’مرد، خواتین سے بہتر ہیں‘ کیا بچے سکول میں یہی پڑھتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایک نئی تحقیق کے مطابق پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے سکولوں میں پڑھائی جانے والی درسی کتابوں میں صنفی امتیاز کے شواہد ملے ہیں۔

تدریسی کتب پر کی جانے والی اس تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ نصاب کی کتابوں میں خواتین کے مقابلے میں مردوں کو تقریباً ہر شعبے میں ذہنی و جسمانی لحاظ سے ذیادہ مضبوط دکھایا گیا ہے۔

صنفی مساوات کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’شراکت‘ نے حال ہی میں ’ایکسپریشن آف میسکولینیٹی ِان ٹیکسٹ بُکس‘ کے نام سے ایک تحقیق شائع کی ہے جس میں اسلام آباد کے سکولوں میں پڑھائی جانے والی درسی کتب میں صنفی مساوات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

فیڈرل ڈائرکٹریٹ آف ایجوکیشن کی منظور شدہ درسی کتابوں پر ہونے والی اس تحقیق کے مطابق ان کتابوں میں دکھائی گئی تصاویر میں جہاں مردوں کو جسمانی و ذہنی مشقت والے کام کرتے دکھایا گیا ہے وہیں خواتین کو یا تو گھروں کے اندر مختلف مشاغل میں مصروف دکھایا گیا ہے یا پھر بطور اُستانی، طالب علم یا پھر نرس دکھایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

'نصابی کتب میں تبدیلی کا خیال بھی اختلافات کا موجب'

’یور ہسٹری ورسز آور ہسٹری‘

پاکستان میں جعلی کتب سے نقصان کس کا؟

تحقیق میں پہلی جماعت سے لے کر آٹھویں جماعت تک کی اردو، انگریزی، اسلامیات، تاریخ، معاشرتی علوم، جنرل نالج یعنی معلومات عامہ اور مطالعہ پاکستان کی کتابیں شامل کی گئی ہیں۔

تحقیق کے لیے نہ صرف نصاب میں شامل موضوعات بلکہ ان کے ساتھ شائع ہونے والی تصاویر کا بھی صنفی مساوات کے تناظر میں تقابلی جائزہ لیا گیا۔

چھٹی ساتویں اور آٹھویں جماعت کی تاریخ کی درسی کتب میں جہاں مردوں اور لڑکوں کی 98 تصاویر استعمال کی گئی ہیں وہیں خواتین کی محض چار تصاویر شامل ہیں۔

تحقیق کے مطابق مردوں کو جہاں ہاکی، کرکٹ فٹبال کھیلتے، ڈاکٹر، سائنسدان، انجینیئر، سیاسی رہنما یا پھر کاروباری شخصیت کے روپ میں دکھایا گیا، وہیں خواتین اور لڑکیوں کی تصاویر میں انھیں چند روایتی پیشوں سے منسلک یا پھر چُھپن چُھپائی کھیلتے، رسی کودتے، اور یا روتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیق کی شریک مصنفہ اور شراکت کی ایگزیکٹو ڈائرکٹر فاطمہ بلقیس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ درسی کتب میں اہم سماجی کرداروں میں مخصوص صنف کی کمی سے بچوں میں اپنی شناخت سے متعلق سوال سر اٹھانے لگتے ہیں۔

فاطمہ بلقیس کہتی ہیں کہ ’جب ان تصاویر میں آپ کو اپنا آپ، اپنا عکس نظر نہیں آتا تو ’آپ کو اپنی شناخت بنانے میں مشکل ہوتی ہے کہ، میری جگہ کیا ہے؟۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں کام کرنے والی تنظیم ’الف اعلان‘ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر مشرف زیدی کہتے ہیں کہ ’بچپن اور نوجوانی وہ وقت ہوتا ہے جب ہماری سوچ تشکیل پاتی ہے اور ایسے میں نوعمر ذہنوں کو کیا بتایا اور سکھایا جارہا ہے، بہت اہمیت رکھتا ہے۔‘

مشرف زیدی کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ تعلیمی نظام جو موقع ہمیں فراہم کرتا ہے معاشرے میں بہتری لانے کے لیے، اس موقعے کا ہم بہترین استعمال نہیں کر رہے۔

تحقیق کے مطابق نصاب کی کتابوں میں خواتین کے مقابلے میں اہم مرد شخصیات کو جگہ دی گئی ہے اور جنگی میدان سے لے کر تکنیکی میدان تک، مرد ہی مرد نظرآتے ہیں۔ الف اعلان کے سربراہ کہتے ہیں کہ یہ ایک پیچیدہ اور حساس معاملہ ہے اس لیے اس پہ سنجیدگی کے ساتھ کام ہونا چاہیے۔

مشرف زیدی یہ بھی کہتے ہیں کہ نصاب میں شامل مواد میں صنفی توازن رکھنا ضروری ہے اور روبوٹکس، ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبوں میں جدید ترین سوچ رکھنے والی کئی کمپنیاں ہیں جن کی تشکیل اور تکمیل خواتین نے کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس بہت ساری خواتین شخصیات ایسی ہیں جو بچیوں اور بچوں کے لیے بہترین رول ماڈلز ہیں۔

تحقیق میں سامنے آنے والے نتائج کی روشی میں محققین کہتے ہیں کہ بچوں پر درسی کتب کے ہونے والے اثرات کا مسلسل جائزہ لینا بہت ضروری ہے تاکہ وقتاً فوقتاً صنفی تناظر میں کتابوں کے متن کی تدوین ہوتی رہے۔

اسی بارے میں