’ویل چیئر میری شخصیت کا تعین نہیں کرتی‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
بیماری شوق پورے کرنے سے نہیں روک سکتی

نوال اکرم محض چھ برس کی تھیں جب ڈاکٹرز نے انھیں بتایا کہ ایک جینیاتی بیماری کے باعث ان کے جسم کے پٹھے وقت کے ساتھ کمزوری کا شکار ہوتے جائیں گے۔ ایسا ہی ہوا۔ یہاں تک کہ 11 برس کی عمر میں انھیں نقل و حرکت کے لیے ویل چیئر کا سہارا لینا پڑا۔

اس دوران بہت کچھ تبدیل ہوا۔ چلنے پھرنے میں تکلیف کے باعث انھیں سکول سے یہ کہہ کر نکال دیا گیا ان کو دیکھ کر ساتھی طلبہ پر برا اثر پڑے گا۔ مخصوص بچوں کے تعلیمی اداروں نے انھیں داخلہ دینے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ ذہنی طور پر مکمل صحت مند تھیں۔

وہیل چیئر شخصیت کی ترجمانی نہیں کرتی

محض گھر تک محدود ہونے اور خواہش کے باوجود تعلیم سے دوری نے انھیں ڈپریشن میں مبتلا کر دیا۔ ایسے میں خلیجی ملک قطر کے شہر دوحہ میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والی نوال کے والدین نے ان کا ساتھ دیا۔

دیگر کئی بچوں کی طرح انھیں گھر پر نہیں بٹھایا گیا اور نہ ہی معاشرے سے چھپایا گیا۔ انھیں گھر پر نہ صرف تعلیم دی گئی بلکہ زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ اور مواقع بھی فراہم کیے گیے۔

نوال نے نہ صرف ڈپریشن سے جنگ جیتی بلکہ انھوں نے سکول کی تعلیم کی عدم دستیابی جیسی رکاوٹوں کو عبور کیا اور آج وہ دوحہ اور اس کے باہر سماجی حلقوں میں جانی پہچانی جاتی ہیں۔

اپنی الیکٹرک ویل چیئر پر بنا کسی سہارے کے گھومتی پھرتی نوال دوحہ کی پہلی خاتون کامیڈین تھیں، وہ ویل چیئر ہی پر ماڈلنگ کرتی ہیں، مہم جو کھیلوں میں حصہ لے چکی ہیں اور انھوں نے مسکیولر ڈسٹروفی کے حوالے سے آگاہی اور اس سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے'مسکیولر ڈسٹروفی قطر' کے نام سے ایک تنظیم بھی بنا رکھی ہے۔

حال ہی میں بی بی سی کی سنہ 2017 کی 100 ویمن سیریز نے بھی نوال اکرم کا انتخاب کیا۔ وہ مشرق وسطٰی سے منتخب ہونے والی چند خواتین میں ایک ہیں۔

'دماغی طور پر ٹھیک ہونے کے باوجود سکول نہ جا پانے اور اپنے کام نہ کر پانے کی الجھن ناقابلِ برداشت تھی۔ دو سال تک میں ڈپریشن کا شکار رہی۔ پھر میں نے فیصلہ کیا کہ میں بھی وہ سب کچھ کر سکتی ہوں جو میں کرنا چاہتی ہوں۔'

ان کے اس عزم کی تکمیل میں ان کے تمام خاندان نے ان کا ساتھ دیا۔ نوال کو یہ سکھایا گیا کہ وہ کسی سہارے کی محتاج نہیں ہیں۔

نوال نے اپنی جینیاتی بیماری کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے خود کو تیار کیا جو وقت کے ساتھ صرف بگڑ سکتی تھی ٹھیک نہیں ہو سکتی تھی۔

اس کے باوجود کہ پٹھوں کی بڑھتی کمزوری کے ساتھ یہ سب کرنا انتہائی دشوار گزار ہوتا ہے وہ پیرالمپک مقابلوں کی تربیت لے چکی ہیں، پیراگلائڈنگ اور غوطہ خوری جیسے مہم جو کھیلوں میں حصہ لیتی اور باقاعدہ تیراکی بھی کرتی ہیں۔

'خود کو ہر وقت حرکت میں رکھنا ہی اس بیماری کے خلاف بہترین دفاع ہے اور اسی وجہ سے میں اس بیماری میں مبتلا دیگر لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہوں۔'

کبھی کبھار اس بیماری کے انتہائی حملے کے نتیجے میں نوال اپنے ہاتھ اور پاؤں کو حرکت دینے سے بھی قاصر ہو جاتی ہیں۔

Image caption حال ہی میں بی بی سی کی سنہ 2017 کی 100 ویمن سیریز نے بھی نوال اکرم کا انتخاب کیا۔ وہ مشرق وسطٰی سے منتخب ہونے والی چند خواتین میں ایک ہیں

انھوں نے کچھ عرصہ قبل ایک مقامی ہوٹل کی شراکت سے مسکیولر ڈسٹرافی قطر کی طرف سے 'موو اے مسل' نام سے ایک مہم چلائی جس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے حصہ لیا۔

'جب میں نے ان کھیلوں میں حصہ لیا تو تب ہی مجھے اندازہ ہوا کہ ہاں میں یہ کر سکتی ہوں۔ ہمیں خود کو محدود نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنی حقیقی صلاحیتوں کا اندازہ تب ہی ہو گا جب ہم خود کو آزمائیں گے۔'

نوال کا کہنا ہے کہ انھیں میڈیا پر آنے اور ماڈلنگ کا شوق سوشل میڈیا یا سماجی رابطوں کی ویب سائٹس سے ہوا۔ ابتدا میں یہ دوستوں اور لوگوں کے ساتھ رابطے کا ذریعہ تھا جہاں سے آگے بڑھ کر انھوں نے اس میڈیم کو اپنے لیے سماجی انضمام کی سیڑھی بنایا۔

نوال نے حال ہی میں دوحہ میں ایک تصویری پراجیکٹ میں ماڈلنگ کی جس میں ان کو ان کی ویل چیئر کے ساتھ اس پیغام کے ساتھ دکھایا گیا ہے کہ ویل چیئر محض نقل و حرکت کا ذریعہ ہے اور وہ ان کی خوبصورتی کو مائل نہیں کرتی۔

اس کے علاوہ وہ روایتی قطری لباس عبائیہ اور دیگر ملبوسات میں بھی فیشن شوز میں حصہ لے چکی ہیں۔

نوال کہتی ہیں جب انھوں نے قطر میں ویل چیئر پر پہلی خاتون کی حیثیت سے سٹیج پر جا کر کامیڈی کا آغاز کیا تو ابتدا میں لوگ ہچکچاتے تھے کہ ہنسنا چاہیے یا نہیں۔

'وہ شاید مجھ سے ہمدردی محسوس کرتے تھے لیکن پھر ان کو اندازہ ہوا کہ یہ بھی ہماری طرح ہی عام انسان ہے اور مزاحیہ بھی ہے اس کے مذاق ہمیں ہنسا سکتے ہیں۔'

جہاں نوال کو ان کی ہمت اور حوصلے پر پذیرائی ملی وہیں چند حلقوں کی جانب سے انھیں خصوصاً ماڈلنگ کرنے پر کچھ نفرت بھی برداشت کرنا پڑی۔

'وہ کہتے تھے کہ یہ ویل چیئر کے ساتھ خوبصورت نہیں لگتی، اسے یہ کام نہیں کرنا چاہیے اور اسے گھر بیٹھنا چاہیے۔'

Image caption نوال کا کہنا ہے کہ انھیں میڈیا پر آنے اور ماڈلنگ کا شوق سوشل میڈیا یا سماجی رابطوں کی ویب سائٹس سے ہوا

تاہم نوال نے ایسی منفی باتوں پر توجہ نہیں دی۔

'ویل چیئر میں صرف حرکت کے لیے استعمال کرتی ہوں۔ ویل چیئر میری شخصیت کا تعین نہیں کرتی۔'

نوال کا کہنا ہے کہ وہ جانتی ہیں کہ قطر اور خطے کے دیگر ممالک میں بھی اس جینیاتی بیماری سے متاثر کئی افراد موجود ہیں تاہم یہاں پائی جانے والی سماجی پابندیوں اور معذوری سے جڑے دقیانوسی تصورات کے باعث وہ باہر نہیں نکلتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسے افراد ہمت کریں اور ان رکاوٹوں کو عبور کریں تو وہ دوسروں کے ساتھ مل کر کہیں بہتر زندگی ترتیب دے سکتے ہیں۔ اسی مقصد کے لیے انھوں نے اپنی تنظیم قائم کی ہے۔

وہ مستقبل میں اسے قطر سے باہر لے کر جانا چاہتی ہیں۔ وہ اپنے کام سے لوگوں کو دکھانا چاہتی ہیں کہ ویل چیئر کے ساتھ بھی ایک بھرپور زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ اس تنظیم کے ذریعے وہ دنیا کی توجہ اس بیماری کا علاج تلاش کرنے کی جانب بھی مبذول کروانا چاہتی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں