’میں خود کو سندھی نہیں بلوچ مانتا ہوں‘

amjad ali

'تم کشمور سے تعلق رکھتے ہو اور کشمور سندھ کا حصہ ہے پلوچستان کا نہیں اس لیے بلوچ کونسل کے بجائے سندھ کونسل کے ممبر بنو۔ میں نے کہا نہیں میں خود کو سندھی نہیں بلوچ مانتا ہوں میرا رہن سہن، رسم و رواج بلوچوں والے ہیں۔'

امجد خان جو کہ قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ مطالعہ پاکستان میں ایم ایس سی کے لاسٹ سیمسٹر میں ہیں کہتے ہیں کہ یہ جھگڑا ان کے اور چند سندھی طالبعلموں کے درمیان تھا لیکن مئی میں یونیورسٹی کی چھ میں سے دو یعنی بلوچی اور مہران (سندھی) کونسلز کے درمیان پر تشدد ہنگامے کی صورت میں ختم ہوا۔

10 طلبا کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا۔ دیگر 30 سے زائد کو بھی جرمانہ ہوا اور ان کے سمسٹرز فریز کر دیے گئے۔

چار اکتوبر سے یونیورسٹی کی طویل بندش اور گذشتہ روز ہونے والے پولیس کریک ڈاؤن کے بعد 70 سے زائد طلبا کی گرفتاری نے قائداعظم یونیورسٹی کے اندر موجود انتظامی مسائل اور سہولیات کو منظر عام پر لایا۔

بڑھتی ہوئی فیس، ہاسٹل میں جگہ اور سہولیات، مختلف شعبوں کا رجسٹرڈ نہ ہونا، فکیلٹی اور وائس چانسلر کے درمیان تنازعات، انتظامی امور میں خرابی اور ناکافی فنڈز جیسے مسائل بشمول ایک لسانی جھگڑے کے درست طریقے سے حل نہ ہونے نے معاملے کو بھرپور احتجاج کی شکل اختیار دے دی۔

انھیں مسائل کو 13 مطالبات کی شکل میں پیش بھی کیا گیا۔

احتجاج جس میں مختلف شعبوں کے طلبا و طالبات شریک ہوئے 21 دن تک جاری رہا نے طلبا کے تعلیمی سال کو خطرے میں ڈال دیا۔

Image caption یونیورسٹی جانے والے تمام راستوں سے اب پتھر اور درخت ہٹا دیے گئے ہیں اور معمول کا تدریسی عمل جاری ہے

13 میں سے 12 مطالبات کو ایچ ای سی کی معاونت سے غور کرنے کے بعد کم و پیش مان لیا گیا لیکن بے دخل کیے جانے والے طلبا کا معاملہ سنڈیکیٹ کمیٹی کے سپرد کیا گیا۔ دیگر گونسلز نے تو کمیٹی کے فیصلے کا انتظار کرنے اور احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا لیکن بلوچ کونسل کے چہروں پر اب بھی اضطراب تھا کیونکہ یونیورسٹی نے کوئی باضابطہ نوٹس جاری نہیں کیا تھا۔

پیر کو جامعہ میں کلاسز بھی شوروع ہوئیں لیکن بلوچ کونسل اور ان کے حامی طلبا کے جاری احتجاج اور تعلیمی سرگرمیاں بند رکھنے کے مطالبے پر پولیس کو بلوا لیا گیا۔

ملکی قانون کے مطابق کسی یونیورسٹی میں طلبا یونین بنانے کی اجازت نہیں ہے۔ یونیورسٹی میں پنجابی، مہران( سندھی)، بلوچ سمیت کل چھ کونسلز میں جو مختلف علاقوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور کیو ایس ایف کی چھتری تلے جمع تھیں لیکن اب بلوچ کونسل اس اتحاد کا حصہ نہیں۔

گرفتار ہونے والے طلبا کے خلاف کوئی ایف آئی آر تو درج نہیں کی گئی تاہم ان سے ایک تحریر پر دستخط کروائے گئے جس میں یہ درج تھا کہ اگر وہ کوئی احتجاج کریں گے یا کسی بھی اس قسم کی سرگرمی میں حصہ لیں گے تو انھیں ایک لاکھ جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

بی بی سی سے گفتگو میں بلوچ کونسل کے جنرل سیکریٹری احسان بلوچ نے کہا کہ 'رات گیارہ بجے ہمیں ایک پیپر پر سائن کروا کے، ہمارے انگوٹھوں کے نشانات، گھر کا ایڈریس اور والدہ کا نام پوچھ کر چھوڑ دیا گیا۔'

لیکن اس حلف نامے کے باوجود منگل کی صبح ڈیڑھ بجے احسان بلوچ کے ہمراہ 50 سے 60 طلبا نے پوری یونیورسٹی میں پلے کارڈز اٹھا کر مارچ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ان آٹھ طلبا کو واپس کلاسوں میں جانے کی اجازت نہیں ملے گی تب تک ان کا 'امن مارچ' جاری رہے گا۔

Image caption اب یونیورسٹی میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے لیکن بلوچ کونسل کا کہنا ہے کہ 'یہ پرامن احتجاج جاری رہے گا یا تو سزا یافتہ طلبہ کو واپس لایا جائے یا ہم سب کو ہی نکال دیا جائے۔'

اساتذہ کی خاموشی طلبا کی گرفتاری کے بعد ٹوٹی جب جینڈر سڈیز سے منسلک اساتذہ نے ایک تفصیلی مذمتی بیان جاری کیا گیا اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ مسائل کے حل کے لیے طلبا، اساتذہ اور انتظامیہ کے درمیان اوپن ڈائیلاگ کیا جائے تاکہ طلباو طالبات کے مسائل کو حل کیا جائے۔

یونیورسٹی کے سکیورٹی انچارج کیپٹن مظہر کہتے ہیں کہ صورتحال ان کے کنٹرول میں نہیں تھی اس لیے سب کچھ اسلام آباد انتظامیہ کے حوالے کردیا گیا۔

بی بی سی کی جانب سے وائس چانسلر سے بارہا بات کرنے کی کوشش کی گئی تاہم کوئی کامیابی نہیں مل سکی۔

29 اکتوبر کو ٹیچر ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر اشتیاق نے پریس کانفرنس سے خطاب میں طلبا کی بہت سی ڈیمانڈز کی حمایت تو کی تاہم انھوں نے طلبا کو دی جانے والی سزا کی حمایت کی۔ انھوں نے اس موقع پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اشرف کو عہدے سے فارغ کرنے کو مسائل کا حل تجویز کیا۔ اس پریس کانفرنس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اساتذہ اور وائس چانسلر کے درمیان شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔

پیر کے واقعے کے بعد بی بی سی سے گفتگو میں طلبا کے نازیبا رویے کا تذکرہ بھی کیا 'مجھے اساتذہ کہتے ہیں کہ ہمیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں ہراساں کیا جارہا ہے، دوسری جانب وائس چانسلر کہتے ہیں کہ ایسوسی ایشن سٹوڈنٹس سے احتجاج کروا رہی ہے۔ میں نے بچوں سے بھی کہا ہے کہ وہ احتجاج ختم کریں، رویہ ٹھیک رکھیں۔'

اس احتجاج میں شرکت کرنے والے طلبا کی تعداد سینکڑوں میں تھی اور وہ کسی مخصوص صوبائی گروپ سے تعلق نہیں رکھتے تھے لیکن یہ بات قابل ذکر ہے کہ زیادہ تر طلبا کا تعلق سوشل سائنسز تھا اور ان میں بہت سے ہوسٹل کے مکین تھے۔

Image caption ہوسٹل میں رہائش طلباو طالبات کی جانب سے موصول ہونے والی یہ تصویر ہوسٹل کے کچن کی ہے

جہاں فیس میں کمی اور یونیوسٹی دوبارہ کھلنے پر طلباو طالبات خوش دکھائی دیے وہیں ہر ایک اس بات پر متفق ہے کہ احتجاج کے نتیجے میں کسی بھی طالبعلم کا سال ضائع کرنا یا اسے یونیورسٹی سے نکال دینا کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں۔

طلباو طالبات میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبا نے یہ شکوہ بھی کیا کہ میڈیا پر اسے بلوچ ایشو سمجھا جا رہا ہے جبکہ دراصل یونیورسٹی کے طلبا لسانی جھگڑوں کے حامی نہیں۔

وہاں کچھ ایسے طلبا بھی تھے جو احتجاج کے حق میں نہیں تھے اور کچھ ایسے بھی تھے جو سمجھتے ہیں کہ یونیورسٹی کے سالہاسال سے قائم جمہوری طرز کو مذہب کی آڑ میں بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے جو شاید کبھی بھی تسلیم نہیں کی جائیں گی۔

احتجاج کرنے والے طلبا کا دعویٰ ہے کہ ان کی حمایت کے لیے دوران احتجاج وفاقی دارالحکومت کی دیگر جامعات کے طلبا بھی آئے اور آنے والے عرصے میں وہاں بھی ایسی صورتحال دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

اسی بارے میں