پاکستان امریکہ تعلقات: ’باتیں دھمکی کی زبان سے نہیں صلح کی زبان سے طے ہوں گی‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ پرانی دوستی کے نتائج پہلے سے ہی بھگت رہا ہے

پاکستان کے وزیرِ خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان اعتماد کا فقدان راتوں رات ختم نہیں ہو گا۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے دورۂ پاکستان کے بعد بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں گذشتہ کئی برسوں میں برف اتنی جم گئی ہے اس کو پگھلنے میں وقت لگے گا۔

تاہم انھوں نے کہا کہ اس وقت جو کوششیں ہو رہی ہیں اس سے ہم صحیح سمت میں جا رہے ہیں اور اس سے بہتر صورتحال پیدا ہو گی۔

امریکہ پاکستان سے چاہتا کیا ہے؟

خطے کے امن کے لیے پاکستان بہت اہمیت رکھتا ہے: ٹلرسن

امریکہ کے پاکستان پر افغانستان کے معاملے پر پائے جانے والے خدشات کے حوالے سے سوال کے جواب میں وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ پرانی دوستی یاری کے نتائج پہلے سے ہی بھگت رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ'ہم نے ستر ہزار جانوں اور اربوں ڈالر کا کا نقصان اٹھا لیا ہے، ہمارا پرامن کلچر اور برداشت پر مبنی معاشرہ تھا، وہ سب برباد ہو گیا اور اس سے برے نتائج ہمیں امریکہ کیا بھگتوائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نتائج بھگت رہے ہیں اور جو نتائج ہمیں امریکہ کے ساتھ دوستی میں بھگتنے پڑے ہیں ابھی صرف ان کو ٹھیک کر رہے ہیں جس میں اللہ ہماری مدد کر رہا ہے اور قوم اس پر متحد ہے۔'

انھوں نے یہ بھی کہا کہ 'یہ باتیں دھمکی کی زبان سے نہیں صلح کی زبان سے طے ہوں گی۔ ہمارا محفوظ ٹھکانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان (طالبان) کے پاس افغانستان میں 45 فیصد علاقہ ہے اور یہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اپنے کارناموں اور کارکردگی کی وجہ سے انھیں مہیا کیا ہے۔ وہاں پر ان کی پناہ گاہیں ہیں جہاں سے وہ پاکستان میں اور افغانستان میں بھی حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ نے رکاوٹ ڈالی‘

پاکستانی قوم کو قربانی کا بکرا بنانا قبول نہیں: خواجہ آصف

’حافظ سعید معاشرے کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں‘

وزیر خارجہ نے کہا کہ'یہ امریکہ کو بھی سوچنا چاہیے کہ وہ بھی تھوڑا اپنے گریبان میں جھانکے کہ اس نے 16 برس میں افغانستان میں کیا کارنامے سرانجام دیے ہیں۔'

خواجہ آصف نے روس کے افغانستان سے انخلا کے بعد امریکہ کی جانب سے پاکستان کو تنہا چھوڑنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ’'تیس چالیس سال کی دوستی نے امریکہ نے ہمیں بہت کچھ سکھایا ہے اور پاکستان مشکل حالات سے سر اٹھا کر نکلے گا۔‘

پاکستانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ہم امریکہ کے ساتھ دوستی بھی رکھنا چاہتے ہیں لیکن اعتماد اور عزت و وقار کے ساتھ۔ ہمیں ان سے کوئی معاشی امداد اور اسلحہ نہیں چاہیے، کچھ نہیں چاہیے بس صرف اور صرف احترام چاہیے جس میں وہ عزت سے بات کریں اور ہم بھی ان کے ساتھ عزت اور احترام کے ساتھ پیش آئیں گے، ہمارے ستر سال کے تعلقات ہیں اور انھیں ہم جاری رکھنا چاہتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شاہد خاقان عباسی اور ریکس ٹلرسن کے درمیان مسکراہٹ کا تبادلہ ہوا

امریکی وزیر خارجہ کا روایتی گرمجوشی سے عاری دورہ پاکستان

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن سے ملاقات کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ بات چیت میں دو طرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور تبدیل ہوتی عالمی صورتحال کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

ملاقات میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے علاوہ بری فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ، آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل، وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف، وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر دفاع خرم دستگیر خان اور دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی موجود تھے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے منگل کو امریکی وزیر خارجہ کے اسلام آباد کے مختصر دورے کے بارے میں اپنے مراسلے میں لکھا ہے کہ یہ دورہ اس روایتی گرجوشی سے عاری تھا جو کسی غیر ملکی اہم شخصیت کے دورے کے دوران دیکھنے میں آتی ہے۔

اے ایف پی کا کہنا ہے کہ ریکس ٹیلرسن کا وزارتِ خارجہ کے ایک درمیانی سطح کے اہلکار نے چکلالہ کے ہوائی اڈے پر اترنے پر استقبال کیا جہاں سے وہ سخت سیکیورٹی پہرے میں گاڑیوں کے ایک قافلے میں اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں واقع امریکی سفارت خانے چلے گئے۔

برطانوی خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق حالیہ مہینوں میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات، واشنگٹن کی طرف سے پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کی کارروائیوں سے مبینہ طور پر آنکھیں بندے کیے رکھنے کے الزامات کے بعد سے تناؤ کا شکار رہے ہیں۔

روئٹرز کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی خطے کے بارے میں نئی پالیسی کے اہم نکات پاکستان کے درینہ دشمن انڈیا کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینا ہے اور پاکستان پر دہشت گردی کے خلاف مزید کارروائیاں کرنے کے لیے دباؤ قائم رکھنا ہے۔

خبررساں ادروں کے مطابق دونوں وفد کی آمنے سامنے ہونے والی ملاقات میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ آگے بڑھنے اور گہرے تعلقات استوار کرنے کی طرف دیکھ رہا ہے۔

حال ہی میں امریکی خفیہ اطلاعات کی روشنی میں پاکستانی فوج کی ایک کارروائی میں حقانی نیٹ ورک کے قبضے سے ایک امریکی خاندان کی بازیابی کے بعد امریکہ اور پاکستان میں تعلقات میں کچھ بہتری دیکھنے میں آئی تھی۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرنس کے اس دورے کے بعد دسمبر میں امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کا بھی پاکستان کا دورہ متوقع ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں