فاٹا میں خواتین کے ووٹوں میں 36 فیصد اضافہ

خواتین ووٹر
Image caption الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق پچھلے چار سالوں کے دوران ملک میں خواتین کے ووٹوں کے اندراج میں سب سے زیادہ اضافہ قبائلی علاقوں میں ہوا جہاں ان کے ووٹوں کی کل تعداد چھ لاکھ سے بڑھ کر آٹھ لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے

جمیلہ (فرضی نام) پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی کی ایک رہائشی خاتون ہیں جن کے ووٹ کا اندراج سنہ 2013 کے عام انتخابات کے بعد ہوا۔

انھوں نے حال ہی میں الیکشن کمیشن کے ریکارڈ میں اپنا ووٹ چیک کرنے کے بعد تسلی کرلی ہے کہ وہ آئندہ عام انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استممال کر سکیں گی۔

ان کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں آپریشن اور نقل مکانی کی وجہ سے اگر ایک طرف لوگوں کو مشکلات کا سامنا رہا تو دوسری طرف اس سے فاٹا کے عوام میں کچھ تبدیلی بھی آئی ہے۔

'مشکلات سہنے کے بعد اب قبائلی خواتین کو اپنے ووٹ کی اہمیت کا احساس ہوا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ فاٹا میں خواتین کے ووٹ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔'

پختونخواہ کی مردم شماری میں کل 20 خواتین شمارکنندہ، فاٹا میں کوئی نہیں

'قبائلی خواتین کو فاٹا اصلاحات میں برابری کی سطح پر نمائندگی دی جائے'

جمیلہ کے مطابق قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران تقریباً تمام ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے افراد بے گھر ہوئے اور انھیں خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں آنا پڑا جہاں انھیں معلوم ہوا کہ شہر اور ایجنسی کی زندگی میں کتنا فرق پایا جاتا ہے۔

ملک میں حالیہ مردم شماری کے مطابق گذشتہ تقریباً چار سال کے دوران ایک کروڑ آٹھ لاکھ نئے ووٹروں کا اندراج کیا گیا ہے۔ حیران کن طور پر قبائلی علاقوں میں خواتین ووٹروں کی تعداد میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق پچھلے چار سالوں کے دوران ملک میں خواتین کے ووٹوں کے اندراج میں سب سے زیادہ اضافہ یعنی 36 فیصد قبائلی علاقوں میں ہوا جہاں ان کے ووٹوں کی کل تعداد چھ لاکھ سے بڑھ کر آٹھ لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔

سات ایجنسیوں اور چھ نیم خود مختار ایف آر ریجنز پر مشتمل قبائلی علاقہ جات گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث بری طرح متاثر رہے ہیں جہاں اب ان کی بحالی کا مرحلہ جاری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شورش کے نتیجے میں بعض ایسے مخصوص حالات پیدا ہوئے جس کے بعد قبائل کو سرکار کے ساتھ رجسٹر کروانا ضروری ہو گیا تھا۔

Image caption فاٹا میں آپریشن اور نقل مکانی کی وجہ سے بعض ایسے حالات پیدا ہوئے جس میں ہر فرد کے لیے قومی شناختی کارڈ بنوانا ضروری ہو گیا تھا: ظیہر خٹک

پاکستان میں انتخابات پر نظر رکھنے والے غیر سرکاری ادارے فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک کے ایگزیکٹو کونسل کے رکن ظیہر خٹک کا کہنا ہے کہ فاٹا میں آپریشن اور نقل مکانی کی وجہ سے ایسے حالات پیدا ہوئے جس میں ہر فرد کےلیے قومی شناختی کارڈ بنوانا ضروری ہو گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں نادرا نے آئی ڈی پیز کیمپوں میں خصوصی کاؤنٹر قائم کیے اور متاثرین کے لیے ہنگامی بنیادوں پر شناختی کارڈ بنوائے جس کا یہ فائدہ ہوا کہ قبائلی خواتین کی اکثریت سرکاری ریکارڈ پر آ گئی اور اس طرح ان کا اندراج بحثیت ووٹر ہوا۔

ظہیر خٹک کے مطابق حکومت کی جانب سے جو نیا قانون منظور کیا گیا ہے اس کے تحت ہر قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقے میں خواتین کے دس فیصد ووٹوں کا پول ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے بصورت دیگر اس حلقے کا پورا انتخاب کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

قبائلی علاقوں میں نام نہاد مقامی روایات ہمیشہ خواتین کو ان کا جائز مقام دلانے میں سب سے بڑی روکاٹ رہی ہے۔

پشاور یونیورسٹی میں شعبۂ پولیٹکل سائنس کی پروفیسر اور قبائلی خواتین کی تنظیم قبائلی خور نیٹ روک کی رہنما ڈاکٹر نورین نصیر کا کہنا ہے کہ آپریشن اور لوگوں کی اپنے علاقوں سے نقل مکانی نے قبائلی علاقوں کا سارا نقشہ ہی تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔

ان کے بقول 'شدید مشکلات اور نقل مکانی نے قبائلی خواتین کو کافی حد تک تعلیم دی ہے اور ان کو کسی حد تک اپنے حقوق سے روشناس بھی کرایا ہے جس کے بعد اب قبائلی خواتین اپنے حق کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ فاٹا میں آنے والے انتخابات میں نہ صرف خواتین بڑی تعداد میں اپنا حق رائے دہی کا استعمال کریں گی بلکہ وہ ان میں حصہ بھی لیں گی۔

فاٹا میں خواتین کے ووٹوں میں خاطر خواہ اضافے کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے تاہم اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت خواتین کے لیے ایسا ماحول یقینی بنائے جہاں نہ صرف وہ اپنی مرضی سے حق رائے دہی کا استعمال کرسکیں بلکہ جنرل نشستوں پر انتحابات میں حصہ بھی لے سکیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں