اسلام آباد میں جی ایچ کیو کے اخراجات فوج خود اٹھائے گی

جی ایچ کیو
Image caption جی ایچ کیو کے لیے مختص علاقے کا داخلی گیٹ

پاکستانی فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹرز، جی ایچ کیو کو راولپنڈی سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد منتقل کرنے کا دیرینہ منصوبہ مالی وسائل کی وجہ سے سست روی کا شکار تو نظر آتا ہے تاہم فوج اس کے لیے تمام اخراجات خود برداشت کر رہی ہے۔

ملک کی برّی، بحری اور فضائی افواج کے ہیڈ کوارٹرز کو وفاق میں منقتل کرنے کا فیصلہ سنہ 1970 میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں ہوا تھا۔

مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں بحریہ کا نیول کمپلیکس اور فضائیہ کا پی اے ایف سیکٹر ای ایٹ اور نائن میں کئی برس پہلے ہی کراچی اور پشاور سے منتقل کیے گئے تھے۔ جبکہ دو سیکٹرز ای ٹین اور ڈی الیون کو جی ایچ کیو کے لیے مختص کیا گیا تھا۔

ایوان بالا کی کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کو کمیٹی کو دفاعی حکام کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ میں جی ایچ کیو کے ماسٹر پلان کے بارے میں بتایا گیا۔

مشاہد حسین کے مطابق 2008 میں جی ایچ کیو کے پلان کو معطل کر کے اس کے لیے مختص فنڈز کو 'سپاہیوں کے سال' کے حوالے سے سپاہیوں کی فلاح کے لیے دے دیا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ 'تین سال قبل یہ پراجیکٹ بحال ہوا تھا اور اب اس پر آہستہ آہستہ عملدرآمد ہو رہا ہے۔ اس پر عمارتیں بھی بن رہی ہیں، کام ہو رہا ہے جہاں ان کو زمین دی گئی تھی۔'

Image caption سنہ 2009 میں جی ایچ کیو کو دہشت گردی کے ایک بڑے حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ اسی برس دسمبر میں اسلام آباد میں موجود نیول ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی
تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جی ایچ کیو راولپنڈی کا داخلی راستہ

رواں برس جون میں میڈیا پر یہ خبر سامنے آئی تھی کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی، سی ڈی اے نے اس منصوبے کے حوالے سے اپنی آڈٹ رپورٹ میں دو اعتراضات اٹھائے تھے۔

کیا سی ڈی اے اور فوج کے درمیان جی ایچ کیو کے لیے مخصوص کی جانے والی زمین کی قیمت کے بارے میں معاملات حل ہو سکے ہیں؟

اس سوال کے جواب میں سینیٹر مشاہد حسین نے بتایا کہ مسئلہ کافی حد تک حل ہو گیا ہے۔

'یہ تو حکومت کے دو محکموں کے درمیان اندرونی معاملہ ہے، سی ڈی اے کی زمین ہے، زمین دی گئی تھی فوج کو اور اس میں ان کا آپس میں سلسلہ چلتا رہتا ہے، کئی دفعہ ان کے ریٹ تبدیل بھی ہوتے رہتے ہیں۔ کیونکہ زمین ایک زمانے میں دی گئی تھی اب دوسرا سلسلہ ہے، وہ انتظامی مسئلہ ہےاس میں ہم کوئی قباحت نہیں سمجھتے ہیں، اب وہ مسئلہ کافی حد تک حل بھی ہو گیا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ تصویر 28 اکتوبر سنہ 2008 کی ہے جب جی ایچ کیو کے منصوبے پر عملدرآمد کے کچھ ہی عرصے کے بعد اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اسے معطل کر دیا تھا

اسلام آباد کی اس آخری شاہراہ پر سیکٹر ای ٹین اور ڈی الیون سے گزر ہو تو جی ایچ کیو کا تعمیراتی کام تو خال خال ہی نظر آتا ہے تاہم اس سیکٹر میں داخلے کے لیے آپ کو داخلی گیٹ سے شناخت کروا کر ہی گزرنا پڑے گا۔

اس سیکٹر میں سنیاڑی نامی گاؤں کے علاوہ دو اور بھی گاؤں موجود ہیں جن کے رہائشی مکانات کی تعداد 100 سے کچھ اوپر ہے۔

سینیٹر مشاہد حسین کے مطابق اس علاقے میں 5000 نفوس آباد ہیں اور ابھی ان کا ایک نئے مقام پر منتقل ہونا باقی ہے اور اس سلسلے میں گفتگو چل رہی ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما اور ممبر سینٹ دفاعی کمیٹی جنرل (ر) عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت نہ صرف جی ایچ کیو بلکہ جوائنٹ سروسز ہیڈ کوارٹر اور منسٹری آف ڈیفنس بھی ای ٹین میں منتقل ہوں گے۔

انھوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے لیے پہلے ستر ارب روپے کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا تھا جو اب بڑھ کر 100 ارب روپے پر پہنچ گیا ہے اور اس کے لیے فوج خود فنڈز کا انتظام کر رہی ہے۔

'کچھ فنڈز ریلیز ہو گئے ہیں اور کچھ ابھی باقی ہیں۔آرمی مختلف جگہوں پر اپنی زمین بیچ کر خود فنانس کرے گی'

جنرل (ر) عبدالقیوم سمجھتے ہیں کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کا اس منصوبے کو معطل کرنے کا فیصلہ ان کی نظر میں اچھا فیصلہ نہیں تھا کیونکہ راولپنڈی میں واقع جی ایچ کیو ایک گنجان آباد علاقے کے درمیان واقع ہے اور سکیورٹی کے مسائل بھی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اس منصوبے کی تکمیل میں کم ازکم پانچ سے دس سال لگ جائیں گے اور اس وقت کچھ رہائشی عمارتیں بن چکی ہیں۔

اس منصوبے پر حکمران جماعت مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی جانب سنہ 2004 میں اس افتتاح کے بعد سے ہی شدید تنقید کی جاتی رہی ہے۔

جی ایچ کیو کے اس نئے منصوبے میں ڈیوٹی پر مامور ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی اس منصوبے پر آٹے میں نمک کے برابر کام ہوا ہے اور جمعرات کو اچانک کہا گیا کہ سینٹ کی کمیٹی کو اس حوالے سے بریفنگ دی جائے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ’وہ پیسہ ابھی تک نہیں آیا جو لینڈ والوں کو دینا ہے۔ جب فنڈ آجائے گا اس کے بعد بھی دس سے 15 سال لگ سکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں