عینی شاہدین کے مطابق جب صحافی احمد نورانی پر حملہ ہوا تو ’پولیس قریب ہی موجود تھی‘

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جنگ گروپ سے تعلق رکھنے والے صحافی احمد نورانی چند نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق احمد نورانی جمعے کے روز کسی خبر کے سلسلے میں راولپنڈی گئے تھے کہ واپسی پر اسلام آباد کے علاقے زیرو پوائنٹ کے قریب تین موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے زبردستی ان کی گاڑی کو روکا اور پھر اُنھیں گاڑی سے نکال کر تشدد کا نشانہ بنایا۔

عینی شاہدین کے مطابق جس وقت نامعلوم مسلح افراد احمد نورانی کو تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے اس وقت اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کی ایک قابل ذکر تعداد قریب ہی موجود تھی تاہم ان میں سے کسی نے بھی مداخلت نہیں کی اور ملزمان مقامی صحافی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اسے زخمی حالت میں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

احمد نوارنی کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ڈاکٹروں کے بقول ان کی حالت خطرے سے باہر بیان کی جاتی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق مقامی پولیس نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، تاہم ابھی تک کسی کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

ایس پی سٹی شیخ زبیر کے مطابق اس واقعے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا جا رہا ہے اور یہ مقدمہ اقدام قتل کی دفعات کے تحت درج کیا جائے گا اور ان دفعات کے تحت درج کیا جانے والا مقدمہ ناقابل ضمانت ہوتا ہے۔

تاحال احمد نورانی پر حملے کے محرکات سامنے نہیں آ سکے ہیں۔

ماضی قریب میں احمد نورانی سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف پاناما لیکس سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواستوں کی سماعت کے حوالے سے خبریں بھی دیتے رہے ہیں جو کہ مبصرین کے مطابق حکمران جماعت کے حق میں زیادہ ہوتی تھیں۔

مذکورہ صحافی کو سپریم کورٹ کے جج اور پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ میں شامل جسٹس اعجاز افضل کو بارہا ٹیلی فون کرنے اور اس ضمن میں خبریں لگانے پر توہین عدالت میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کر رکھا ہے۔

احمد نورانی سوشل میڈیا پر بھی خاصے سرگرم تھے تاہم چند دن پہلے انھوں نے اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ بند کر دیا تھا۔

صحافتی تنظیم راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آر آئی یو جے) کی جانب سے بھی اس حملے کی مذمت کی گئی ہے۔

تنظیم کی جانب سے جاری کردہ مذمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس طرح کے بزدلانہ حملوں سے سچ کی آواز نہیں دبائی جا سکتی۔ یہ شہر اقتدار میں سچ کی آواز دبانے کی بزدلانہ کوشش ہے۔‘

دوسری جانب آر آئی یو جے اور نیشنل پریس کلب اسلام آباد نے احتجاجی مظاہرے کا بھی اعلان کیا ہے۔

صحافتی تنظیموں کے علاوہ حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے اس واقعے کی مذمت کی گئی ہے اور سوشل میڈیا پر بھی اس سلسلے میں ردعمل دیکھنے کو ملا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے احمد نورانی کی صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دلخراش واقعہ ہے۔

تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ صحافیوں پر تشدد اور احمد نورانی پر حملے کی مذمت کرتے ہیں۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ احمد نورانی پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے ٹویٹ کیا کہ’احمد نورانی پر حملہ انتہائی قابل مذمت ہے۔۔۔ وہی قاتل وہی شاہد وہی منصف ٹھہرے، اقربا میرے کریں قتل کا دعویٰ کس پر۔‘

سینیئر صحافی مرتضیٰ سولنگی نے ٹویٹ کیا کہ 'احمد نورانی پر تشدد کا واضح مقصد انھیں اور عام طور پر صحافیوں کو خاموش کروانا ہے۔ کیا وہ انھیں خاموش کروانے میں کامیاب ہو جائیں گے؟

عالمی صحافتی تنظیمیں پاکستان کو دنیا بھر میں صحافت کے لیے خطرناک ترین ممالک میں شمار کرتی ہیں اور یہاں حالیہ چند ہفتوں میں بھی صحافیوں کو ہراساں کرنے کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں۔

گذشتہ ماہ اسلام آباد میں ہی صحافی مطیع اللہ جان کی گاڑی پر اس وقت دو موٹرسائیکلوں پر سوار نامعلوم افراد نے پتھر پھینکے تھے جب وہ اپنے بچوں کے ہمراہ مضافاتی علاقے بارہ کہو جا رہے تھے۔ اس حملے میں ان کی گاڑی کی ونڈ سکرین ٹوٹ گئی تھی تاہم وہ محفوظ رہے تھے۔

اسی بارے میں