’ملزمان عدالت کو ’ایزی‘ لے رہے ہیں‘

پولیس

سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے خلاف فرد جرم عائد ہونے کے بعد آج پہلی پیشی تھی۔ نواز شریف نہ تو پاکستان آئے اور نہ ہی احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔

جوڈیشل کمپلکس میں واقع احتساب عدالت میں سماعت شروع ہونے سے پہلے اسلام آباد پولیس کے سپیشل برانچ کے اہلکاروں کو داخل ہونے دیا گیا جس کے بعد مریم نواز کے استقبال کے لیے پہلے سے آئے ہوئے ارکان پارلیمان اور چند وفاقی وزرا کو کمرہ عدالت میں جانے کی اجازت دی گئی۔

احتساب عدالت میں نواز شریف پھر نہیں آئے

نواز شریف کے دو ریفرنسوں میں قابلِ ضمانت وارنٹ جاری

سکیورٹی اہلکاروں نے ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس سے متعلق سرکاری گواہ اور سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں تعینات سدرہ منصور کو بھی روک لیا اور اس وقت تک اُنھیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی جب تک نیب کی پراسیکیوشن ٹیم نے پولیس اہلکاروں کو یہ نہیں بتایا کہ وہ سرکاری گواہ ہیں اس لیے اُنھیں اندر جانے کی اجازت دی جائے۔

سدرہ منصور کمرہ عدالت میں داخل ہونے کے بعد اس جانب بیٹھ گئیں جس طرف نیب کی پراسیکوشن ٹیم بیٹھتی ہے۔

سب سے آخر میں میڈیا کے نمائندوں کو کمرہ عدالت میں جانے کی اجازت دی گئی۔ کمرہ عدالت میں صرف انہی افراد کو جانے کی اجازت دی گئی جن کے نام رجسٹرار آفس سے منظور ہوکر آئے تھے۔

پہلے کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کمرہ عدالت میں پیش ہوئے اور پھر اس سے کچھ دیر کے بعد مریم نواز کمرہ عدالت میں پیش ہوئیں۔

کچھ دیر کے بعد مریم نواز کو بتایا گیا کہ اس مقدمے کی سرکاری گواہ سدرہ منصور بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں جب مریم نواز نے سرکاری گواہ کی طرف ’آنکھ بھر کے‘ دیکھا تو سرکاری گواہ نے اپنی نظریں نیچی کرلیں۔ کچھ دیر کے بعد سدرہ منصور نے عدالتی اہلکار سے پانی مانگا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار سرکاری گواہ کے اردگرد جمع ہوگئے۔

ایس ای سی پی کی افسر سدرہ منصور جتنی دیر بھی کمرہ عدالت میں موجود رہیں اس وقت تک وہ انگلیوں پر تسبیح پڑھتی رہیں۔

سماعت شروع ہونے سے پہلے وہاں پر موجود سکیورٹی کے انچارج کو طلب کیا گیا اور اس نے وہاں پر موجود پولیس کے اہلکاروں کو بتایا کہ جج صاحب نے کہا ہے کہ اُنھیں شور پسند نہیں ہے۔ سکیورٹی انچارج کے بقول جج صاحب نے کہا ہے کہ وہ شور مچانے والے کے بارے میں کورٹ روم میں کچھ نہیں کہیں گے بلکہ اُنھوں نے کہا ہے کہ ’وہ آنکھ اُٹھائیں تو بندہ کمرہ عدالت سے باہر ہو۔‘

جب بی بی سی نے استفسار کیا کہ ایسا کیوں ہے تو سکیورٹی اہلکار کا کہنا تھا کہ وہ عدالتی حکم ماننے کے پابند ہیں۔

سماعت کے دوران ایک موقع پر نیب کے پراسیکیوٹر افضل قریشی نے اُونچی آواز میں کہا کہ ’مائی لارڈ میں 20 ویں گریڈ کا افسر ہوں‘ اور ملزم نواز شریف کے وکیل اس مقد مے کو طوالت دینے کے لیے درخواستیں دے رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ملزمان عدالت کو ’ایزی‘ لے رہے ہیں لہذا عدالت ملزم نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری کرے اس پر احتساب عدالت کے جج نے نیب کے پراسیکیوٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایک تو اپنی آواز نیچی رکھیں اور دوسرا یہ کہ یہ کمرہ عدالت ہے کوئی جلسہ گاہ نہیں ہے جہاں پر اپ لوگوں سے خطاب کر رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر ایسا کرنا ہے تو کمرہ عدالت سے باہر جاکر کریں۔ عدالت نے نیب کے پراسیکیوٹر سے کہا کہ وہ نواز شریف کی درخواست پر تبصرہ نہ کریں اگر کوئی قانونی دلیل ہے تو عدالت اس کو ضرور سنے گی۔ احتساب عدالت کے جج کا کہنا تھا کہ ان کا نہ تو ملزمان سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی نیب سے۔ اس لیے اس عدالت میں جو بھی کاروائی ہوگی وہ قانون کے مطابق ہوگی۔

حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمان کمرہ عدالت میں جانا چاہتے تھے لیکن وہاں پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے اُنھیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی جس پر ان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

اسی بارے میں