’میں تمہارا فیس بک دوست بننا چاہتا ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شرمین عبید چنائے نے ایک بے چارے ڈاکٹر صاحب کو نوکری سے نکلوا دیا۔ وجہ صرف اتنی سی تھی کہ بے چارے نے ان کی بہن کو دوستی کی درخواست بھیج دی تھی۔ ہائے کلٹا! وہ بے چارہ، چار بچوں کا باپ، جانے ماں باپ نے کن کن امیدوں، آسوں سے پڑھایا ہو گا کہ ہمارا بچہ بڑا ہو کر ڈاکٹر بنے گا، دکھی انسانیت کی خدمت کرے گا۔ پھر کیسی امنگوں سے اس کا بیاہ کیا ہو گا۔ بیوی کے دل میں ڈاکٹر صاحب کا کیا مقام ہو گا اور سب سے بڑھ کر بچے۔ چھوٹے چھوٹے بچے، اف! اری تو نے ان بچوں کا بھی نہ سوچا؟

بے چارہ ڈاکٹر ان کے لیے روزی روٹی کمانے کو گھر سے نکلتا تھا۔ اس غریب کو کیا معلوم تھا کہ ایک روز تیری بہن اس کے پاس علاج کو آ ئے گی۔ چلو آ گئی تھی تو اس کا نام سن کر اگر وہ چونکا تو بی بی ! اس کا کیا قصور؟ زمانے بھر میں تو جھنڈے گاڑے بیٹھی ہو تم۔ کون نہیں جانتا تمہیں؟ کوئی عام سادہ عورت تو ہو نہیں تم کہ وہ چپ کر کے اس کا منہ کھلواتا، حلق کا معائنہ کرتا، بلڈ پریشر لیتا، بیماری پوچھتا، دوا لکھتا اور اگلے مریض کی طرف دیکھتا۔

’شریف‘ کون ہوتا ہے!

کیا فیس بک پر فرینڈ ریکویسٹ بھیجنا ہراساں کرنے کے زمرے میں آتا ہے؟

جب اسے معلوم ہوا ہو گا کہ یہ عورت تو اسی کی بہن ہے، جس نے جلے ہوئے چہروں کے پیچھے موجود لوگوں کو بے نقاب کیا، جس نے غیرت کے نام پہ مار کے پھینکی گئی لڑکی کی کہانی دنیا کو سنائی تو اسے سٹتھو سکوپ میں دھڑکن کی بجائے، جانے کیا کیا سنائی دیا ہو گا۔

اری ! کیا وہ نہ جانتا تھا کہ تم جیسی عورتیں جو عورت کی آزادی کی حامی ہیں، فوراً دوست بن جاتی ہیں اور چونکہ وہ دکھی انسانیت کی خدمت کا عزم لے کر گھر سے نکلا تھا، اس لیے یہ بھی جانتا تھا کہ تم عورتیں بے چاریاں دکھ سے چور رہتی ہو، جس میں سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ 'بہن سچا پیار نہ ملا' ایسے میں ظاہر ہے اس خوبرو ڈاکٹر کا فرض کیا تھا؟ یہ ہی نا کہ تمہاری بہن کو فرینڈ ریکوئسٹ بھیجے۔ یوں بھی، پہل تو مرد ہی کو کرنا ہوتی ہے۔

پٹ گئی تو پٹ گئی، ورنہ پاک دوستی، بہن جیسی ہیں آپ، یا یہ کہ میرے بچے ہیں میں بھٹک گیا تھا کہہ کر جان چھڑائی جا سکتی ہے، اور گر بات پٹ جائے تو دوستوں کے درمیان کہنے کو کیا بڑی بات مل جاتی ہے، میں نے شرمین عبید چنائے کی بہن سے دوستی کر رکھی ہے، یہ دیکھو!

