عائشہ گلالئی فلور کراسنگ سے کیسے بچ نکلیں؟

عائشہ گلالئی تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/PTI

پاکستان میں فلور کراسنگ کا قانون جتنا سخت ہے وہ ملک میں ہارس ٹریڈنگ کو روکنے میں اتنا ہی بےاثر بھی ثابت ہوا ہے۔ اس قانون کے تحت کوئی رکن پارلیمان اپنی نشست سے محروم ہو سکتا ہے اگر:

  • وہ اپنی پارٹی سے مستعفی ہو جائے یا کسی دوسری پارلیمانی پارٹی کا رکن بن جائے۔
  • وہ پارٹی ہدایت کے خلاف کسی آئینی ترمیم یا وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے انتخاب یا ان پر عدم اعتماد کی تحریک کے دوران ووٹ دے یا دینے سے گریز کرے۔

ارکان پارلیمان کو سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے سے روکنے کے لیے گذشتہ 20 برسوں میں اس قانون میں متعدد تبدیلیاں کی گئیں، لیکن فلور کراسنگ کا عمل پھر بھی جاری رہا۔

عائشہ گلالئی رکنِ قومی اسمبلی رہیں گی: الیکشن کمیشن

اپنی سیاسی جماعتوں سے نالاں خواتین رہنما

اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنی پارٹی سے بے وفائی کرنے والوں نے ہر بار اس قانون میں پائے گئے سقم کا سہارا لیا۔

شہباز شریف جب پچھلی بار صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ بننے کی کوشش میں تھے اس وقت انھیں مسلم لیگ ق کے بعض ارکان کی ضرورت پڑی۔ مسلم لیگ ق کے ارکان وزارتوں کے خواب آنکھوں میں سجائے خوشی خوشی پارٹی بدلنے پر راضی ہو گئے لیکن ان کے آڑے یہی قانون آ گیا۔

اس وقت مسلم لیگ ن اور ق کے قانونی دماغ سر جوڑ کر بیٹھے اور انھوں نے اس مسئلے کا دلچسپ حل نکالا۔

اس وقت قانون میں یہ درج تھا کہ اگر کوئی رکن پارٹی سے وفاداری تبدیل کرتا تو پارلیمانی پارٹی کا سربراہ اس کے خلاف الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کرتا تھا۔

تو ہوا یہ کہ مسلم لیگ ق کے اتنے سارے ارکان کو وفاداریاں تبدیل کرنے پر راضی کر لیا گیا کہ انھوں نے پہلے اپنا پارلیمانی رہنما بدلا، اپنا نام یونیفیکشن بلاک رکھا اور وزارت اعلیٰ کے لیے ق لیگ کی مرکزی قیادت یعنی چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الہٰی کی منشا کے خلاف شہباز شریف کو ووٹ دے دیا۔

اس صورتحال کو روکنے کے لیے اس قانون میں ایک بار پھر تبدیلی کی گئی اور لکھ دیا گیا کہ پارلیمانی پارٹی کے بجائے اس سیاسی جماعت کا سربراہ منحرف رکن کے خلاف ریفرنس بھیجے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہباز شریف جب پچھلی بار صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ بننے کی کوشش میں تھے اس وقت انہیں مسلم لیگ ق کے بعض ارکان کی ضرورت پڑی

پاکستان تحریک انصاف کی باغی رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی اس کے باوجود اس قانون کی زد میں آنے سے بچ نکلیں۔ اس کے باوجود کہ ان کے خلاف ریفرنس خود عمران خان نے بھیجا جو ان کی پارٹی کے سربراہ ہیں۔

لیکن عائشہ گلالئی کے پاس اس قانون سے بچ نکلنے کا ایک اور راستہ موجود تھا اور انھوں نے اس قانون میں ایک اور چھوٹے سے سقم کا سہارا لیا۔

قانون کہتا ہے کہ ووٹنگ کے وقت پارٹی کی طرف سے ملنے والی ’ہدایت‘ کے خلاف کوئی رکن ووٹ نہیں ڈال سکتا۔

عائشہ گلالئی کے مطالبے پر عمران خان الیکشن کمیشن میں کوئی ایسی دستاویزی شہادت جمع نہ کروا سکے جس میں انھوں نے یا ان کی طرف سے پارٹی کے چیف وہپ یا کسی دوسرے رہنما نے انھیں ہدایت کی ہو کہ وزیراعظم کے انتخاب میں وہ شیخ رشید کو ووٹ دیں۔

اب اس سقم کے دور ہونے کے لیے ایک نئی آئینی ترمیم کا انتظار کیجیے۔ اس وقت تک ہمارے ذہین سیاست دان اس قانون میں کوئی نیا سقم تلاش کر لیں گے اور فلور کراسنگ اور ہارس ٹریڈنگ کا سلسلہ شاید حیلے بہانوں سے یونہی چلتا رہے گا۔

اسی بارے میں