واپس کیے گئےامریکی ہیلی کاپٹر انسداد دہشت گردی کے لیے نہایت اہم تھے: وزیر داخلہ

huey II تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 'امریکی حکام کے مطابق یہ ہیلی کاپٹر کسی اور جگہ کے لیے مختص کر دیے گئے ہیں'

پاکستان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو واپس دیے گئے نو ہووے ٹو ہیلی کاپٹرز انسداد دہشت گردی آپریشنز کا انتہائی اہم حصہ تھے تاہم امریکہ نے پاکستان کو ہیلی کاپٹرز دینے سے معذرت کر لی ہے۔

خیال رہے کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں سنہ 2002 میں امریکہ نے پاکستان کو یہ ہیلی کاپٹر لیز پر دیے تھے۔ جس کا مقصد پاک افغان سرحد پر منشیات کی سمگلنگ کو روکنا تھا جو انسداد دہشت گردی میں بھی معاون تھے۔

وزیر داخلہ احسن اقبال نے بی بی سی سے گفتگو میں ان ہیلی کاپٹروں کے متعلق بتایا کہ سابق وزیر داخلہ نے امریکہ کی جانب سے دیے جانے والے ان ہیلی کاپٹروں کو خریدنے سے انکار کر دیا تھا۔ جس کی وجہ ان کی مرمت پر زیادہ لاگت بتائی گئی تھی۔

احسن اقبال کا، جنھوں نے رواں برس اگست میں بطور وزیر داخلہ ذمہ داریاں سنبھالی تھیں، کہنا ہے کہ انھوں نے کوشش کی کہ وہ ان ہیلی کاپٹروں کو دوبارہ حاصل کر لیں تاہم امریکہ نے معذرت کر دی ہے۔

Image caption سابق وزیر داخلہ نے امریکہ کی جانب سے دیے جانے والے ان ہیلی کاپٹروں کو خریدنے سے انکار کر دیا تھا: احسن اقبال

وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ 'امریکی حکام کے مطابق یہ ہیلی کاپٹر کسی اور جگہ کے لیے مختص کر دیے گئے ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

امریکہ کو پاکستانی حکومت کے مستقبل پر تشویش ہے: ٹلرسن

پاکستان میں دس ماہ بعد امریکی ڈرون حملہ

انھوں نے کہا کہ ان ہیلی کاپٹروں کو واپس لینے کی کوشش اس لیے کی گئی کیونکہ 'یہ ہیلی کاپٹر سول آرمڈ فورسز کی جانب سے ملنے والی فیڈ بیک کی بنیاد پر کیے جانے والے انسداد دہشت گردی کے آپریشن کا بہت اہم حصہ تھے۔'

پاکستانی میڈیا کے مطابق وزارت داخلہ کے پاس اب کوئی ہیلی کاپٹر موجود نہیں۔

احسن اقبال نے اس حوالے سے کیے جانے والے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہیلی کاپٹرز کی اصل تعداد کے بارے میں لاعلم ہیں تاہم ان کے متبادل حاصل کیے جانے کے لیے مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔

'ہم دیگر سکیورٹی اداروں کی مدد لیں گے جو کہ وسائل پر بوجھ ہوگا مگر ہم ان کے متبادل کے لیے دیگر آپشنز پر بھی غور کر رہے ہیں۔'

خیال رہے کہ گذشتہ عرصے کے دوران پاکستان اور امریکہ کے درمیان ٹرمپ انتظامیہ کے آنے کے بعد اور افغانستان کی خراب سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے تعلقات میں کشیدگی بڑھی ہے۔

ایف سولہ طیاروں کا معاہدہ بھی مکمل نہیں ہو سکا گذشتہ برس مئی میں امریکی کانگریس کی جانب سے آٹھ ایف 16 طیاروں کے لیے جزوی مالی امداد روکنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اس پابندی کے نتیجے میں پاکستان کو آٹھ ایف 16 طیارے خریدنے کے لیے 70 کروڑ ڈالر کی ساری رقم خود ادا کرنا ہوگی۔

اسی بارے میں