عائشہ گلالئی کی رکنیت کی منسوخی کے لیے بھیجا گیا ریفرنس مسترد

عائشہ گلالئی تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/PTI
Image caption تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے عائشہ گلالئی کے خلاف آرٹیکل 63 اے تحت ریفرنس دائر کیا تھا

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی کی رکنیت منسوخ کرنے کے بارے میں پارٹی کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے بھیجا گیا ریفرنس مسترد کرتے ہوئے عائشہ گلالئی کی رکنیت کو بحال رکھا ہے۔

الیکشن کمشن کے پانچ رکنی بینچ نے اس ریفرنس پر فیصلہ تین دو کی اکثریت سے دیا۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بینچ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے دائر کیے گئے ریفرنس کی سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیے

عائشہ گلالئی کے الزامات، پارلیمانی کمیٹی کے لیے قرارداد

اپنی سیاسی جماعتوں سے نالاں خواتین رہنما

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا اور صوبہ سندھ سے الیکشن کمیشن کے ممبران نے عائشہ گلالئی کی رکنیت کو بحال رکھا جبکہ صوبہ پنجاب اور صوبہ بلوچستان سے ارکان نے اس فیصلے سے اختلاف کیا۔

عمران خان کے وکیل سکندر مہمند کے جواب الجواب دلائل دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے آرٹیکل 63 کے تحت دو فیصلوں کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کرا دی۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ دونوں فیصلے پارٹی فیصلوں سے انحراف سے متعلق تھے جنہیں سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا تھا۔

عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ دونوں فیصلے 18ویں ترمیم سے پہلے کے ہیں جبکہ ترمیم کے بعد 63 اے کا سکوپ بدل گیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کے وکیل کا کہنا تھا کہ عائشہ گلالئی نے قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کے انتخاب کے موقع پر پارٹی کی طرف سے وزیر اعظم کے لیے نامزد کردہ امیدوار شیخ رشید کو ووٹ نہیں دیا تھا جبکہ اس کے علاوہ اُنھوں نے پارٹی کی بنیادی رکنیت سے مستعفی ہونے کا بھی اعلان کیا تھا جس کی وجہ سے اُن کے خلاف ریفرنس بھیجا گیا۔

عائشہ گلالئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ جس روز قائد ایوان کا انتخاب ہونا تھا اس روز ان کی موکلہ طبعیت کی ناسازی کی وجہ سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/PTI

انھوں نے کہا کہ پارٹی قیادت کی طرف سے بھی اُنھیں وزیر اعظم کے امیدوار کے بارے میں نہیں بتایا گیا تھا۔

عائشہ گلالئی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اُنھوں نے کبھی بھی پارٹی کی بنیادی رکنیت چھوڑنے کے بارے میں اعلان نہیں کیا۔

اس ریفرنس کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے عمران خان کے وکیل سے یہ استفسار بھی کیا تھا کہ قومی اسمبلی میں قائد ایوان کے انتخاب کے موقع پر تحریک انصاف کے کچھ دیگر ارکان نے بھی جماعت کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیا تھا تو کیا پارٹی کی قیادت نے ان سے وضاحت طلب کی ہے جس کا عمران خان کے وکیل جواب نہیں دے سکے تھے۔

عائشہ گلالئی سنہ 2013 میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔

الیکشن کمیشن نے جب اس ریفرنس کا فیصلہ سنایا تو وہ کمرۂ عدالت میں ہی موجود تھیں اور فیصلے کے بعد باہر نکل کر انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان پر کڑی تنقید بھی کی۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر تنقید ہے اور کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں