نیب ریفرنسز کب کیا ہوا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/NA

پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما لیکس کے مقدمے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دیا گیا اور قومی احتساب بیورو کو نواز شریف، اُن کے بچوں، داماد اور اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس دائر کرنا کا حکم دیا ہے۔ نیب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف مقدمات زیر سماعت ہیں۔

نواز شریف اب تک عدالت میں دو بار جبکہ اُن کی صاحبزادی مریم نواز اور اُن کے شوہر محمد صفدر چار چار مرتبہ احتساب عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔ حسن اور حسین نواز کو عدالت میں پیش نہ ہونے پر اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔عدالت میں اب تک کیا کیا ہوا؟

  • 28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ نے اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دیا اور نیب کو شریف خاندان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا۔
  • 7 ستمبر 2017 کو قومی احتساب بیورو نے نواز شریف، اُن کے بچوں اور داماد محمد صفدر کے خلاف تین ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا۔
  • 8 ستمبر 2017 کو احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کر دیے گئے۔
  • 19 ستمبر کو اسلام آباد میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے مقدمات کی سماعت شروع کی۔ اس پہلی سماعت میں شریف خاندان کی جانب میں کوئی بھی پیش نہیں ہوا اور نواز شریف کے مشیر آصف کرمانی نے عدالت میں پیش ہو کر کہا کہ نواز شریف کی اہلیہ کینسر کے علاج کے لیے لندن میں موجود ہیں اور شریف خاندان اُن کی تیمار داری میں مصروف ہے۔ عدالت نے شریف خاندان کو عدالت میں حاضر کرنے کے لیے دوسرا سمن جاری کیا۔
  • 26 ستمبر کو سابق وزیراعظم نواز شریف پہلی بار احتساب عدالت میں پیش ہوئے اور جج محمد بشیر نے ملزم محمد نواز شریف کی طرف دیکھا اور کہا کہ آپ کی حاضری لگ گئی ہے 'اب آپ جاسکتے ہیں'۔
  • 2 اکتوبر کو محمد نواز شریف احتساب عدالت میں دوبارہ پیش ہوئے، جہاں آف شور کمپنیوں کے قیام، العزیزیہ سٹیل مل اور لندن فلیٹس کے حوالے سے ریفرنسز کی سماعت کی۔
  • 9 اکتوبر کو نیب کے اہلکاروں نے محمد صفدر کو ایئر پورٹ سے گرفتار کرنے کے بعد عدالت میں پیش کیا اور مریم نواز بھی عدالت میں پیش ہوئیں۔
  • 13 اکتوبر احتساب عدالت نے وکلا کے احتجاج کے باعث پیدا ہونے والی بدمزگی کے بعد نواز شریف پر تین جبکہ مریم نواز اور ان کے شوہر پر ایک مقدمے کی سماعت بغیر کسی کارروائی کے 19 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
  • 19 اکتوبر اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نااہل قرار دیے گئے وزیر اعظم نواز شریف پر دو جبکہ ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد ریٹائرڈ صفدر پر ایک ریفرنس میں فرد جرم عائد کردی ہے۔
  • 20 اکتوبر کو نواز شریف کی غیر حاضری میں اُن کے خلاف تیسرے فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں فردِ جرم عائد کی گئی۔
  • 26 اکتوبر احتساب عدالت نے نواز شریف کے دو ریفرنسوں میں قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں جبکہ تیسرے ریفرنس میں ان کے ضمانتی کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں