این اے چار کے ضمنی انتخاب کے چار سبق

پاکستان، ضمنی انتخاب

پاکستان کی قومی اسمبلی کے حلقے این اے چار میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار ارباب عامر ایوب نے 46 ہزار 631 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کر لی ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے ضمنی انتخاب کے غیر حتمی ابتدائی نتائج کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے خوشدل خان دوسرے اور پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار ناصر خان موسیٰ تیسرے نمبر پر رہے۔

این اے چار کا انتخاب کس کےلیے آزمائش؟

قومی اسمبلی کی پشاور کی نشست پر ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ میں لوگوں نے بڑی تعداد میں حصہ لیا اور خواتین کی ووٹ ڈالنے کی شرح بھی زیادہ رہی۔ اکثر پولنگ سٹیشنوں پر پولنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ووٹروں کی قطاریں موجود تھیں۔

2018 کے عام انتخابات سے قبل پشاور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این چار سے چار نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں:

1 تحریک انصاف کی مقبولیت برقرار

عام انتخاب 2013 میں قومی اسمبلی کے اس حلقے سے تحریک انصاف کے امیدوار گلزار خان کامیاب ہوئے تھے۔ اُن کے انتقال کے بعد نشست خالی ہونے کے بعد ضمنی انتخاب ہوا۔ اس انتخاب میں بھی پی ٹی آئی کے امیدوار بہت زیادہ فرق سے کامیاب ہوئے اور انھیں 46 ہزار سے زیادہ ووٹ ملے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کا ووٹ بینک برقرار ہے اور تحریک انصاف پشاور کی مقبول ترین جماعت ہے۔

2 عوامی نیشنل پارٹی کی بہترین کارکردگی

بائیں بازو کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کو گذشتہ عام انتخابات میں سخت ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اُن کے بقول انتخابات سے قبل انھیں بھرپور عوامی مہم چلانے کا موقع نہیں دیا گیا تھا۔ این اے چار کے ضمنی انتخاب میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار خوشدل خان 24 ہزار 883 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پشاور کے عوام اب بھی اے این پی کی حمایت کرتے ہیں اور اے این پی بھرپور مہم چلانے کے بعد ووٹروں کو باہر نکالنے میں کامیاب ہوئی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق اس ضمنی انتخاب میں ووٹ ڈالنے کی شرح 33 فیصد سے زائد رہی۔

3 ن لیگ اور جے یو آئی کا ناکام اتحاد

پشاور کے ضمنی انتخاب میں مرکز میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ کے درمیان اتحاد ہوا تھا۔ صوبہ میں اثر و رسوخ رکھنے والی جے یو آئی نے پی ایم ایل این کے امیدوار کی حمایت بھی کی تھی لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ اتحاد زیادہ کارگر ثابت نہیں ہو رہا ہے اور مسلم لیگ ن کے امیدوار ناصر خان موسیٰ زئی 24 ہزار 740 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔

اس اتحاد کی نا کامی کا فائدہ بظاہر ایک اور مذہبی جماعت تحریکِ لیبیکِ پاکستان کو ہوا جیسے نو ہزار ووٹ ملے۔

4 پیپلز پارٹی کے لیے منزل دور

لاہور کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کو پشاور کے ضمنی انتخاب میں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ گو کہ یہاں انھیں لاہور کے مقابلے میں زیادہ ووٹ پڑے لیکن اسی حلقے سے کامیاب ہونے والے تحریک انصاف کے سابق رکنِ اسمبلی گلزار خان کے بیٹے کو ٹکٹ دینے کے بعد بھی وہ محض 13 ہزار ووٹ لے سکے۔

ان نتائج سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کو خیبر پختوانخوا سے کوئی نشست لینے کے بہت محنت کرنا پڑے گی۔

اسی بارے میں