تصویر کے کاپی رائٹ PA

خدا ہی پوچھے تجھ سے، معصوم بچے کی اتنی سی خواہش پہ ایسا بھڑکی؟ بالکل ہی ڈائن بن گئی؟ ذرا نہ سوچا؟ اور اس بے چارے کو جو ایسا بدنام کیا، ابھی کل تیری وہ فوٹو دیکھی، کسی گورے کے ساتھ ایسے چپک کے کھڑی تھی۔ یہ بے چارہ غریب تھا نا، اس لیے اس کی یہ درگت بنائی۔ ماں صدقے! میں تو اس کی بھولی بھولی صورت دیکھ کر ہی سمجھ گئی تھی کہ سب تم عورتوں کی شرارت ہو گی۔

وہ کون سا خود چل کر تمہارے گھر آ گیا تھا؟ خود گئی تھیں نا؟ اور بہن، مرد کی تو ذات ہے ہی ایسی، عورت کو خود ہی احتیاط کرنی چاہیے۔ آ خر کچھ تو بات کی ہو گی، کوئی ایسا اشارہ دیا ہو گا کہ بے چارے نے اتنی ہمت کی؟

میرا تو سوچ سوچ کے کلیجہ منہ کو آ تا ہے، کیسے ارمانوں بھرے دل سے فرینڈ ریکوئسٹ بھیجی ہو گی، کیا کیا خواب نہ دیکھے ہوں گے، ظالم، تو نے سب اپنی ایڑھی کے نیچے مسل ڈالے، کچل ڈالا ان غنچوں کو جو ابھی اس کے دل میں کھلنے بھی نہ پائے تھے۔ تم کس منہ سے خود کو فلم ڈائریکٹر کہتی ہو؟

جی تو چاہتا ہے کہ اور بھی کوسوں، ابھی دل کہاں بھرا، لیکن دماغ میں عجیب عجیب فاسد خیالات یلغار کرتے چلے آ رہے ہیں۔ گال ایک کمینی مسکراہٹ میں سمٹے جا رہے ہیں اور ہنسی ہے کہ کسی فوارے کی طرح چھوٹے جارہی ہے۔ دل میں ایک ہی خیال بار بار آ رہا ہے کہ وہ سینکڑوں لوگ جو کسی محفل میں ملتے ہی، ایک سے دوسرے جملے کے تبادلے پہ ہی، فرینڈ ریکوئسٹ بھیج دیتے تھے، بلکہ باقاعدہ یاد بھی کراتے تھے کہ آپ کو ایک سال سے فرینڈ ریکوئسٹ بھیج رکھی ہے، ایک لمحے کو کیسا گڑ بڑائے ہوں گے؟

زمانے بھر کے نکمے شاعر، ادیب، فالتو اداکار، دور پار کے جاننے والے اور والیاں، سب کے سب ایک بار تو ٹھٹھکے ہوں گے۔ کسی کو دوست بننے کا کہنا جرم ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جی ہاں ایک مسیحا کے لیے حد پار کرنا جرم ہے۔ آ پ سے کس نے کہا کہ آ پ اپنے مریض کے کسی بھی ذاتی دائرے میں گھس سکتے ہیں؟ آپ کو ذرا خوف نہیں کہ آپ کی یہ حرکت آ پ کے لیے کتنی مہلک ثابت ہو سکتی ہے؟ جانتے ہیں آ پ کو یہ حرکت کرنے کی ہمت کس نے دی؟ ہمارے اپنے شوہروں، بھائیوں، بیٹوں، باپوں اور رشتے داروں نے۔ اگر کسی عورت نے کسی مرد سے کوئی تعلق رکھا تو مرد کے کسی بھی حد پار کرنے کی مجرم عورت ہی ہو گی کیونکہ تعلق تو اسی نے بنایا تھا۔

کاش، اس نشتر سے جو اس بار ایک مسیحا پہ ہی آ زمانا پڑا، ہمارے مرد یہ سمجھ جائیں کہ ہر انسان، دوسرے انسان سے، جس حد تک تعلق رکھنا چاہے اسی حد تک رکھنا چاہتا ہے۔ اس حد سے آ گے بڑھنا ہراساں کرنا ہے۔ ہر شخص کی تربیت یہ نہیں ہوتی کہ بازار کی گالی، ہنس کر ٹالی۔ کوئی کوئی ایسی جی دار بھی ہوتی ہیں جو بھرے بازار میں گریبان تھام لیتی ہیں اور وہ جانتی ہیں کہ کوئی ان پر، تیزاب، نہیں پھینکے گا، کوئی ان کی چوٹی کاٹ کر آگ نہیں لگا دے گا، کوئی انھیں گولی مار کے نہر میں نہیں پھینکے گا، صرف یہ کہ وہ ایک صورت حال میں جو ان کے لیے بالکل قابلَ قبول نہیں تھی پھنستی چلی گئیں۔ حذر کرو، ان کے غصے سے، اپنی حدوں میں رہو اور ڈرو کہ ابھی دو چار ہیں کل کو جب ہزار ہوں گئیں تو کہاں جاؤ گے؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں