رحیم یارخان: توہین آمیز خاکے شائع کرنے پر عمر قید کی سزا

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

رحیم یار خان کی ڈسٹرکٹ جیل میں ہونے والی سماعت میں ایڈیشنل سیشن جج نے انٹرنیٹ پر توہین آمیز خاکے شائع کرنے کا جرم ثابت ہونے پر ملزم کو عمر قید اورایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزاسنائی ہے۔

صادق آباد کے صدر تھانے کے ایس ایچ او عبدل ہادی نے بی بی سی کے نامہ نگار عابد حسین سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ سال جولائی میں ان کے سامنے یہ کیس پیش آیا جس میں وقاص احمد بھیٹ نامی نوجوان پر الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے فیس بک پر توہین آمیز خاکے شائع کیے ہیں اور اس سے مسلمانوں کے احساسات مجروح ہوئے ہیں۔

توہین مذہب کے حوالے سے خبریں پڑھیے

مشال قتل کیس: ’توہین رسالت کا بہانہ بنایا گیا تھا‘

پارلیمان توہینِ رسالت کے قانون کا غلط استعمال روکنے کے لیے پرعزم

مسلم دنیا میں توہینِ مذہب کے قوانین

عبدل ہادی کے مطابق ایف آئی آر ان کی مدعیت میں درج کی گئی جبکہ مقدمے کی سماعت دو ماہ قبل شروع ہوئی تھی اور اس کا فیصلہ سنیچر کی دوپہر کو سناگیا۔

واضح رہے کہ ملزم وقاص احمد بھیٹ کو ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر 90 روز کےلیے ڈسٹرکٹ جیل میں نظر بند بھی رکھا گیا تھا جبکہ مقدمہ کی ابتدائی سماعت سکیورٹی کے پیش نظر ڈسٹرکٹ جیل میں کی جاتی رہی ہے جہاں ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے اس درج مقدمہ کا فیصلہ سنایا۔

اسی بارے میں