں کے نشان سے چھلنی ہیں۔

بہرام خان اور ان کی طرح اور والدین آج بھی یہ سوال کرتے ہیں کہ پولیس کیڈٹس کو ٹریننگ سینٹر واپس کیوں بلایا گیا تھا جبکہ ان کی ٹریننگ مکمل ہوچکی تھی؟

بولان ہاسٹل کی عمارت اب بھی اپنی جگہ موجود ہے لیکن فنڈز کی منتقلی اور ہاسٹل کے اندر کی حالت درست ہونے کی منتظر ہےـ
Image caption بولان ہاسٹل کی عمارت اب بھی اپنی جگہ موجود ہے لیکن فنڈز کی منتقلی اور ہاسٹل کے اندر کی حالت درست ہونے کی منتظر ہے

اس کے دو جواب ہیں۔ پولیس اہلکار آن ریکارڈ کہتے ہیں کہ ٹریننگ مکمل ہو چکی تھی لیکن انسدادِ دہشت گردی کا ایک کورس باقی رہ گیا تھا جس کی وجہ سے طلبہ کو واپس بلایا گیاـ اور سعد اللہ خان بھی کہتے ہیں کہ ’شاید افسران کو بات سمجھنے میں تھوڑی بہت غلطی ہو گئی ہوـ‘

انھیں میں سے کچھ اہلکار بتاتے ہیں کہ اُس وقت پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے لاک ڈاؤن کرنے کی دھمکی دی تھی جس کے باعث تینوں صوبوں سے پولیس کی ٹیم بلائی گئی تھیں۔

خیبر پختونخوا اور یہاں تک کہ سندھ کی حکومت نے بھی پولیس کی نفری بھیجنے سے انکار کردیا تھا۔ اس کے نتیجے میں کوئٹہ پولیس سینٹر کے ہال ہی میں پاس آؤٹ ہونے والے طلبہ کو واپس بلوانے کا حکم ٹریننگ سنٹر کے سابقہ کمانڈنٹ نے دیا۔ اور یوں طلبہ کو واپس بلایا گیا۔

ہاسٹل کے پیچھے مقامی لوگوں کے گھر ہیں جہاں زیادہ تر آبادی محنت کشوں کی ہے۔ یہاں کوئٹہ میں ہونے والے ہر واقعے کے بعد تلاشی اور آپریشن کی کارروائیاں ہوتی ہیں۔

کوئٹہ کے مضافات میں 1980 کی دہائی میں بھاری تعداد میں افغان پناہ گزین آئے۔ پولیس کا خیال ہے کہ افغان پناہ گزینوں کو مسلح افراد سہولت کار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ پناہ گزینوں کے ساتھ ساتھ کوئٹہ کے گرد و نواح میں افغان طالبان کی پناہ گاہیں بھی ہیں جن کا اعتراف خود پولیس اور حکومت بھی کرنے لگی ہےـ

24 اکتوبر کے سانحے کے ایک سال بعد بھی پولیس اہلکار مسلح افراد کی بندوقوں کے نشانے پر ہیں۔ رواں سال پولیس اہلکاروں پر ہونے والے حملوں میں اب تک 25 اہلکار شہید ہو چکے ہیں جن کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہےـ

واقعے کے بہت سے نشانات اب بھی واضح ہیں۔ ہاسٹل کے اندر جگہ جگہ کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی ہیں اور دیواروں پر گولیوں کے نشان سے ہونے والے گڈّے اب بھی صاف نظر آتے ہیں۔
Image caption واقعے کے بہت سے نشانات اب بھی واضح ہیں۔ ہاسٹل کے اندر جگہ جگہ کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی ہیں اور دیواروں پر گولیوں کے نشان سے ہونے والے گڈّے اب بھی صاف نظر آتے ہیں۔

سعد اللہ کے مطابق پاکستان کا حالیہ قدم جس میں افغان سرحد کے ساتھ باڑ لگانے کا عمل جاری ہے، پاکستان کے لیے’خوش آئند ثابت ہو گاـ‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آئی جی پولیس بلوچستان معظم جاہ انصاری نے کہا کہ ’اس وقت بلوچستان کو دو گروہوں سے خطرہ ہےـ ایک بلوچ مسلح گروہ اور دوسرا فرقہ وارانہ مسلح تنظیمیں جن کی کارروائیوں کو داعش قبول کرتی ہےـ‘

داعش کے بارے میں بات کرتے ہوئے آئی جی نے کہا کہ ’داعش کی زمین پر موجودگی نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے لشکرِ جھنگوی العالمی گروہ کے چند لوگ موجود ہوں، لیکن یہ اپنا زیادہ تر کام باقی فرقہ وارانہ جماعتوں سے کرواتے ہیں اور ان کو مالی تعاون فراہم کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اس وقت ’بلوچستان میں دہشت گردوں کو دو طرف سے فنڈنگ آ رہی ہے، ایک انڈیا کی انٹیلی جنس ایجنسی را کی طرف سے اور دوسرا افغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسی نیشنل ڈیفینس سکیورٹی کی طرف سے، جس کو روکنے کی تمام تر کوششیں کی جا رہی ہیں۔‘

اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ پولیس اہلکار لوگوں کی حفاظت کرتے ہیں جس کے لیے ان کو سڑکوں پر کھڑا رہنا لازمی ہےـ ’اب یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم پولیس اہلکاروں کے ساتھ بھی حفاظتی گارڈز تعینات کریں۔ لیکن حملوں کو روکنے کے لیے جو ممکنہ کوشش ہم کر سکتے ہیں، وہ کر رہے ہیں۔‘

جب ان سے بلوچستان اور خصوصاً کوئٹہ کے مضافات میں افغان طالبان کی پناہ گاہوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’پاکستان پر یہ الزام لگانا کہ وہ طالبان کو پناہ دیتے ہیں غیر منصفانہ ہو گا کیونکہ ہم خود متاثرین میں سے ہیں۔ ہمارا کیا کام طالبان سے یا اُن کو پناہ دینے سے؟‘

۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں